• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, جنوری ۲۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
امانت داری: ایک اعلٰی وصف

امانت داری: ایک اعلٰی وصف

عابد حسین راتھر

by امت ڈیسک
28/04/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

امانت داری ایک ایسا خاص اور اہم وصف ہے جس کی اہمیت اور افادیت کے عوض قران و احادیث میں بار بار اور زور و شور کے ساتھ اس کی تلقین کی گئی ہے۔ چاہے سیاسی پہلو ہو یا معاشی، سماجی تعلقات کا مسئلہ ہو یا گھریلو تعلقات کا، امانت داری کا تعلق زندگی کے ہر ایک شعبہ کے ساتھ منسلک ہے۔ عام طور پر امانت داری کا مطلب ایمانداری، بھروسہ اور اعتماد کے معنی میں لیا جاتا ہے لیکن جدید سیاسی و سماجی علوم میں امانت داری کو سماجی ہم آہنگی، سیاسی استحکام اور امن و آشتی کیلئے بنیادی شرط اور اہم ضرورت مانا جاتا ہے۔

جدید فلسفی، طبیعیات دان اور سیاسی علوم کے ماہر جان لاک کا کہنا ہے کہ کامیاب سیاست اور پرامن معاشرے کیلئے امانت داری/اعتماد ایک اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں جدید اور مغربی دنیا کے بیشتر سیاسی اور سماجی نظریات امانت داری کے تصور پر مبنی ہے۔ لیکن یہاں پر ایک بات واضع کرنی بہت ضروری ہے کہ امانت داری کے جدید سماجی تصور اور اسلامی تصور کے بنیادی فلسفہ اور تحریک میں نمایاں فرق ہے جن کے اثرات عملی طور پر ان تحریکات میں صاف نظر آتے ہیں۔
ماہر سماجیات وسیاسیات کے نزدیک اگرچہ جدید مغربی دنیا میں سب سے زیادہ زور امانت داری اور اعتماد پر دیا جاتا ہے مگر اس کے باوجود مغربی دنیا میں یہ وصف آئے روز گھٹتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف مسلم دنیا میں بھی قرآن و حدیث کی غیر معمولی تلقین کے باوجود بھی امانت داری کے وصف پر سیاسی و سماجی سطحوں پر عملی طور پر کچھ خاص توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اگرچہ ایک طرف امانت داری کا مطلب انفرادی سطح پر ایک دوسرے کا بھروسہ قائم رکھنا ہے وہی دوسری طرف اجتماعی طور پر کسی تنظیم یا حکومت کے منتظمین اور نگران پر اعتماد اور بھروسہ ہونا بھی امانت داری کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امانت داری تجارت کی بھی ایک اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔ کسی بھی سماج یا کسی بھی حکومت، ادارے یا تنطیم کی ترقی کا دار ومدار اس سے وابستہ افراد کی امانت داری پر منحصر ہوتا ہے۔
امانت داری اور فرمان الٰہی

امانت داری کا لفظ عربی زبان کے’’امان‘‘ لفظ سے ماخوذ ہے۔ لغت میں امان کا مطلب اعتبار، ایمانداری، امن اور تحفظ ہے۔ لہذا مختصر طور پر امانت داری کا مطلب ہے ضروری کام کو ایمانداری کے ساتھ انجام دینا، اپنی ذمہ داریاں موثر طریقے سے نبھانا اور مختلف اقسام کے خوف و ہراس کو ختم کرنا ہے۔ امانت داری کے اس تعریف کو مدنظر رکھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہر قسم کے خاندانی، دینی، سماجی، سیاسی اور معاشی فرائض اور ذمہ داریوں کو بہتر اسلوب اور ایمانداری کے ساتھ انجام دینا امانت داری ہے۔ قران میں بار بار امانت داری کا ذکر آیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:’’تو جو امین بنایا گیا اس کو چاہئے کہ اپنی امانت ادا کرے اورچاہے کہ اپنے اللّٰہ سے ڈرے۔“ (بقرہ: 283)

ایک اور جگہ اللّٰہ تعالی فرماتے ہے:’’اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مستحقین کو پہنچا دیا کرو اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل و انصاف سے فیصلہ کرو۔‘‘ (النساء:58)

اسی طرح سورۃ الانفال کی ستائیسویں آیت میں اللہ کا ارشاد ہے:’’اے ایمان والو تم اللہ اور رسول(کے حقوق) میں جانتے ہوئے خیانت مت کرو اور اپنی قابلِ حفاظت چیزوں میں خیانت مت کرو۔

سورۃ المائدہ کی پہلی ہی آیت میں اللہ تعالیٰ ایمان والو کو عہد وپیمان پورے کرنے کا حکم دیتا ہے۔

