دعا ہمارا وہ ہتھیار ہے جس کا وار کبھی خالی نہیں ہوتا۔ ہم ایک دینی جماعت ہیں کوئی سیاسی جماعت نہیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ ہم سیاست کرنا بھی جانتے ہیں۔ میں واشگاف الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ ؎
ہم امن کے شیدائی ہیں یہ ٹھیک ہے لیکن
گر وقت پڑا جنگ کا تو جنگ بھی کریں گےـ
یہ الفاظ جمعیۃ اہل حدیث جموں وکشمیر کے سابق صدر مرحوم غلام رسول ملک کے ہیں جن کا اظہاروہ جمعیۃ اہل حدیث جموںو کشمیر کی جانب سے منعقدہ احتجاجی جلسے جلوسوں کے دوران بارہا کیا کرتے تھے۔بادی النظر میں ایک عام، سادہ لوح انسان دکھائی دینے والے مولانا غلام رسول ملک آکھرنی کی دھواں دھار اور پرمغز تقاریر انسان کو ورطہء حیرت میں ڈالنے کےلئے کافی تھیں۔
بلندقد، گھنی داڑھی،سر پر ہمیشہ قراقلی ٹوپی سجائے،لبوں پر مسکراہٹ لئے ،ظاہری وضع قطع سے ایک دیہاتی نظر آنے والے اس وضع دار ،باتمیز، بااخلاق،جہاندیدہ اور زیرک اور ذبردست منتظم سے ملنے اور باتیں کرنے کے بعد انسان یقیناً ان کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔ جمعیۃ اہل حدیث جموں کشمیر کے سابق مقتول صدر مولانا شوکت احمد شاہ کے دور صدارت میں کئی برس تک نائب صدررہنے اور بعد ازاں شوکت صاحب کے قتل کے بعد ایک تاریخی موڑ پر انہوں نےجمعیۃ کی صدارت کا منصب سنبھالا ۔
1953 عیسوی کو برنل لامڑ تحصیل دیوسر ضلع کولگام کے گائوں میں خضر محمد ملک کے گھر پیدا ہونے والے غلام رسول ملک بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ اس لئے انہیں زیادہ لاڈ پیار سے پالا پوسا گیا۔انہیں روایتی تعلیم دلوانے کی غرض سے جہاں ایک مقامی اسکول میں داخل کرایا گیا وہیں پر حکیم سیف الدین شاہ نامی ایک معالج و عالم دین سے قرآن حکیم وغیرہ کی تعلیم دلانے کا بندوبست بھی کیا گیا۔ والد انہیں اور ان کے دوسرے بہن بھایئوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے از حد متمنی تھے لیکن شومئی تقدیر کہ ابھی دوسری جماعت میں ہی تھے کہ والد صاحب اس دنیا سے چل بسے۔مرحوم مولانا ملک اپنے خاندان کے ایک بزرگ حاجی میر ثناء اللہ جو اس وقت کے ایک اچھے عالم دین تھے اور عربی زبان کے ساتھ ساتھ فارسی اور اردو زبانوں کے بھی ماہر مانے جاتے تھے ‘کے بڑے گرویدہ تھے اور غالباً ان ہی کے زیر شفقت رہ کر ان میں دینی تعلیمات حاصل کرنے کا شوق و ذوق بڑھتا گیا جس نے بالآخر انہیں توحید و سنت کی آبیاری کےلئے زندگی وقف کرنے کا حوصلہ دیا۔ خود لکھتے ہیں کہ والدہ اگرچہ خود ان پڑھ تھیں لیکن بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی مشتاق تھیں۔ ابتدائی تعلیم کا سلسلہ گورنمنٹ ایکٹیوٹی بیسک اسکول (اے بی اسکول)سے حاصل کرنے کے بعد انہیں گورنمنٹ ہائی اسکول چوگام میں داخلہ ملا جہاں سے1969 عیسوی میں انہوں نے اچھے نمبرات سے میٹرک کا امتحان پاس کرلیا۔ ان کی والدہ اور سوتیلے والد جن کی شفقت و محبت کا ذکر خود مرحوم نے کیا ہے کی خواہش تھی کہ انہیں آگے کی تعلیم دلانے کےلئے کھنہ بل اننت ناگ ڈگری کالج میں داخل کیا جائے لیکن غربت اور ذرائع آمد و رفت کی تنگی سے ایسا ممکن نہ ہوا۔ کچھ نزدیکی رشتہ داروں کی ایماء اور اس وعدے پر کہ مرحوم کی تعلیم کے سلسلے کو آگے جاری رکھا جائے گا ،والدہ نےان کی شادی آکھرن کے ایک استاد کی بیٹی کے ساتھ کردی اور یوں وہ گھر داماد بن کر آکھرن چلے آئے۔ یہاں تعلیم کے سلسلے کو آگے بڑھانے کا وعدہ وفا نہ ہوا بلکہ گھر بار کی ذمہ داریاں اٹھانے کےلئے انہیں ایک مڈیکل اسٹور اور رائس مل کا رخانہ چلانےکا کام دردست لینا پڑا۔ حالات کی تنگی نے اگرچہ مرحوم کو مروجہ دنیاوی تعلیم کو آگے بڑھانے سے روک لیا تھا لیکن دینی علوم کو حاصل کرنے اور ان میں امتیاز پانے کی ان کی جستجو کو یہ نہیں روک پائے۔ قرآن مجید کی تفسیر و تراجم کے ساتھ ساتھ احادیث اور سیرت کا مطالعہ کرتے رہے ۔ ان کی بستی میں جمعیۃ اہل حدیث کولگام کے ایک گشتی مبلغ مولانا صدر الدین آیا کرتے تھے اور ان کے گھر کے ساتھ ہی واقع مسجد میں واعظ و تبلیغ کرتے رہتے تھے۔ ان کے مواعظات سے استفادہ کرتے ہوئے مرحوم توحید و سنت سے آگاہ ہوگئے ۔دین متین کی خدمت ،توحید و سنت کی آبیاری کے جذبے نے انہیں مطالعے کا رسیا بنادیا۔ رات رات بھر کتب بینی کرتے رہتے ۔ تفسیر ابن کثیر، تفسیر ثنائی،بیان القرآن، دعوۃ القرآن، ،سیرت رحمۃ للعالمینﷺ،خطبات محمدی، اسلامی خطبات کے علاوہ احادیث رسولﷺ پر مبنی شہرہ آفاق کتب صحیح البخاری، صحیح المسلم،جامع ترمذی، مشکوٰۃ المصابیح کا مطالعہ کیا ۔ مطالعے اور حصول علم دین کی اس کوشش کے ساتھ ساتھ انہوں نے عملاً دعوت توحید و سنت شروع کی تو پہلی مخالفت اپنے گھر ہی ہوئی۔ ان کے ایک بیٹے کے بقول دعوت دین سے روکنے کےلئے ان پر زیادہ سے زیادہ کام ڈال دئے جاتے تھے تاکہ ان کے پاس وقت ہی نہ رہے لیکن مرحوم صبح صادق سے پہلے ہی کام شروع کردیتے یا رات دیر گئے تک کام کو نمٹاتے رہتے لیکن دعوت ِ توحید و سنت سے پہلو تہی گوارا نہیں کرتے تھے۔ اس دوران مرحوم سلفیہ اسکول یاری پورہ میں بحیثیت استاد تعینات ہوئے اور کئی سال تک وہاں پڑھاتے رہے۔ غالباً بیس سال کی عمر میں مرحوم خطابت کے میدان میںآئے اور کچھ برس تک اپنی ہی بستی کی مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے رہے۔ انہیں جمعیۃ اہل حدیث کے تنظیمی امور میں بھی شامل کیا گیااور اپنی بے پناہ صلاحیتیوں کی بناء پر جلد ہی وہ تحصیل سیکریٹری کولگام مقرر ہوئے۔ مرحوم کی تقریر جہاں پرجوش وہیں پر پر مغز بھی ہوا کرتی تھی اسی لئے جلد ہی وہ جمعیۃ کے چنندہ خطباء میں شمار کئے جانے لگے اور عوام الناس میں مقبولیت پاگئے۔یہی وجہ تھی کہ انہیں جلد ہی مرکزی سطح پر قائم مسجد جامع اہل حدیث ہرناگ اسلام آباد (اننت ناگ) میں بحیثیت خطیب مقرر کرلیا گیا جہاں مرحوم 1988سے لیکر2007تک خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ جب کولگام کو ضلع کا درجہ ملا تو مرحوم اس کے پہلے ضلع صدر منتخب ہوئے۔ مرحوم نے اس منصب پر آکر دین متین ،جمعیۃ اہل حدیث اور توحید س سنت کی جو خدمات انجام دیں اور عیاں و بیاں ہیں۔
مولانا شوکت احمد شاہ کی صدارت کے ایام میں مرحوم ملک صاحب کو نائب صدر کی حیثیت سے جمعیۃ اہلحدیث میں کام کرنے کا موقع میسر ہوا تو انہوں نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں سے سب کو اپنا گرویدہ بنالیا۔بہرحال مرحوم کو شوکت صاحب کی وفات کے بعد جمعیۃ اہل حدیث کا صدر مقرر کرلیا گیا ۔ منصب صدارت پر براجمان ہوئے تو ان کے سامنے پہلا چیلنج مقتول صدر کے قاتلوں کو گرفتار کروانا اور انہیں قرار واقعی سزا دلوانا تھا۔ اس مقصد کےلئے قائم کی گئی کل جماعتی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ بھی تھے اور یوں اس ضمن میں بارہا ہونے والے احتجاجی جلسے جلسوں کی قیادت بھی انہی کے ہاتھ رہتی تھی۔ اپنی صدارت کے ڈھائی برس میں انہوں نے نہ صرف جمعیۃ اہل حدیث کو متحد کیا بلکہ مولانا شوکت کے لگائے ہوئے سبھی منصوبوں کو عملاً آگے بڑھانے کی جستجو بھی جاری رکھی۔ ٹرانسورلڈ مسلم یونی ورسٹی کے قیام سے لیکر مساجد، اسکولوں اور مڈیکل سینٹروں کے قیام کےلئے ان کی کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اتحاد ملت اور مسالک کے درمیان اتفاق و اتحاد کو فروغ دینے کے سلسلہ کو نہ صرف آگے بڑھانے کےلئے سرگرم رہے بلکہ عملی طور پر بھی اتحاد بین المسلمین کی علامت بنے رہے۔
مرحوم کو علم اور حصول علم کے ساتھ گہرا لگائو تھا۔ خود ان کا خاندانی پس منظر بھی ایک بڑے ذی وقار علمی گھرانے کے ساتھ وابستگی کا رہا تھا ۔ اسی لئے مالی آسودگی نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے ساتوں بیٹوں کو اعلیٰ ترین تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم سے آراستہ کیا ہوا ہے۔ مرحوم زندگی کے آخری ایام میں کافی بیمار تھے۔ ان کے گردوں کا مسئلہ تھا اور چلنے پھرنے میں بھی کافی نقاہت محسوس ہوتی تھی۔
بہرحال ہر ذی نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہی ہے۔ مرحوم ملک صاحب 17اور18 مارچ 2023 ء کی درمیانی شب اس جہاں فانی سے کوچ کرگئے۔ ان کی وفات پر جہاں جمعیۃ اہل حدیث جموں وکشمیر نے تعزیت و دکھ کا اظہار کیا وہیں پرجموں وکشمیر کی جملہ دینی جماعتوں نے بھی ان کی وفات کو ایک بڑا نقصان قرار دیا۔ ان کی نماز جنازہ میں بھی ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور اشک بار آنکھوں کے ساتھ انہیں آکھرن کولگام میں ہی سپرد خاک کردیا گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔










