• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, جنوری ۲۹, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
سرینگر میں گی جی20 کا تاریخ ساز اجلاس اچھے دنوں کی نوید یا نشستند و گفتند و برخاستند کا پرانا سلسلہ

سرینگر میں گی جی20 کا تاریخ ساز اجلاس اچھے دنوں کی نوید یا نشستند و گفتند و برخاستند کا پرانا سلسلہ

شاہد لطیف

by امت ڈیسک
26/05/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

’ جموں و کشمیر میں جی 20 کا اجلاس منعقد کرکے بھارت نے عالمی برادری کو پیغام دیا ہے کہ ملی ٹینسی کی وجہ سے کشمیریوں کی دو نسلیں برباد ہوئیں ہیں اور آج کشمیر بدل گیا ہے اور دنیا کے سامنے ہے‘

سرینگر میں سیاحت سے متعلق جی20 ورکنگ گروپ کا اجلاس بخیر و عافیت اختتام پذیر ہوگیا۔ 22 مئی سے24 مئی تک ہونے والے اس اجلاس میں کہا جاتا ہے کہ قریب 60 مندوبین نے شرکت کی جن کا تعلق جی20 میں شامل ممالک کے علاوہ کئی اُن ممالک سے بھی تھا جنہیں اس اجلاس میں شرکت کےلئے خاص طور پر دعوت دی گئی تھی۔ اجلاس سے قبل اور دوران اجلاس تاریخی قسم کے حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے تھے اور پولیس، نیم فوجی دستوں کے علاوہ سی آر پی ایف کمانڈوز، این ایس جی کمانڈوز اور بھارتی نیوی کے کمانڈوز کو بھی تعینات کردیا گیا تھا۔ اجلاس سے قبل پوری وادی خاص طور پر ان مقامات اور علاقوں کو مکمل طور پرخطرات سےپاک کیا گیا تھا جہاںسے آنے والے مہمانوں کو گزرنا تھا یا جہاں پر انہیں جاناتھا۔ اس کے علاوہ سرینگر اور ان راستوں و مقامات جہاں مندوبین کا جانا طے تھا‘ کی تزئین و آرائش پر بھی کروڑوں روپے لگائے گئے۔ ماننا پڑے گا کہ اس دورے کی برکات کے طور پر راجباغ لال منڈی بنڈ،تاریخی پولو ویو مارکیٹ اورکچھ دوسرے مقامات پر کی گئی تزئین و آرائش قابل دید ہے ۔اجلاس سے قبل ہی بتایا گیا کہ مندوبین کا گلمرگ اور داچھی گام دورہ منسوخ کیا گیا ہے اور اب انہیں انٹرنیشنل کنونشن سینٹر ،اس سے متصل رائیل سپرنگ گالف کورس اور ساتھ ہی واقع ڈل جھیل کے علاوہ مغل باغات کی سیر کرائی جائے گی۔ یوں مندوبین کو محض دو چار میل رقبے تک ہی محدود رکھنا پڑا ۔اگرچہ گلمرگ وغیرہ دورے کی منسوخی سے متعلق کچھ زیادہ نہیں بتایا گیا لیکن کچھ مقتدر اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہوئی ہیں جن میں سیکورٹی خدشات کو ان دوروں کی منسوخی کےلئے ذمہ دار بتایا گیا ہے۔ ایک اخبار نے تو گلمرگ سے کسی شخص کی گرفتاری اور مبینہ حملے کی منصوبہ بندی کا ذکر بھی کیا ہے جس کے بعد کہا جاتا ہے کہ یہ دورے منسوخ کئے گئے۔ غیر ملکی مہمانوں کی آمد پر انہیں سرینگر آئر پورٹ پر پرتپاک طریقے سے استقبال کیا گیا جہاں ہر مندوب کو کشمیری شال اور ڈوگری دستار پہنایا گیا۔ دورے کے آخری دن مندوبین کو مغل باغات کی سیر کرائی گئی جب کہ انہیں سرینگر کے اہم مارکیٹ پولو ویو پر بھی لے جایا گیا جہاں انہیں کشمیر آرٹ وغیرہ کی تجارت کرنے والے دکانوں کی سیر بھی کرائی گئی۔

