آمت نیوز ڈیسک //
لکھنؤ: اردو کے مشہور و معروف شاعر منور رانا کی طبیعت نازک ہے۔ وہ طویل عرصے سے بیمار تھے، آج ان کی طبیعت اچانک زیادہ بگڑ گئی، جس کے بعد انہیں فورا اپولو ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں انہیں ڈاکٹروں کی نگرانی میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ منور رانا کی اس سے قبل ڈائیلائسس چل رہی تھی۔ وہ متعدد امراض کے شکار ہیں۔ آج لکھنؤ میں واقع رہائش گاہ پر ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی جس کے بعد ان کے اہل خانہ نے اپولو ہسپتال میں داخل کرایا۔
منور رانا کی اگر بات کی جائے تو وہ اپنی شاعری میں عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ماں کی اہمیت اور عظمت کو بیان کیا اور ماں کو اپنی غزل کا موضوع بنایا۔ ان کے متعدد اشعار اور غزلوں نے عوام میں خوب پذیرائی حاصل کی۔منور رانا نے صرف مشاعروں اور شاعری کی محفلوں تک ہی اپنا دائرہ محدود نہیں کیا، بلکہ سیاسی نشیب و فراز پر بھی ان کی نظر رہی ہے۔ وہ حکومت کے خلاف بطور احتجاج ایوارڈ واپسی مہم کے دوران ایک ٹی وی شو میں اپنے ایوارڈ واپس کر کے سرخیوں کی زیبت بنے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اترپردیش حکومت پر بھی کئی مرتبہ اپنی تنقیدوں کے لیے سرخیوں میں تھے۔ تاہم اترپردیش اسمبلی انتخابات کے بعد وہ گویا خاموش ہوگئے۔ اترپردیش کے نظم و نسق یا کسی بھی معاملے پر ان کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
اے اے اور این آر سی کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں ان کی بیٹیاں کافی پیش پیش تھیں۔ اس کے بعد ان کی ایک بیٹی سماجوادی پارٹی جب کہ دوسری دختر کانگریس پارٹی میں شامل ہو گئی تھی۔








