بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان رواں ہفتے وادی کشمیر وارد ہوئے۔اطلاعات کے مطابق یہاں وہ اپنی نئی فلم ’’ڈنکی‘‘ کی شوٹنگ کے لیے آئے ہیں۔بالی ووڈ سٹار نے پہلے ضلع گاندربل میں واقع سیاحتی سونہ مرگ کا دورہ کیا جہاں اطلاعات کے مطابق بالی وڈ کے کنگ خان نے دو روز تک ایک گانا شوٹ کیا۔راج کمار ہرانی کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم کی شوٹنگ اب ضلع پلوامہ کے پنزگام میں ہوگی۔اطلاعات کے مطابق یہ شوٹنگ اب پنزگام ریلوے اسٹیشن کے قریب ڈوگری پورہ علاقے میں ہوگی۔اس پیشرفت سے واقف لوگوں نے ایک مقامی نیوز ایجنسی کوبتایا کہ فلم کا ایک حصہ ریلوے اسٹیشن پنزگام کے قریب شوٹ کیا جائے گا جہاں تمام انتظامات پہلے سے ہی کر لیے گئے ہیں۔ ڈنکی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک مزاحیہ فلم ہے اور اس سال کے آخر تک ریلیز کی جائے گی۔
بالی ووڈ کے بادشاہ جنہوں نے حال ہی میں سپر ہٹ فلم’’ پٹھان‘‘ دی ہے نے” جب تک ہے جان‘‘ کی شوٹنگ کے 12 سال بعد کشمیر کا دوبارہ دورہ کیا۔توقع کی جا رہی ہے کہ فلم سازوں کی واپسی سے فلمی سیاحت کو ایک نئی جہت دینے کے علاوہ کشمیر کی معیشت کو فروغ ملنے کی امید ہے۔ حکام نے مقامی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ شوٹنگ کےتمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں کیونکہ فلم کی شوٹنگ یہاں طویل عرصے کے بعد ہو رہی ہے۔ ادھر مقامی لوگوں نے کہا کہ وہ خوش ہیں کیونکہ شاہ رخ خان کے دورے نے حکام کو سنگم سے پنزگام ریلوے اسٹیشن تک سڑک کی مرمت کرنے پر آمادہ کیا۔ انکا کہنا تھا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ فلم کی شوٹنگ سے ہمیں فائدہ ہوگا یا نہیں لیکن ہماری سڑک کی مرمت اور سڑک کے اطراف کو صاف کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں شاہ رخ خان کا وادی کشمیر میںگرمجوشی سے استقبال کیا گیا ۔ خان اس فلم میں ایک فوجی کا کردار ادا کریں گے اور یہ فلم رواں سال دسمبر میں ریلیز ہوگی۔شاہ رخ اس سے قبل، جب تک ہے جان، میں ہوں نا اور فوجی نامی فلموں میں فوجی کا کردار ادا کر چکے ہیں۔
وادی کشمیر بالی ووڈ فلم سازوں کی ایک پسندیدہ جگہ رہی ہے اور آج تک درجنوں فلمیں وادی میں فلمائی گئی ہیں جن میں 2015 میں سلمان خان کی بجرنگی بھائی جان اور 2018 میں رازی قابل ذکر ہیں ۔تاہم 2019میں خصوصی پوزیشن کی منسوخی اور پھر دوسال کرونا وائرس کے باعث وادی میں فلمیں شوٹ نہیں ہو پائی۔2022ءمیں بالی ووڈ نے پھر سے وادی کا رخ کیا اور اکتوبر میں پہلی بار ضلع بانڈی پورہ کے گریز میں ہدایتکار اونیر کی ہدایتکاری میں” تھوڑا چاہیے پیار“فلم کی عکس بندی کی گئی۔وہیں رواں سال مارچ میں مشہور سیاحتی مقام گلمرگ میں ہدایتکار کرن جوہر کی فلم” راکی اور رانی کی پریم کہانی“ کا ایک گانا فلمایا گیا تھا۔ وادی کشمیر 90 کی دہائی سے قبل فلم سازوں کے لیے اسکی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے ایک پسندیدہ جگہ رہی ہے جس کی شروعات 1949 میں” برسات “ فلم سے ہوئی تھی۔اب پھر سے فلم ساز وادی کا رخ کرتے نظر آرہے رہے ہیں۔
جموں و کشمیر فلم ڈیولپمنٹ کونسل (جے کے ایف ڈی سی) کو فلم سازوں سے فلموں کی شوٹنگ شروع کرنے کے لیے 500 سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ جن میں سے 200 کے قریب درخواستوں کو منظوری دی گئی ہے ۔جبکہ پچھلے دو سال میں وادی کشمیر میں کئی فلمیں، ویب سیریز اور میوزک ویڈیوز شوٹ کیے گئے ہیں جن میں عامر خان کی” لال سنگھ چڈھا “بھی شامل ہے۔وہیں رپورٹس کے مطابق پنجابی سنیما بھی وادی کشمیر میں اپنی دلچسپی دکھا رہا ہے۔2021میں جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سرینگر میں جموں وکشمیر سے متعلق نئی فلم پالیسی کا اعلان کیا۔ سرینگر میں منعقدہ تقریب پر نئی فلم پالیسی متعارف کئے جانے کے موقعے پر ایل جی نے کہا تھاکہ اس پالیسی کے تحت جموں وکشمیر میں فلم شوٹنگ کے لیے سنگل ونڈو سسٹم کی سہولیات دستیاب ہونگی۔یعنی فلم کی شوٹنگ کرنے والے مقامات ابھرتے اداکار اور فلم مکمل کرنے سے متعلق دیگر سہولتیں مہیا کرائی جائیں گی۔اس پالیسی کے تحت جے اینڈ کے فلم ڈیولپمنٹ کونسل کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ فلم ساز اپنی نئی فلمیں بنانے میں اس پالیسی کا فائدہ اٹھانے کے لیے آن لائن درخواستیں دے سکتے ہیں اور منظوری ملنے پر انہیں عالمی سطح کی سہولیات بہم رکھنے کے ساتھ ساتھ خصوصی مراعات دینے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ وہیں گزشتہ سال ایل جی منوج سنہا نے 32سال بعد سرینگر کے سونہ وار علاقے میں ملٹی پلیکس سنیما گھر کا افتتاح کیا۔وہیں اسکے علاوہ کئی اضلاع میں کثیرالمقاصد سنیما ہال کھولے گئے ہیں۔









