امت نیوز ڈیسک //
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی ) کی صدر محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز الزام لگایا کہ جموں و کشمیر میں پراپرٹی ٹیکس کا نفاذ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لوگوں کو غریب کرنے کے بی جے پی کے ایجنڈے کاحصہ ہے۔
محبوبہ نے پارٹی دفتر جموں میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”اصل مقصد جموں و کشمیر کے لوگوں کو اتنا غریب بنانا ہے کہ وہ کسی چیز کا مطالبہ نہ کریں۔ باقی ملک کو دیکھ لیں ، 80 کروڑ لوگوں کو مفت راشن مل رہا ہے۔ وہ نوکری یاست ایندھن نہیں مانتے۔ وہ صرف پانچ کلوانان کا انتظار کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کو کھلا سکیں۔ وہ جموں و کشمیر کو بھی اسی سطح پربنانا چاہتے ہیں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو صرف پر امن طریقے سے ٹیکس ادا کرنےسے انکار کرنا ہو گا۔ بتادیں کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے منگل کو مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ کا نو ٹیکسیشن جاری کیا جو اگلے مالی سال سے نافذ العمل ہوگا۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ جموں و کشمیر کی معیشت اور ترقی کے اعداد و شمار ملک کی کچھ ریاستوں سے بہتر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ دوسری ریاستوں کو جموں و کشمیر کے برابر نہیں لا سکے ، اب وہ ہمیں دوسری ریاستوں کے برابر لانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔سابق وزیر اعلی نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کے لیے ایک تباہی ثابت
ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ہر روز نئے آرڈر آتے ہیں، خواہ وہ نوکریوں سے متعلق ہو، مسمار کرنے کی مہم یا اب پراپرٹی ٹیکس سے متعلق۔ جموں کے رگھوناتھ بازار کے دکاندار جب کوئی کاروبار نہیں تو ٹیکس کیسے ادا کریں گے ؟ سری نگر اور کشمیر کے دیگر قصبوں میں ایک گھر میں تین سے چار خاندان رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں اور آپ پراپرٹی ٹیکس مانگ رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں محبوبہ نے کہا کہ اگر عوام ان پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ان بار بار کے احکامات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مزاحمت کرنا ہو گی۔
محبوبہ نے کہا، آپ کو اپنے وجود کے بچاؤ کے لیے مزاحمت کرنی ہو گی۔ جب تک آپ مزاحمت نہیں کرتے ، وہ آپ کو کچلتے رہیں گے۔ لوگوں کو صرف پر امن طریقے سے ٹیکس ادا کر نے سے انکار کرنا ہو گا۔ ہم ادا نہیں کریں گے ۔