کشمیر کی ایک بڑی نیوز ایجنسی کی خبر کے مطابق مندوبین سیاحتی دورے کے دوران کشمیر کی دلکش خوبصورتی اور گرمجوشی سے مہمان نوازی سے مسحور ہو گئے۔سفارتی بات چیت کے ساتھ ساتھ، غیر ملکی نمائندوں نے خطے کے تاریخی ثقافتی ورثے اور قدرتی عجائبات کو دیکھنے کے لیے وقت نکالا۔ حکام نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ دورے کے آخری دن مہمانوںکے دن کا آغاز مشہور مغل باغات کی سیرسے ہوا، جہاں مندوبین کا استقبال پھولوں کی خوشبو اور نظم سے تیار کردہ حسین مناظرسے کیا گیا۔ باغات میں سے چہل قدمی کرتے ہوئے کئی مندوبین نے کشمیری روایتی لباس ملبوس کیا اور تاریخی باغات کی لازوال دلکشی میں گم ہوتے ہوئے اس کے شاندار تعمیراتی اورپرسکون ماحول پر حیران رہ گئے۔اس کے بعد مندوبین حال ہی میں تجدید شدہ پولو ویو مارکیٹ کی طرف روانہ ہوئے، جو روایتی دستکاری اور جدید خریداری کی کا ایک مرکز ہے۔ مقامی دستکاری، شاندار زیورات اور روایتی کشمیری لباس کو دیکھ کر مندوبین پرانی دنیا کی دلکشی اور عصری پیشکشوں کے امتزاج سے مسحور ہو گئے۔اس سے پہلے، دن میں مندوبین نے مشہور رائل اسپرنگ گالف کورس میںآس پاس کی ہمالیائی چوٹیوں کا شاندار نظارہ دیکھا۔حکام کے مطابق اپنے پورے دورے کے دوران، مندوبین کشمیر کے لوگوں کی طرف سے دی گئی حقیقی گرمجوشی اور مہمان نوازی سے متاثر ہوئے۔کشمیریوں ، جو اپنی شاندار مہمان نوازی کے لیے جانے جاتے ہیںنے اس بات کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ مندوبین کو خوش آمدید اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔مندوبین نے کہا کہ وہ اپنے سفر کے ہر قدم پر جس شفقت اور سخاوت کا سامنا کرتے آئے ہیں اس سے وہ دل کی گہرائیوں سے متاثر ہوئے ہیں ۔انہوں نے عالمی سیاحتی مقام کے طور پر خطے کی صلاحیت کو تسلیم کیا اور کشمیر کو اپنے اپنے ممالک میں ایک پرامن اور خوش آئند مقام کے طور پر فروغ دینے کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔حکام کا کہنا ہے کہ جی 20 ممالک کے ان مندوبین کا سری نگر کا دورہ بلاشبہ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرے گا اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دے گا، ساتھ ہی کشمیر کی شاندار خوبصورتی اور مہمان نوازی کو بھی دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔امید کی جاتی ہے کہ اس تجربے کی یادیں برقرار رہیں گی، قوموں کے درمیان مضبوط رشتے کو فروغ دیں گی اور مستقبل میں تعاون کوآگے بڑھائیں گی۔ حکام کے مطابق کشمیر کی بے مثال قدرتی خوبصورتی اور اس کے لوگوں کی گرمجوشی نے ایک بار پھر عالمی رہنماؤں کے دلوں اور دماغوں پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، جس نے اس خطے کو امن کی روشنی اور اس کے دلکش عجائبات کو تلاش کرنے کے خواہش مند مسافروں کے لیے ایک منزل قرار دیا ہے۔

