(ٹنگمرگ) ضلع بارہمولہ کے گورنمنٹ مڈل اسکول اولارا کنزر کے طلباء اسکول میں بنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے بری طرح سے مشکلات کا شکار ہیں۔
نیوز ایجنسی سی این ایس کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، گورنمنٹ مڈل سکول اولارہ کنزر میں کلاس رومز اور سکول کی عمارت کی قابل رحم حالت اس کی ٹوٹی ہوئی اور خستہ حال دیواروں سے ظاہر ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ضلع انتظامیہ بارہمولہ اور ڈائریکٹر ایجوکیشن نے مذکورہ اسکول کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔
کلاس رومز میں بیٹھنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہے اور 11 کلاسوں کے لیے صرف تین کلاس رومز ہیں جو کہ طلباء کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔
یہ اسکول ضلع بارہمولہ کے کنزر قصبے کے مضافات میں واقع ہے جس میں روڈ ٹریفک حادثے کا خطرہ زیادہ ہے۔ طلباء کا کہنا تھا کہ انہیں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ اسکول میں اساتذہ اور طلباء کے لیے صرف ایک بیت الخلا ہے۔ ایک طالب علم نے کہا، "کلاسز کے دوران، جب بھی ہمیں واش روم جانے کی ضرورت ہوتی ہے تو ہمیں کچھ دیر کے لیے باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔” طلباء نے مذید کہا کہ کلاس رومز اور بیت الخلاء کے علاوہ، اسکول میں باڑ لگانے، بجلی اور پینے کے صاف پانی کا فقدان ہے۔ خستہ حال کمرے کی دیواریں ہماری اور ہمارے اساتذہ کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت گر سکتے ہیں۔ ” طلباء کے والدین کا کہنا ہے کہ ان دیواروں کی مرمت کے لیے اب تک کوئی کوشش نہیں کی گئی، نہ ہی نئی عمارت بنائی گئی حالانکہ زمین اور پیسہ دونوں حکومت کے پاس موجود ہیں لیکن نہ جانے کیوں محکمہ تعلیم تماشائی بن کر ہمارے وارڈز کے کیرئیر سے کھیل رہا ہے۔
جب چیف ایجوکیشن آفیسر بارہمولہ سے رابطہ کیا گیا تو بلبیر سنگھ نے یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو ضرور دیکھیں گے۔










