امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے منگل کے روز حکومت پر تنقید کرتے ہوئے صحافی عرفان معراج کی حمایت کا اظہار کیا۔ بتادیں کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی نے عسکریت پسندی کے لیے فنڈنگ کے ایک مبینہ معاملے کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت عرفان مہراج کو سرینگر میں گرفتار کر لیا ہے۔ محبوبہ نے سماجی رابطہ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ "جب کہ کشمیر میں ایک ٹھگ (کرن بھائی پٹیل) کو آزادانہ طور پر اپنا کام کرنے دیا جاتا ہے،وہیں عرفان مہراج جیسے صحافیوں کو سچ بول کر اپنا فرض ادا کرنے پر گرفتار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے ٹیوٹ میں مزید لکھا کہ ‘یو اے پی اے جیسے قوانین کا مسلسل غلط استعمال کیا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ یہ عمل خود ہی سزا بن جائے’۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پٹیل کو حال ہی میں پولیس نے سرینگر میں گرفتار کیا تھا، پٹیل خود کو وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں ایڈیشنل ڈائریکٹر برائے حکمت عملی اور مہمات کے طور تعینات ہونے کا جھوٹا دعوه کر رہا تھا۔ وہ زیڈ پلس سکیورٹی تحفظ حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھا۔ انہوں نے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سینئر افسران سے بھی بات کی اور کشمیر کے حساس مقامات جیسے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کا بھی دورہ کیا تھا۔وہیں عرفان فی الحال TwoCircles.net میں ایڈیٹر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس نے "واندے میگزین” کی بنیاد رکھی اور اس کے بانی ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ اس کے علاوہ، انہیں غیر ملکی میڈیا آؤٹ لیٹس بشمول ٹی آر ٹی، ڈوئچے ویلے، اور الجزیرہ کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے۔ اس کے علاوہ عرفان نے علاقائی رسالوں میں بھی کام کیا ہے۔ انہوں نے روزنامہ رائزنگ کشمیر اور برائٹر کشمیر کے سب ایڈیٹر کے طور پر کام کیا۔ وہ جموں اور کشمیر کولیشن آف سوک سوسائٹیز میں بھی کام کر چکےہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عرفان سے گزشتہ دو برسوں کے دوران این آئی اے نے متعدد بار پوچھ گچھ کی ہے۔ 2020 میں اس کے الیکٹرانک آلات ضبط کر لیے گئے تھے۔ این آئی اے کے مطابق عرفان، خرم پرویز کا قریبی ساتھی تھا اور وہ اس کی آگنائزیشن جموں وکشمیر کولیشن آف سیول سوسائٹی (جے کے سی سی ایس) کے ساتھ وابستہ تھا۔اس کے علاوہ، این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ ” جے کے سی سی ایس وادی میں عسکریت سرگرمیوں کی فنڈنگ کر رہا تھا اور انسانی حقوق کے تحفظ کی آڑ میں وادی میں علیحدگی پسند ایجنڈے کے پرچار میں بھی تھا۔”