اب جبکہ یہ دورہ اختتام پزیر ہوا ہے اور اس میں ڈھیر ساری اچھی باتیں کی گئی ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچھی باتوں، خطے کی تعریف و توصیف، فلموں اور ڈراموں کی یہاں شوٹنگ وغیرہ کے ضمن میں وعد و وعیدکو کیا کبھی عملی جامہ بھی پہننا نصیب ہوگا کہ نہیں۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کروڑوں روپے اور محنت شاقہ کے بعد کیا اس اجلاس سے مطلوبہ نتائج برآمد ہوئے بھی ہیں کہ نہیں ۔ بھارت کے ایک مقتدر صحافی بھارت بھوشن نے اس اجلاس سے متعلق اپنے ایک حالیہ مضمون جس کا عنوان ’’سری نگر میں جی 20پر ردعمل، بھارت کے لیے ایک سفارتی دھچکا‘‘ ہے میں لکھا ہے کہ سیاحت سے متعلق جی 20ورکنگ گروپ کی کشمیر میں میٹنگ کے بارے میںبے یقینی آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے۔ جی 20کے کچھ ممبران نے بالکل بھی شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کچھ نے اپنی شرکت کی لیول کو کم کر دیا ہے۔ بھوشن لکھتے ہیں کہ 2019ء میں ریاست کی تقسیم وغیرہ کے بعد یہ کشمیر میں سب سے بڑا بین الاقوامی ایونٹ ہورہا ہے ۔ جموں و کشمیر میں میٹنگ کا انعقاد، نہ صرف سیاحت کے لیے اپنی صلاحیت کو ظاہر کرنا تھا بلکہ عالمی سطح پر اس خطے میں استحکام اور معمول کی بحالی کا اشارہ دینا بھی تھا۔ مسٹر بھوشن لکھتے ہیں کہ حال ہی میں، صرف پاکستان نے جی 20 اجلاس کے لیے بھارت کے سرینگر کے انتخاب کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، اور الزام لگایا تھا کہ بھارت جموں و کشمیر میں ’’اپنے خود غرضی پر مبنی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی گروپ (جی20) کی رکنیت کا فائدہ اٹھا رہا ہے‘‘۔ پاکستان کے اس بیان کے بعد ہندوستان نے جموں و کشمیر سمیت ہندوستان میں کہیں بھی جی 20 اجلاس منعقد کرنے کے اپنے حق کا دفاع کیا اور کہا کہ پاکستان کو اس ضمن میں کوئی بات کرنے کا حق نہیں ہے۔لیکن اب چین اور ترکی نے سرینگر میں ہونے والے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے(واضح رہے کہ معروف خبر رساں پورٹل دی وائر کے مطابق سعودی عرب،مصر،اومان نے بھی اس اجلاس میں شریک ہونے سے معذرت کی ہے)۔ جی20 کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ ساتھ مہمان ممالک نے مبینہ طور پر اپنے قومی دارالحکومتوں کے نمائندوں کے بجائے صرف دہلی میں مقیم اپنے سفارت کاروں کو بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی شرکت کو کم کر دیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیاجی 20 کا سابق صدر انڈونیشیا ‘سرینگر اجلاس میں اپنا نمائندہ بھیجے گا۔ مسٹر بھوشن لکھتے ہیں کہ اہم بات یہ ہے کہ جی20ممبران اور دیگر کی طرف سے سرینگر اجلاس پر جو موقف اختیار کیا گیا تھا اس سے قبل اقوام متحدہ کے ایک اہلکار کے بیان میں کشمیر میں اجلاس منعقد کرنے پر ہندوستان پر تنقید کی گئی تھی ۔15مئی کو، اقلیتی مسائل پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے، فرنینڈ ڈی ورینس نے کہا،’’22تا 24مئی کو سیاحت سے متعلق ورکنگ گروپ کی جی20میٹنگ کا انعقاد کرکے، حکومت ہندجی 20میٹنگ کو ذریعہ بنا کر اور بین الاقوامی منظوری کی مہرلگا کر اس چیز کا جواز دینے کی کوشش کر رہی ہے جسے بعضوں نے فوجی قبضے کے طور پر بیان کیا ہے۔ مسٹر فرنینڈ ڈی ورینس نے جی 20کو متنبہ کیا کہ ’’ایک ایسے وقت میں جب انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں، غیر قانونی اور من مانی گرفتاریاں، سیاسی ظلم و ستم، پابندیاں اور یہاں تک کہ آزاد میڈیا اور انسانی حقوق کے محافظوں پر دبائو بڑھتا جا رہا ہے، نادانستہ طور پر’ سب ٹھیک ٹھاک ہے ‘کے پروپیگنڈے کو حمایت فراہم نہ کریں ۔ــ‘‘بھارت کی جانب سے ڈی ویرنس کے بیان کی مذمت کو ’’بے بنیاد اور غیر ضرور ی ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور فرنینڈ ڈی ورینس یا کسی اور کو اس پر سوال اٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔مسٹر بھوشن سوال کرتے ہیںکہ کیا مودی سرکار نے سرینگر میں جی 20 تقریب کے انعقاد کے ضمن میں حد سے بڑھ جانے کی غلطی کی ہے۔ جموں و کشمیر میں گورنر کی انتظامیہ نے ڈل جھیل پر گشت کرنے کے لیے میرین کمانڈوز کی تعیناتی اور فدائین حملوں اور انسداد ڈرون کارروائیوں کو روکنے کے لیے نیشنل سیکیورٹی گارڈ سمیت حفاظتی اقدامات میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ۔ کہا گیا کہ جموں و کشمیر پولیس کا اسپیشل آپریشن گروپ اور فوج عوامی احتجاج کو روکنے کے لیے شہر بھر میں چوکیاں قائم کریں گے۔ شہر بھر میں تقریباً یک ہزارسی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ، اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی طرف سے کانفرنس کے مقام پر روزانہ مشقیں ہوتی ہیں، جن میں بارودی سرنگوں کے خلاف آپریشن، بلٹ پروف گاڑیوں کو داخلی اور خارجی راستوں پر رکھنا شامل ہے۔ جلسہ گاہ، مقامی کانسٹیبلری کے ذریعے غیر مرئی پولیسنگ کی خصوصی تربیت، اور فضائی نگرانی کے لیے ڈرون۔مسٹر بھوشن لکھتے ہیں کہ سیکورٹی خدشات اتنے زیادہ ہیں کہ ریاستی انتظامیہ نے میڈیا کو وفود کے لیے ایک دن کا دورہ منسوخ کرنے کے امکان سے آگاہ کیا ہے۔ د اچھی گام نیشنل پارک (اور گلمرگ) میں مندوبین کا مجوزہ دورہ پہلے ہی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ان حالات میں، کیا مودی سرکار یہ سوچتی ہے کہ ایک خوبصورت جھیل کے قریب بند کانفرنس ہالوں میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے جس میں سمندری کمانڈوز گشت کر رہے ہیں، نگرانی کرنے والے ڈرونز کے ساتھ؟۔ بھوشن کے مطابق اس طرح کے اسٹیج ہونے والے واقعات یہ واضح کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں حالات معمول سے بہت دور ہیں۔ مسٹر بھوشن کے مطابق کچھ مثبت اقدامات اٹھائے جاتے تو یقیناً سرینگر میں منعقد ہونے والا جی 20 کا کامیاب اجلاس وزیراعظم جناب نریندر مودی کےلئے ایک بڑا اعزاز بنتا لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک غیر متوقع امکان ہے۔

’کچھ مثبت اقدامات اٹھائے جاتے تو یقیناً سرینگر میں منعقد ہونے والا جی 20 کا کامیاب اجلاس وزیراعظم جناب نریندر مودی کےلئے ایک بڑا اعزاز بنتا لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک غیر متوقع امکان ہے‘

یوں تو جی 20 کے اس تاریخ ساز اجلاس میں کئی کمیاں رہیں جنہوں نے اس کے مطلوبہ نتائج کو ظاہر نہیں کیا۔ ان میں ایک کمی کسی بڑے معاہدے یا ایم اے یوکا نہ ہونا بھی ہے ۔ ان سطور کے رقم ہونے تک کہیں سے یہ نہیں بتایا گیا کہ سیاحت یا فلمی سیاحت کے ضمن میں کن ممالک سے معاہدے یا ایم اے یوز ہوئے ۔بلکہ ابھی تلک میڈیا اس بات سے بھی بے خبر ہی ہے کہ آنے والے مہمانوں کا تعلق ،عہدہ یا منصب کیا تھا۔ پھر مرکزی حکومت کی جانب سے وزیراعظم مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ یا کم از کم وزیر خارجہ مسٹر جے شنکر اس اجلاس میں شرکت کےلئے آتے تو اس کی رونق اور مرتبے میں اضافہ ممکن تھا لیکن مرکز سے محض وزیر سیاحت اور وزیراعظم ہاؤس میں تعینات وزیر مملکت مسٹر جتندر سنگھ (جن کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے)ہی تشریف لائے اور یوں اجلاس ہائی پروفائیل ہونے کے باوجود لو پروفائیل بن گیا۔

اجلاس کے حوالے سے معروف اخبار انڈین ایکسپریس نے لکھا کہ جموںو کشمیر میں جی 20 کا اجلاس منعقد کرکے بھارت نے عالمی برادری کو پیغام دیا ہے کہ ملی ٹینسی کی وجہ سے کشمیریوں کی دو نسلیں برباد ہوئیں ہیں اور آج کشمیر بدل گیا ہے اور دنیا کے سامنے ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس میٹنگ میں29ممالک کے کل61 مندوبین شرکت کر رہے ہیںاور اگست 2019میں آرٹیکل 370کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں منعقد ہونے والا اس طرح کا پہلا بین الاقوامی پروگرام ہے۔اخبار کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مسٹر جتیندر سنگھ نے غیر ملکی مندوبین کو بتایا کہ جی20ٹورازم ورکنگ گروپ کی میٹنگ جموں و کشمیر کے لیےنئ توانائی حاصل کرنے اور نئے طور پرجنم لینے کا ایک لمحہ ہے۔مسٹر سنگھ وادی میں مثبت تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے برعکس اب یہاں ہڑتال کی کالیں لینے والے باقی نہیں ہیں۔ اگر اس طرح کی کوئی تقریب پہلے منعقد ہوتی تو اسلام آباد سے ہڑتال کی کال دی جاتی اور ریذیڈنسی روڈ (کے قلب میں) سرینگر کی دکانیں بند ہو جاتیں۔ اب ہڑتال نہیں ہے چاہے یہاں سے یا وہاں سے ہڑتال کی کال آئے،‘‘ انہوں نے کہا’’یہ تبدیلی آگئی ہے۔ سرینگر کی سڑکوں پر عام لوگ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نےکہ کشمیریوں نے عسکریت پسندی کی وجہ سےدو نسلیں کھو دی ہیں ‘ اب وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، انہوں نےفلم ٹورازم فار اکنامک اینڈ کلچرل پرزرویشن کے موضوع پر ایک ضمنی تقریب میں مندوبین سے خطاب کرتے امید ظاہر کی کہ مندوبین واپسی پر وادی کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ جب ہمارے دوست واپس جائیں گے تو وہ ہمارے سفیر ہوں گے۔اپنے خطاب میں مرکزی وزیر سیاحت جی کشن ریڈی نے کہا،’’فلم سیاحت سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے ایک طاقتور ذریعہ کے طور پر ابھری ہے، اور حکومت جموں و کشمیر میں اس کی ترقی کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کر رہی ہے‘‘۔اس موقع پر فلم ٹورازم پر قومی حکمت عملی کا مسودہ بھی جاری کیا گیا جس کا مقصد ہندوستان کو فلمی سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دینا ہے۔انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے، امریکی وفد کے سربراہ، فلپ کمنگز نے کہا، ’’ہمیں جی20کی حمایت کرنے اور سرینگر میں ورکنگ گروپ میٹنگ میں شرکت کرنے پر خوشی ہے۔‘‘واضح رہے کہ مسٹر جتندر سنگھ نے اس اجلاس میں چین کی عدم شرکت کو خود اس کےلئے نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ شرکت نہ کرکے چین نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ خود اپنا ہی نقصان کیا ہے۔اس سے قبل آئی سی سی میں مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے جموں کشمیر کے ایل جی مسٹر منوج سنہا نے کہا کہ ’’تقریباً 30سالوں سے، تقریباً تمام مذہبی فرقوں کے پرامن بقائے باہمی کی اس سرزمین کو ہمارے پڑوسی ملک کی طرف سے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے آگے کہا،’’ جموں و کشمیر اب ایک نئے دور کے لیےتیار ہے جو ترقی، تعمیر اور امن کا دور ہے۔ان کا دعویٰ تھا کہ آج جموں و کشمیر ملک کی ترقی یافتہ ریاستوں میں سے ایک ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