اسی طرح اور کئی جگہوں پر قرآن مجید میں امانت داری کی تلقین کی گئی ہے اور جب ہم ان تمام آیات کا جائزہ کرتے ہے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ قرآن مجید میں امانت داری اور اعتماد کے رویہ کا مظاہرہ کرنے کا حکم دو سطحوں پر آیا ہے۔ ایک اللہ اور اس کے بندے کے درمیان اور دوسرا اللہ کے بندوں کا آپسی معاملات میں۔ لہذا ہر فرد پر یہ واجب ہے کہ وہ اللہ کے تئیں اور دوسرے بندوں کے ساتھ امانت داری، ایمانداری اور اعتماد کا مظاہرہ کرے اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ تمام انسانوں کے آپسی معاملات تبھی خوشگوار اور تسلی بخش ہو سکتے ہیں جب وہ آپس میں امانت دار اور قابل اعتماد رہیں گے۔ ہمیں ہمیشہ یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ اگر کوئی ذات یا کوئی شخص ہمارے پاس کوئی چیز یا کوئی راز کی بات بطور امانت رکھتا ہے تو وہ اس چیز یا راز کے ساتھ ہمارے پاس اپنا اعتبار اور بھروسہ بھی رکھتا ہے جس کی حفاظت کرنا ہمارا دینی اور اخلاقی فرض ہے۔ اس تناظر میں ہماری جان، ہماری عقل اور علم و فہم ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے لہذا ان سب کو اچھے کاموں اور اللہ کی رضا کیلئے استعمال کرنا ہم پر فرض ہے اور ان چیزوں کو غلط اور بے سود کاموں میں صرف کرنا امانت میں خیانت ہوگی۔

امان داری اور سنت نبویؐ

رسول اللّٰہ ﷺ کی سنت سے ہمیں یہ بات بالکل واضع ہوتی ہے کہ آپﷺ نے امانت داری کی بہت تاکید کی ہے اور امانت میں خیانت کی ممانعت فرمائی ہے۔ رسول اکرمﷺ نے امانت داری کو ایمان کی علامت اور پہچان قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس شخص میں معاہدہ کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں۔ (سنن بیھقی-12690) آپﷺ نے امانت داری کو ایک فرد اور سماج دونوں کیلئے کامیابی کی ضمانت قرار دیا ہے۔ ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اللّٰہ کی طرف سے نبوت عطا کرنے سے پہلے بھی آپﷺ کو لوگ امین ( امانت دار، قابل اعتماد) اور صادق کہہ کر پکارتے تھے۔ حدیث کی کتابوں میں آیا ہے کہ آپﷺ نے امانت داری کو ایک سچے مومن کی علامت بتاکر فرمایا ہے کہ ایک منافق کی تین نشانیاں ہوتی ہے- اول جھوٹ بولنا، دوم وعدہ خلافی کرنا اور سوم امانت میں خیانت کرنا (ترمذی-2631)۔
امام مالک فرماتے ہے کہ جب حکیم لقمان سے پوچھا گیا کہ آپ کے اتنے اونچے مقام تک پہنچنے کا کیا راز ہے تو آپ نے جواب دیا، سچ بولنا، امانت داری اور فضول باتوں سے پرہیز۔

امانت داری اور معاشرتی پائیداری

کسی بھی معاشرے کی ترقی، امن اور پائیداری کیلئے ضروری ہے کہ وہاں کے لوگوں کا آپس میں امانت داری اور اعتماد کا رشتہ قائم ہو۔ جرمنی کے مشہور ماہر سماجیات جارج سِمل کا کہنا ہے کہ کسی بھی سماج کے مختلف افراد کو آپس میں جوڑے رکھنے کیلئے ان کا آپس میں بھروسہ اور اعتماد ہونا ضروری ہے۔ معاشرتی اثاثوں میں بہترین اثاثہ امانت داری (بھروسہ اوراعتماد) ہے اور یہ اثاثہ سماجی بہبودی، معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کیلئے بنیادی ضرورت ہے۔

حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ کسی بھی سماج میں امانت داری کی کمی اس سماج کو تباہی کے دہانے پر پہنچا سکتی ہے۔ اسی بات کو بیسویں صدی کی مشہور ماہر سماجیات سِسّیلا بُک اپنے الفاظوں میں کچھ اس طرح بیان کرتی ہے کہ امانت داری ایک اہم سماجی اثاثہ ہے اگر کسی سماج میں یہ اثاثہ ختم ہوجائے تو وہ سماج تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔

امانت داری اور سیاسی انتظامیہ

سیاسی انتظامیہ کی کامیابی کیلئے امانت داری کا وصف ہونا ناگزیر ہے اور اس بات کی تاکید جدید سیاسی علوم اور اسلامی علوم دونوں میں کی گئی ہے۔ مشہور ماہر سیاسیات پٹنام کے مطابق اعتماد اور امانت داری سیاسی اور سماجی استحکام کیلئے بہت ضروری ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق عوام کیلئے قابل اعتماد حکومت ہی قابل اطمینان حکومت ہوتی ہے کیونکہ عوام ہمیشہ امانت دار اور قابل بھروسہ حکومت کو ہی پسند کرتی ہیں۔ امام تیمیہ فرماتے ہے کہ ایک حکمران کی کامیابی کیلئے اس کا عادل اور امانت دار ہونا لامُحالہ ہے۔

