امت نیوز ڈیسک //
جموں کشمیر میں 80 فیصدی لوگوں پر کوئی پراپرٹی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا کا اعلان کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ دیگر جولوگ پراپرٹی ٹیکس ادا کریں گے وہ درحقیقت میں شملہ اور دہرادون میں وصول کیے جانے والے ٹیکس کا دس حصہ کم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتیں لوگوں کو اس کے خلاف اکسا رہی ہیں اور وہ نہیں چاہتے ہیں کہ جموں کشمیر میں ترقی ہو ۔
جموں میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 2.0.3,680 ایسے ہیں جن کے گھر 1500 مربع فٹ سے کم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چالیس فیصد لوگوں کو ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ 2,0,3680 گھرانوں میں سے 80 فیصد کو صرف 600 روپے کی معمولی رقم ادا کرنا ہوگی جبکہ باقی کو 1000 روپے سالانہ پراپرٹی ٹیکس کے طور پر معمولی رقم ادا کرنا ہوگی۔ یہ رقم شملہ، امبالا اور دہرادون کی طرف سے ادا کی جانے والی ٹیکس کی رقم کا دسواں حصہ ہے“۔ انہوںنے مزید کہا کہ سالانہ طے شدہ ٹیکس کی رقم شملہ، امبالہ اور دہرادون کے ذریعہ ادا کئے جانے والے ٹیکس کا دسواں حصہ ہے۔
دکانوں سمیت کمرشل کے بارے میں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 1,01000 دکانیں ہیں جن میں سے 42 فیصد دکانیں 100 مربع فٹ سے کم ہیں۔ ان دکانوں کو سالانہ 700 روپے سے کم ادا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جمع ہونے والی رقم براہ راست میونسپل کارپوریشن کے کھاتوں میں جائے گی اور اسے علاقوں کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ جہاں سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
لیفٹنٹ گورنر منو ج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور ایک بہتر جموں و کشمیر کی تعمیر میں مدد کریں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں عوام کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں تاہم لوگ ان کی باتوں میں نہ آئیں ۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ جب جموں کشمیر میں سرکاری اراضی کے خلاف مہم چلائی گئی تو ان لوگوں نے کہا کہ غریبوں کو ہٹایا جائے گا تو کوئی باتیں کسی بھی غریب کو ہٹایا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مجھے بتائیں کہ ایک غریب کو ہٹایا گیا تو میں کل ہی اس افسر کو برخواست کر وں گا جس نے کاروائی کی ہو ۔