سرینگر میں جی 20 کے اجلاس کے ضمن میں معروف خبر رساں ویب پورٹل ’دی کوئنٹ‘ میں شائع ایک مضمون جسے شاکر میر نے تحریر کیا ہےنے اس ضمن میں لکھا ’’کہ جی20کی ایک اہم میٹنگ نے کشمیر کے ارد گرد کی سیاسی حساسیت کو دیکھتے ہوئے مقام کے انتخاب کے بارے میں ایک بحث کو جنم دیا ہے۔ سرینگر رنگوں سے سجا ہوا ہے۔ لیکن کچھ لوگوں نے سوال کیا ہے کہ جی20کا اجلاس ملک کے انتہائی شمال میں ایک عجیب و غریب کونے میں کیوں منعقد کیا جا رہا ہے جسے خانہ جنگی اور سیاسی تناؤ کی وجہ سے دیا جاتا ہے‘‘۔میر لکھتے ہیںکہ جی 20کے مندوبین کو جو وادی کے ارد گرد کا دورہ کریں گے، بڑھے ہوئے سیکورٹی حصار کا شاید ہی کچھ پتہ چلےگاکیونکہ سرینگر انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے 44کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے کہ سڑکوں پر موجود فوجی بنکر خوفناک پھیلاؤ کی طرح نظر نہ آئیں ۔پولیس اہلکار جو مندوبین کو لے جا رہے ہیں انہیں کم خوفزدہ دکھائی دینے کی تربیت دی جا رہی ہے جب کہ اگست2019سے ٹریفک جنکشن، کمرشل انکلیو اور مذہبی مقامات کے کھڑی کی گئی مسلح گاڑیوں کے بیڑے سے بھی لمحہ بھر کے لیے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے گا۔ مندوبین کے جانے کے بعد، شاید، وہ دوبارہ ظاہر ہو جائیں گی۔ کوئنٹ کے مطابق جی 20سے پہلے طمطراق اور وسیع تر تشہیر فتح پسندی کی ترجمانی کرتی ہے۔لیکن ایک خاص سطح پر، یہ ناکامی کی علامت بھی ہے۔کوئنٹ لکھتا ہے کہ اگر آپ بھی ’’نیا کشمیر‘‘ کی شان و شوکت اور اس کے اردگرد بڑھنے والے بیانیے سے مغلوب لوگوں میں شامل ہیں، تو آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ جموں و کشمیر اس وقت ملک میں سب سے زیادہ بے روزگاری کی شرح والی جگہوں میں سے ایک ہے۔اس کی سرمایہ کاری بھی گھٹ چکی ہے ۔یہ اعداد و شمار اصل میں دسمبر میں پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے تھے۔ تاہم، تنقید کے بعد، وزارت داخلہ نے جنوری میں اس اعداد و شمار پر نظر ثانی کی۔غیر معمولی تعداد میں سیاحوں کی آمد کو جموں اور کشمیر کی معیشت کے لیے ایک اعزاز کے طور پر پیش کی جارہا ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ مرکزی زیر انتظام علاقے کی جی ڈی پی میں سیاحت کا حصہ محض 6فیصد ہے۔اس کے بجائے سب سے بڑےذرائع خدمات کے شعبے اور زراعت ہیں جو 2019کے شٹ ڈاؤن کے دو جھٹکوں اور کووڈکی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے نتیجے میں بحران سے دوچار ہیں۔ حکومت کی جانب سے مقامی طور پر آلات کی خریداری کے رجحان کو روکنے اور آل انڈیا سطح کے مقابلے کے لیے دوبارہ ٹینڈر جاری کیے جانے کے بعد جموں و کشمیر کی چھوٹی صنعتیں بھی مشکلات کا شکار ہیں۔مسٹر میر لکھتے ہیں کہ ’’میرا مقصد اس بات کو اجاگر کرنا نہیں ہے کہ کشمیر کے پیچیدہ مسائل ہیں، بلکہ یہ کہ ایک منتخب حکومت صرف حقیقی نمائندہ کردار کے ساتھ ان کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے‘‘۔

بہرحال انتظامیہ اور حکومتی دعوے ایک طرف اور تنقید نگاروں کی آراء دوسری طرف رکھتے ہوئےایک عام آدمی کے ذہن میں سوالات ہیں کہ جی 20کا یہ تاریخ ساز اجلاس جوبخوبی و خیریت اب اختتام ہوچکا ہے اس کی زندگی بدلنے کےلئے کیسے اور کیونکر فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اجلاس سے قبل اور اجلاس کے دوران کئی سوالات ،خدشات اورتنقیدی نظریے اُبھارے گئے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا،لیکن اتنے طمطراق،تشہیر اور دقت طلب محنت کے بعد کیا اس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے ہیں ۔کیا اس اجلاس کی وجہ سے جموںو کشمیر میں سیاحت ،فلمی سیاحت کا دور دورہ ہوگا۔ یہ آنے والے ایام میں پتہ چل جائے گا۔ اس اجلاس کے سیاسی اور سفارتی اہداف بھی تھے اور یہ حکمران ہی بتاسکتے ہیں کہ ان اہداف کو کیا حاصل کرلیا گیا ہے یا پھر اس معاملے میں بھی ابہام اور شک و شبہے کی فضا ہنوز قائم ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ اجلاس جس طرح سے پرامن اور خیرو عافیت سے گزرا اسی طرح سے اس کے ثمرات بھی ظاہر ہوں گے اور واقعتاً عوام الناس کی زندگیاں بدل جائیں گی۔آنے والا وقت بتائے گا کہ جی20 کا یہ تاریخی اجلاس کیا اچھے دنوں کی نویدتھا یا نشستند و گفتند و برخاستند کا پرانا سلسلہ تھا۔ ہمارے لئے انتظار کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

اُمید کی جانی چاہئے کہ جی 20 اجلاس جس طرح سے پرامن اور خیرو عافیت سے گزرا اسی طرح سے اس کے ثمرات بھی ظاہر ہوں گے اور واقعتاً عوام الناس کی زندگیاں بدل جائیں گی

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

مضبوط بنیادی تعلیم، بہتر نظام کی ضمانت

Next Post

خبر کی رپورٹنگ کرنے کے لیےنکلا صحافی خود خبر بن گیا؛

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

سیاست میں ملوث، ایم ایل ایز کو نظرانداز کرنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی ہوگی: نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری

سیاست میں ملوث، ایم ایل ایز کو نظرانداز کرنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی ہوگی: نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری

28/01/2026
اجیت پوار کی موت کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کی جائے، ممتا بنرجی کا مطالبہ

اجیت پوار کی موت کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کی جائے، ممتا بنرجی کا مطالبہ

28/01/2026
یاسین ملک اب گواہ سے از خود جرح نہیں کر سکتے

یاسین ملک کیس: دہلی ہائی کورٹ میں این آئی اے کی سزائے موت کی اپیل پر 22 اپریل کو سماعت

28/01/2026
جموں و کشمیر میں طلبہ کی خودکشیوں کی روک تھام کے لیے ضلعی کمیٹیاں قائم

جموں و کشمیر میں طلبہ کی خودکشیوں کی روک تھام کے لیے ضلعی کمیٹیاں قائم

28/01/2026
اجیت پوار کی موت پر وزیر اعظم مودی، ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کا اظہار افسوس

اجیت پوار کی موت پر وزیر اعظم مودی، ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کا اظہار افسوس

28/01/2026
مہاراشٹر میں طیارہ حادثہ: نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار سمیت طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک

مہاراشٹر میں طیارہ حادثہ: نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار سمیت طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک

28/01/2026
Next Post
سرینگر میں گی جی20 کا تاریخ ساز اجلاس اچھے دنوں کی نوید یا نشستند و گفتند و برخاستند کا پرانا سلسلہ

خبر کی رپورٹنگ کرنے کے لیےنکلا صحافی خود خبر بن گیا؛

بڈگام قتل کیس : ملزم کے خلاف چارج شیٹ داخل

بڈگام قتل کیس : ملزم کے خلاف چارج شیٹ داخل

پی ایم مودی کل روزگار میلہ میں تقریباً 71 ہزار تقرری خط تقسیم کریں گے۔

وزیر اعظم مودی کا آسام روزگار میلہ سے خطاب؛ کہا کہ حکومتی نظام کو موجودہ دور کے مطابق خود کو بدلنا چاہیے۔

اننت ناگ میں نوجوان مردہ پایا گیا۔

اننت ناگ میں نوجوان مردہ پایا گیا۔

*ڈل جھیل سے ہزاروں مچھلیاں مردہ پائی گئیں*

*ڈل جھیل سے ہزاروں مچھلیاں مردہ پائی گئیں*

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »