امت نیوز ڈیسک //
سرینگر:جموں وکشمیر حج کمیٹی کی چئیرپرسن سفینہ بیگ نے مرکزی اقلیتی امور کی وزارت اور حج کمیٹی آف انڈیا کو خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر کے عازمین کو ملک کی دیگر ریاستوں اور یوٹیز سے زیادہ اخراجات جمع کرنے کو کہا گیا ہے۔
اس حوالے سے جموں وکشمیر حج کمیٹی کی چئیرپرسن نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ حج 2023 کے زیادہ مہنگے ہونے کا معاملہ اقلیتی امور کی وزیر سمرتی ایرانی ، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور چیئرمین حج کمیٹی آف انڈیا سے اٹھایا گیا ہے۔
خط میں سفینہ بیگ نے اقلیتی امور کی وزیر حکومت کے اعلان کا حوالہ دیا۔ ستمبر میں نئی دہلی میں منعقد آل انڈیا حج کانفرنس میں بھارت نے اعلان کیا تھا کہ اس سال حج 2022 کے مقابلے سستا ہوگا،لیکن یہ دیکھنا حیران کن ہے کہ امسال حج غیر متوقع طور پر زیادہ مہنگا ہوگا۔ مزید یہ کہ حج کمیٹی نے بہتر ائیر لائنز کے انتظامات کرنے کی درخواست کی تھی جو نہ صرف سستی ہوگی بلکہ بہتر سہولیات بھی فراہم کرے گی، تاہم اس کے باوجود جموں وکشمیر کے عازمین اضافی رقومات کا مطالبہ کیا گیا ہے جو کہ قابل افسوس ہے۔بھیجے گئے خط کے مطابق اس سے عوام میں بالعموم اور خاص کر عازمین حج کو ذہنی کوفت اور پریشانی ہوئی ہے۔ ایسے میں اب امید کا اظہار کیا گیا یے کہ اس معاملے میں کارروائی خاص طور عوام کے مفاد میں کی جاتی ہے۔امسال حج بیت اللہ کے لیے بھارت کے ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد عازمین فریضہ حج انجام دینے جارہے ہیں،جن میں جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے 11 ہزار 5 سو عازمین بھی شامل ہیں۔ایسے میں حج 2023 کے لیے عازمین حج کی روانگی اور واپسی کا عبوری فلائٹ شڈول مرتب کیا گیا ہے۔دیے گئے عبوری شیڈول کے مطابق جموں وکشمیر اور لداخ س تعلق رکھنے والے عازمین سرینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے خصوصی پروازوں میں مدینہ منورہ روانہ ہوں گے اور یہ روانگی 21 مئی سے 6 جون تک جاری رہے گی۔جبکہ جموں وکشمیر اور لداخ یوٹیز کے حجاج کرام کی واپسی کا سلسلہ 3 جولائی سے 2 اگست 2023 تک جارہے گا۔
واضح رہے جموں وکشمیر حج کمیٹی نے امسال حج کے لیے منتخب ہونے والے عازمین کو سعودی ریال فرام کرنے کے عمل کو ختم کر دیا یے۔ ایسے میں حج پر جانے والے عازمین کو وہاں روزانہ کے خرچے کی خاطر استعمال ہونے والے مطلوبہ سعودی ریال کا بندوبست روانگی سے قبل از خود کرنا ہوگا۔









