میں نے ظہر کی نماز سے پہلے متحدہ مجلس علماء کی کاروائی کا ایک بڑا حصہ لائیو دیکھا تھا ، اور اس مجلس میں رویت ہلال کے حوالے سے بہت سے علماء کے بیانات سننے کو ملے ، جن میں ایک شیعہ عالم ( نام یاد نہیں) اور مولوی غلام رسول ہامی کے مختصر بیانات مجھے قدرے اچھے لگے ۔
لیکن سب سے اچھی ، جاندار اور فکر انگیز تقریر صرف مولانا رحمت اللہ قاسمی کی تھی ، میں ذاتی طور پر ان کی تقریر سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہوں ، چنانچہ انہوں نے بہت ہی کم وقت کے باوجود رویت ہلال کے تعلق سے نہ صرف سیر حاصل گفتگو کی بلکہ ان کی تقریر میں ایک بڑی ذمہ داری کا احساس بھی چھلک رہا تھا ، کیونکہ انہوں نے کہا کہ غلط فیصلوں کی وجہ سے لوگوں کی نمازیں ، اور ان کے روزے ہماری گردنوں پر سوار ہوں گے ، اس لئے اس رویت ہلال کے نازک مسئلہ کو لیکر ہمیں اپنی مذہبی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے فیصلہ کرنا ہوگا ، تاکہ کسی عوام الناس کنفیوژن کا شکار نہ ہوں ۔
مولانا رحمت اللہ قاسمی نے اپنی اس اہم تقریر میں جغرافیائی اور فلکیاتی طور پر بھی کئی اہم چیزوں کے بارے میں انکشافات کئے ہیں ، سنگاپور اور دوسرے ممالک کے حوالے سے بہت سی ایسی باتیں اور ایک عربی قرار داد وغیرہ کے بارے میں بتایا ہے ، اور عربی قرارداد کا من و عن متن بھی پڑھا ہے ، تو ان سب واقعات کا اس سے پہلے مجھے کوئی علم نہیں تھا ۔حقیقت یہ ہے کہ اس مجلس کا خلاصہ انہی کی ولولہ انگیز اور گراں قدر تقریر تھی ، جو لائق سماعت بھی تھی اور قابل غور بھی تھی ۔
مجلس کے اختتام پر مفتی ناصر الاسلام نے ایک متفقہ قرارداد پیش کی ، جس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اگلے ماہ 17 اپریل 2023ء کو شب قدر ہوگی ، اور اس طرح یہ قرارداد متحدہ مجلس علماء کی طرف سے رجوع کرنے کی قرارداد تھی کہ اس سال رمضان کا آغاز جمعرات کے روزہ سے ہوا ، نہ کہ جمعہ کے روزہ سے ۔
اس مجلس میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ پوری وادی کشمیر میں عشرہ آخر کو لیکر طاق شبوں کے حوالے سے سخت خلفشار اور انتشار پایا جا رہا ہے ، اس لئے اس مسئلہ پر غور و خوض اور جغرافیائی طور پر لاہور کی ہلال کمیٹی کے فیصلہ کو ہی صحیح مان کر 27 رمضان کی شب قدر 17 اپریل کے حساب سے اعلان کیا گیا ہے ۔
میرے نزدیک یہ فیصلہ درست ہے ، اور کسی بھی شرعی مسئلہ میں رجوع کرنے سے کسی عالم یا مفتی کی عزت و توقیر یا اس کی علمی شان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ، بلکہ اس سے عوام میں اس کی عزت و توقیر اور اضافہ ہو جاتا ہے ، اور لوگوں کو بھی اس فیصلہ کے منظر عام پر آنے کے بعد کسی بھی ناشائستہ زبان یا کسی نامناسب حرکت سے اجتناب کرنا چاہئے ، کیونکہ تاریخ اسلام میں چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کے بعد فیصلے بدلنے کی بیشمار مثالیں موجود ہیں ، اور اس بار کشمیر میں چاند کو لیکر جو مسئلہ پیدا ہوا تھا ، وہ کوئی انوکھا واقعہ نہ تھا ، تاریخ میں اس طرح کی چیزیں ہوتی رہتی ہیں ، اور ان چیزوں سے سبق حاصل کرکے آئیندہ کا متفقہ لائحہ عمل وضع کرنے کی ضرورت ہے ۔ و ما علینا الا البلاغ