امانت داری اور معاشی ترقی

جب حضرت یوسف علیہ السلام کو مصری حکومت کے اہم شعبہ یعنی معشیت کی ذمہ داری سونپی گئی تو اللہ تعالیٰ ان کی کامیابی کی اہم وجہ ان کی امانت داری اور ایمانداری کے وصف کو قرار دیتے ہے۔ اسی طرح سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 76 میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ معاشی معاملات میں امانت داری کا رویہ اختیار کرنا تقویٰ کی بہترین مثال ہے۔ لہذا کامیاب اور ترقی یافتہ معاشرے کیلئے عوام اور حکومت دونوں کا معاشی معاملات میں امانت داری کا مظاہرہ کرنا بہت ہی ضروری ہے۔ نتیجتاً معاشی معاملات میں خیانت اور بے ایمانی معاشرے میں بدعنوانی اور رشوت خوری کو جنم دیتی ہے جو بالآخر سماج کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔

خلاصہ

امانت داری ایک اہم اور اعلیٰ انسانی وصف ہے جس کا ذکر قرآن و حدیث میں بار بار آیا ہے۔ اس کے بغیر انفرادی اور سماجی ترقی کا تصور کرنا بے معنی اور ناممکن ہے۔ انسانوں کے آپسی رشتے اور بندے کا اللہ کے ساتھ رشتے کی مظبوطی کا دارومدار بھی اسی وصف پر ہے کیونکہ سب سے مظبوط رشتہ بھروسے اور اعتماد کا رشتہ ہوتا ہے۔ چاہے ہم کسی فرد، کسی خاندان یا کسی معاشرے کا تذکرہ کرے، ان سب کی ترقی امانت داری اور اعتماد پر منحصر ہے۔ خاندان، سماج اور حکومت کی پائیداری کیلئے امانت داری جُزِ لاینفک ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی معاشروں میں امانت داری کا گراف دن بہ دن گھٹتا جا رہا ہے کیونکہ وہاں مادیت کی وجہ سے اس وصف کو قائم رکھنے کے محرکات نا کے برابر ہے۔ یہی ایک بنیادی وجہ ہے وہاں آپسی رشتے کمزور ہوتے جارہے ہیں اور خاندانی نظام درہم برہم ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس مسلم معاشروں میں امانت داری کے پیچھے بہت سارے دینی اور اخلاقی محرکات ہے جن کی بنیاد پر کوئی بھی ذِی حس مسلمان کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتا ہے نا ہی کسی کا بھروسہ توڑ سکتا ہے کیونکہ ایسا کرنے پر وہ منافقین کے صف میں شامل ہو جائے گا۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

کشمیر میں اسلامی انقلاب اور حضرت شاہ ہمدانؒ

Next Post

جی20 کی کشمیر آ مد : انتظامات،اہداف اور امکانات

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

نسائی شاعری کا ارتقا

کزنز زندگی کے خاموش محافظ….

16/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

والدین کی قربانیوں کی کوئی انتہا نہیں

16/01/2026
احساس و ہمدردی سے عاری لوگ

داستانِ عہدِ رفتہ: جب مٹی سونا تھی….​چند یادیں بیتے دنوں کی

09/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

کشمیر کی سڑکیں موت کی آماجگاہ

09/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

03/01/2026
حوصلہ شکنی کے بجاۓ حوصلہ افزائی کیجئے ہر شخص جینے کا حق رکھتا ہے۔۔۔!‎

والدین کے ساتھ بد سلوکی تربیت میں کمی یا فرمان برداری کا زوال۔۔۔۔۔!‎

03/01/2026
Next Post
جی20 کی کشمیر آ مد : انتظامات،اہداف اور امکانات

جی20 کی کشمیر آ مد : انتظامات،اہداف اور امکانات

کشمیرمیں پھر سے بالی ووڈ کی واپسی!

کشمیرمیں پھر سے بالی ووڈ کی واپسی!

بارہمولہ میں ایس آئی یو نے دو ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی

بارہمولہ میں ایس آئی یو نے دو ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی

ایک ارب لوگوں نے پی ایم مودی کی من کی بات سنی

پی ایم مودی نے ملک میں ریڈیو کنیکٹیویٹی کو فروغ دینے کے لیے 91 ایف ایم ٹرانسمیٹر کا افتتاح کیا

وزیر اعظم کو ’بدعنوانی‘ سے زیادہ نفرت نہیں ہے! ستیہ پال ملک کا تہلکہ خیزبیان

جموں و کشمیر کے مبینہ رشوت کیس میں سی بی آئی آج ستیہ پال ملک کے گھر جانے کا امکان ہے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »