دنیا کی20 بڑی اقتصادی قوتوں کے نمائندہ فورم جی 20 کاایک اجلاس مئی کے اوآخر میں سرینگر میں منعقد ہورہا ہے۔ کشمیر کی تاریخ میں غالباً یہ پہلا موقع ہوگا کہ جب کوئی عالمی سطح کا اجلاس یہاں منعقد ہورہا ہے۔ یقیناً یہ ایک تاریخ ساز لمحہ ہوسکتا ہے کیونکہ ماقبل جموںو کشمیر کی سرزمین پر ایسے کسی عالمی اجلاس کا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔
دسمبر2022عیسوی میں جب بھارت نے جی20 کی صدارت ایک برس کےلئے سنبھالی اور سال2023 ء میں بھارت میں جی 20 سربراہی اجلاس کا فیصلہ ہوگیا تو اسی وقت بھارت کی مرکزی حکومت نے اعلان کیا کہ جہاں جی20 کے مختلف اجلاس بھارت بھر کے کئی شہروں میں منعقد کئے جائیں گے وہیں پر سرینگر اور لیہہ جیسے شہروں میں بھی اس ضمن میں کچھ اجلاس منعقد کئے جائیں گے۔ اس اعلان کے معاً بعد سرینگر کو اسمارٹ سٹی بنانے کے پروگرام کو سرعت کے ساتھ شروع کردیا گیا اور سڑکوں ،عمارتوں اور دوسرے مراکز کی تزئین و آرائش اور تعمیر نو کا ایک سلسلہ چل پڑا۔ آج کی تاریخ میں دیکھا جائے تو سارا سرینگر شہر کم و بیش توڑ پھوڑ کا شکار نظر آتا ہے جہاں نئی تعمیر کےلئے تخریب کا کام سرعت کےساتھ جاری ہے۔ ایک مقامی روزنامے کے مطابق ’’ سردیوں کے موسم کے باوجود، یو ٹی انتظامیہ اہم سڑکوں کی تعمیر نو، نکاسی آب کے نظام کی مرمت،شہر کی تزئین و آرائش اور خوبصورتی، پارکوں کے لیے پودوں اور دیواروں کی پینٹنگ کے لیے ہدایات دے کر اس موقعے کو’’فخر کا لمحہ ‘‘کے طور پرپیش کرنے کا کام بخوبی انجام دے رہی ہے۔‘‘
بھارت میں جی 20 کے سربراہی اجلاس کے ضمن میں 50 سے زیادہ شہروں میں 200 سے زائد اجلاس منعقد ہوں گے۔ کشمیر میں سیاحت کے ضمن میں جبکہ لیہہ میں نوجوانوں کے ضمن میں میٹنگیں منعقد ہوں گی اور بقول ایک مقامی اخبار یہ اس لحاظ سے بھی تاریخی ہوگا کیونکہ جی 20 ممالک کے مندوبین زمین پر جنت کہلائے جانے والی سرزمین کا دورہ کریں گے۔
واضح رہے کہ جی20 کا یہ عالمی فورم1999 ء میں عالمی اقتصادی اور مالیاتی امور پر تبادلہ خیال کے لیے وزرائے خزانہ کی سطح پر ایک فورم کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا۔عالمی اقتصادی بحران کے پیش نظر بین الاقوامی تعاون کے لیے فورم کو سربراہان مملکت کی سطح پر اپ گریڈ کیا گیا۔ اس کے ایجنڈے میں تجارت، موسمیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی، صحت، زراعت، توانائی، ماحولیات اور ایک اہم باب ’ بدعنوانی‘ کو بھی شامل کیا گیا۔جی20 فورم عالمی جی ڈی پی کے تقریباً 85 فی صد کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس میں شامل ممبران سعودی عرب، جرمنی، کینیڈا اور فرانس تقریباً 75 فیصد تجارت کو کنٹرول کرتے ہیں جبکہ دو تہائی آبادی والے ممالک انڈیا، چین، انڈونیشیا اور امریکہ بھی اس کے ممبر ہیں۔ مرکزی حکومت نے بنگلہ دیش، مصر، ماریشس، نیدرلینڈ، نائجیریا، عمان، سنگاپور، اسپین اور یو اے ای کو بطور خصوصی مہمان مدعو کیا ہے۔ یہ فورم مسلمانوں کی ایک متاثر کن حیثیت اور جمعیت کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ جی20کی فہرست میں چار بڑے مسلم آبادی والے ممالک انڈونیشیا، بھارت، سعودی عرب اور ترکی بھی شامل ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں کے مدعو افراد میں اقوام متحدہ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، ورلڈ بینک، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، آئی ایل او، ایف ایس بی، او ای سی ڈی، آسیان چیئر، آئی ایس اے وغیرہ ہیں۔جہاں تک جی 20کی موجودہ صدارت کا تعلق ہےیہ ’ٹرائیکا پیٹرن‘ یعنی تکونی شکل کے ذریعے گھمایا گیا ہے یعنی سابقہ، موجودہ اور آنے والی صدارت اور موجودہ ٹرائیکا انڈونیشیا، بھارت اور برازیل پر مشتمل ہے۔ موجودہ جی 20میٹنگ میںبھارت کے وزیر اعظم کی قیادت میں نعرہ ’’واسودھائیو کٹمبکم‘‘یا ’’ایک زمین ایک خاندان ایک مستقبل‘‘ متعارف کرایا گیا ہے۔جی 20کی دیگر ترجیحات میں سبز ترقی، موسمیاتی مالیات، تیز رفتار، جامع اور لچکدار ترقی، تکنیکی تبدیلی اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور خواتین کی قیادت میں ترقی شامل ہیں۔
کشمیر میں جی 20 کی سیاحتی معاملات پر اجلاس منعقد کرانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ کشمیر دنیا بھر میں اپنی مہمان نوازی کے لیے جانا جاتا ہے کیونکہ سیاحت بہت سے خاندانوں کے لیے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور اقتصادی ترقی میں شراکت ہے۔غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ماضی کی مشکلات کو پس پشت ڈالتے ہوئے یہ میٹنگ کشمیری مصنوعات کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کی رفتار کے لیے عالمی منڈی کو زیادہ موثر انداز میں راغب کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔
سرینگر میں بین الاقوامی مندوبین کی مصروفیات سے متعلق اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مندوبین میں جی20ممالک کے وزرائے سیاحت یا متعلقہ شعبے سے تعلق رکھنے والے نمائندے یا اعلیٰ عہدیدار شامل ہوں گے۔ان کے بقول یہ مندوبین22مئی کو ایک خصوصی پرواز کے ذریعے نئی دہلی سے سرینگر پہنچیں گے۔ انہیں اسی روز سرینگر کی ڈل جھیل کی سیر کرائی جائے گی۔ اگلے روز وہ جھیل کے مشرقی کنارے پر واقع شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کنوینشن سینٹر میں جی20 ٹورزم ورکنگ گروپ کے ایک اہم اجلاس میں شرکت کریں گے۔اس گروپ کا اسی طرح ایک اجلاس رواں برس فروری میں ریاست گجرات کے علاقے رن آف کچھ میں منعقد کیا گیا تھا۔ یہ علاقہ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے اہم ہے کیوں کہ یہ پاکستان کے صوبۂ سندھ کے جنوب مشرقی علاقے صحرائے تھر کے قریب واقع ہے۔سیاحت سے متعلق جی20ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس ریاست مغربی بنگال کے سلی گوڑی کے مقام پر یکم سے تین اپریل تک منعقد ہوا تھا۔مئی کے مہینے میں سرینگر میں ہونے والے اجلاس کے دوران توجہ کا مرکز فلم ٹورزم رہے گا جس کے فروغ کے لیے کشمیر کی انتظامیہ نے تین برس کے دوران کئی اقدامات کیے ہیں۔حکام نے بتایا کہ ورکنگ گروپ کے اس اجلاس کے دوران رکن ممالک اور دیگر شرکا کو فلموں کی آؤٹ ڈور شوٹنگ کے لیے ‘جنت نظیر ‘ کہلائے جانے والے کشمیر کا انتخاب کرنے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ان کے بقول مندوبین کو24مئی کو سیر و تفریح کے لیے سیاحتی مقام گلمرگ لے جایا جائے گا اور اگلے روز وہ واپس دہلی لوٹیں گے۔ انہیں داچھی گام وائلڈ لائف پارک کی بھی سیر کرائی جائے گی جو مخصوص کشمیری ہرن ہانگل کا مسکن ہے۔بھارت جی 20کی اپنی میزبانی کے دوران گروپ کے نوجوانوں کے امور سے متعلق مشاورتی فورم وائی20کے دو اجلاس سرینگر اور لداخ کے درالحکومت لیہہ میں منعقد کرا رہا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ مئی کے مہینے میں کشمیر میں ہونے والے جی 20اجلاس کے لیے’پیشگی انتظامات‘ کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں، جموں و کشمیر حکومت نے طبی دیکھ بھال کے انتظامات اور خدمات کے پہلے سے کام کو یقینی بنانے کے لیے یونین ٹیریٹری کی سطح پر ایک ہیلتھ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔اس ضمن میں ضلع سرینگر میں بہت سے بڑے پیمانے پر کام شروع کیے گئے ہیں، جن میں سڑکوں کی مرمت، بوسیدہ کھمبوں کی تبدیلی اور فلائی اوورز کی خوبصورتی وغیرہ شامل ہیں۔ صوبائی کمشنر کے مطابق، انتظامیہ اہم تقریب کے لیے شہر کو تیار کر رہی ہے۔ تمام بڑی سڑکوں کی مرمت کی جا رہی ہے۔یوٹی کے لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے حال ہی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پر امن ماحول میں ہی انسانیت کی خواہشات کو پورا کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یقین محکم ہے کہ ’’اہنسا‘‘ کی جڑیں ہماری عظیم تہذیب میں پیوست ہیں جو دنیا کو تنازعات کی غیر اہمیت اور مذاکرات کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔موصوف نے ان باتوں کا اظہار جموں کے کنونشن سینٹر میںIndia@G20پر قومی کانفرس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جی ٹونٹی صدارت کے دوران سبز، تیز رفتار، جامع، پائیدار ترقی اولین ترجیحات میں شامل ہیں کورونا، موسمیاتی تبدیلی اور تنازعات جیسی مشکلات سے نمٹنے کے لئے دنیا کی امید بھری نظریں ہم پر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے دنیا کو ایک نیا وژن دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ صرف کانفرنس میزوں پر نہیں کیا جا سکتا ہے بلکہ ہر گھر کے ڈنر ٹیبل پر اس کے خلاف لڑنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی سے پائیدار اور جامع ترقی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔منوج سنہا نے عالمی خوشحالی اور سب کے لئے بہتر معیار زندگی کو یقینی بنانے کے لئے ترقیاتی سرگرمیوں اور ماحولیات کے تحفظ کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ معاشی تحفظ کے لئے ماحولیاتی تحفظ ضروری ہے اور اسی سے سماجی ترقی کے اقدامات کو بھی تقویت ملے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت ماحولیات کے مستقبل کے لئے سب سے اہم اور تعمیری رول ادا کرے گا اور موافقت اور ماحولیاتی انتظام کے نظام کو قائم کرنے کے لئے ایکشن پلان تشکیل دے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت ماحولیاتی طور پائیدار اور ترقی کے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے دنیا کی رہنمائی کرے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے یکساں ترقی کو یقینی بنانے کے لئے دنیا کو ایک نیا سماجی نظریہ پیش کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آتما نر بھر بھارت، میک ان انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا نے تیز اور پائیدار ترقی کے لئے ایک قوی فریم ورک فراہم کیا ہے۔انہوں نے آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور اے آئی آئی ایم ایس جیسے اہم اداروں اور نوجوانوں کے رول کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ’مجھے یقین محکم ہے کہ بھارت کی جی ٹونٹی کی صدارت عالمی تعلقات کو نئی تحریک دے گی اور ‘ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘ کے جذبے کو مضبوط کرے گی۔
ادھر کشمیر کے ڈویژنل کمشنر وجے کمار بدھوری نے متعلقہ افسران کو تزئین وآرائش کا کام دس دن میں مکمل کرنے کا الٹی میٹم دیا ہے جب کہ حکومت نے ان علاقوں سے جہاں سے مندوبین کا گزر ہوگا وہاں سے سیکیورٹی فورسز کے بنکر ہٹانے انہیں دوسرے مقامات پر منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔حکام کے مطابق ورکنگ گروپ اور دیگر تقریبات کی حطاظت کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ سیکیورٹی فورسز کے خصوصی دستے جن میں کمانڈوز اور شوٹرز شامل ہوں گے سرینگر اور گلمرگ میں تعینات کیے جائیں گے ۔ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے ڈرون کیمرے، اینٹی ڈرون آلات، نگرانی والے جدید سامان کا استعمال کیا جائے گا۔جموں سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامےنے خبر دی ہے کہ نئی دہلی سے خصوصی فورسز اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کو سرینگر لایا جا رہا ہے جب کہ جی 20اجلاسوں اور تقریبات کے دوران سرینگر، گلمرک اور چند دوسرے مقامات پر نیم فوجی دستوں کی کمک بٹھائی جا رہی ہے۔اخبار کے مطابق ان علاقوں کو جہاں اقلیت سے تعلق رکھنے والے کنبے اور غیرمقامی رہائش پذیر ہیں وہاں سیکیورٹی فورسز کا گشت بڑھایا جائے گا۔ حساس علاقوں میں باقاعدگی کے ساتھ تلاشی آپریشن شروع کیےجائیں گے تاکہ عسکریت پسندوں کی ممکنہ پُرتشدد کارروائیوں کو انجام دینے سے پہلے سے روکا جاسکے۔اس معاملے پر بھارت کی وزارتِ داخلہ نے گزشتہ دنوںنئی دہلی میں ایک خصوصی اجلاس بھی بلا لیا۔ اجلاس میں جموں و کشمیر کے سربراہِ انتظامیہ ایل جی منوج سنہا، چیف سیکریٹری ارون مہتہ ، پولیس سربراہ دلباغ سنگھ اور انتظامی، پولیس اور خفیہ اداروں کے کئی دوسرے افسران نےشرکت کی۔
یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ سرینگر اور لیہہ میں ممکنہ طور پر منعقد ہونے والے جی 20 کے ان اجلاسوں کو پاکستان اور چین کی شدید مخالفت کے باوجود منعقد کیا جارہا ہے۔ چین نے تو اس سے قبل اروناچل پردیش میں ہونے والے اجلاس کا بھی بائیکاٹ کیا تھا اور ممکن ہے کہ لیہہ اور سرینگر میں منعقد ہونے والے اجلاسوں کا بھی یہ ملک بائیکاٹ کرے گا۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ او آئی سی میں شامل سعودی عرب ،ترکیہ اور انڈونیشیا کو بھی ان اجلاسوں میں شرکت سے باز رہنے پر قائل کرے ۔ اس ضمن میں ایک مقامی سیاسی مبصر جناب نور احمد بابا کہتے ہیں بھارت دنیا پر یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ جموں و کشمیر اس کا ایک اٹوٹ حصہ ہے جہاں پانچ اگست 2019 ء کو اٹھائے گئے اقدام کے نتیجے میں سیاسی بد امنی کا خاتمہ ہوا اور اب علاقے میں امن و خوشحالی کا دور دورہ ہے۔ان کے بقول یہ ثابت کرنے کے لیے ان مقامات کی تزئین و آرائش پر خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہےجہاں مندوبین قیام یا دورہ کریں گے۔پرفیسرنور احمد بابا کہتے ہیں جی20 اہم ممالک کا گروپ ہے جس میں سے چند ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں جب کہ چند اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک ہے جنہوں نے کشمیر پر ایک مضبوط مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔ البتہ بھارت نے اس پر بارہا تنقید کرتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔ان کے بقول بھارت سرینگر اور لیہہ میں اجلاس اور تقریبات کرا کر جموں و کشمیر پر اپنی پوزیشن عالمی سطح پر بھی تسلیم کرانا چاہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اعتراض اور تنقید اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ صورتِ حال سے غافل نہیں ہے بلکہ اسے سفارتی سطح پر پہنچنے والے نقصان کا ادراک ہے۔ اس ضمن میں کئی سابق اور موجودہ عہدیداروں اور سابق سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ جی20 کی صدارت عالمی امور میں نئی دہلی کے قائدانہ کردار کو ظاہر کرنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا متعدد جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے۔ایک سابق ہائی کمشنر اجے بساریہ جو پاکستان میں بھی بھارت کے سفیر رہے ہیںنے خبر رساں ایجنسی کو بتایا ’’یہ پاکستان کی طرف سے ایک روایتی غصہ ہے۔ یہ ردعمل حیران کن نہیں ہے، کیونکہ حکمران پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ عمران خان کو ان کے کشمیری موقف پر سوال اٹھانے کی وجہ نہیں دیناچاہتی ہے۔ان کا مذید کہنا ہے کہ پاکستان کےلئے یہ اچھامشورہ ہےکہ وہ اس معاملے کو زیادہ نہ بڑھائے کیونکہ اس سے صرف اس کی اپنی سفارتی جگہ مسدود ہو جائے گی۔‘‘سابق سفارت کار میرا شنکرکا کہنا ہے کہ کشمیرکی معیشت سیاحت پر مرکوز ہے اور مئی میں وہاں کی آب و ہوا بہت خوشگوار ہوتی ہے، جب بھارت کے باقی حصوں میں درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ سیاحت سے متعلق میٹنگ کے لیے ایک مناسب جگہ ہے۔ اس لئے اس پر اعتراض کرنا نامناسب ہے۔
بہرحال مئی کے اواخر میں سرینگر کشمیر میں جی 20کے ٹورزم ورکنگ گروپ اور لداخ کے لیہہ میں یوتھ 20 مشاورتی گروپوں کے اجلاس ہوں گے جن میں جی 20 ممالک کے مندوبین شرکت کریں گے۔ اس کے جہاں سفارتی، سیاسی اور اقتصادی پہلو ہیں وہیں پر اس کے دوررس سماجی اور سیکورٹی پہلو بھی ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ یہ نئی پہل کیا رنگ دکھاتی ہے اور کیا اس سے یہاں رہنے والے انسانوں کی زندگیاں کچھ بہتر ہوں یا پھر نشستندو گفتندو بر خاستند والا معاملہ ہی ہوگا۔








