• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
اتوار, فروری ۱, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح: حکومت مطمئن ،اپوزیشن کی تنقید اور بائیکاٹ

پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح: حکومت مطمئن ،اپوزیشن کی تنقید اور بائیکاٹ

شاہد لطیف

by امت ڈیسک
01/06/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

پارلیمنٹ کی نئی شاندار عمارت کا بالآخر 28 مئی 2023 ء کو افتتاح کردیا گیا ۔ بھارت کے’ سینٹرل وسٹا ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ ‘کے ایک حصے کے طور پر، نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی یہ نئی عمارت تعمیر کی گئی ہے ۔ اس کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا ۔ یہ شاندار عمارت سنساد مارگ پر واقع ہے جو سنٹرل وسٹا کو کراس کرتا ہے اور اس کے چاروں طرف مرکزی حکومت کی انتظامی اکائیاں جن میں پرانا پارلیمنٹ ہاؤس ، وجے چوک، انڈیا گیٹ ، نیشنل وار میموریل ، نائب صدر ہاؤس ، حیدرآباد ہاؤس ، سیکریٹریٹ بلڈنگ ، وزیر اعظم کا دفتر اور رہائش گاہ ، وزارتی عمارتیں اور دیگر شامل ہیں۔ یہ دارالحکومت نئی دہلی کے مرکز میں واقع راج پتھ کے دونوں طرف کا علاقہ ہے۔ راج پتھ کا نام بدل کر اب’’ کرتویہ پتھ ‘‘رکھ دیا گيا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پرانی پارلیمنٹ عمارت کے ڈھانچے کے ساتھ استحکام کے خدشات کی وجہ سے2010ء کی دہائی کے اوائل میں موجودہ کمپلیکس کو تبدیل کرنے کے لیے پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تجاویز سامنے آئیں۔ موجودہ عمارت کے کئی متبادل تجویز کرنے کے لیے ایک کمیٹی اس وقت کی اسپیکر میرا کمار نے 2012ءمیں قائم کی تھی۔ اصل عمارت، ایک96سال پرانی ڈھانچہ، پارلیمان کے ارکان اور ان کے عملے کے لیے ناکافی جگہ کا شکار تھی، اور ڈیزائن کی تبدیلیوں نے اس کے ساختی استحکام کو خطرے میں ڈال دیا کیونکہ یہ زلزلہ پروف نہیں تھی۔ اس کے باوجود، یہ عمارت ہندوستان کے قومی ورثے کے لیے اہم ہے، اور اس ڈھانچے کی حفاظت کے لیے منصوبے بنائے گئے ہیں۔ سینٹرل وسٹا کے دوبارہ ڈیزائن کے انچارج آرکیٹیکٹ بمل پٹیل کے مطابق، نئے کمپلیکس کی شکل6 تکونی یا ہیکساگونل ہے۔ اس عمارت کو 150سال سے زیادہ کی عمر کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسے زلزلہ مزاحم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس میں ہندوستان کے مختلف حصوں سے آر کی ٹیکچرل انداز کو شامل کیا گیا ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ایوانوں میں اس وقت موجود سے زیادہ اراکین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، کیونکہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کے نتیجے میں مستقبل کی حد بندی کے ساتھ ممبران پارلیمنٹ کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔نئے کمپلیکس میں لوک سبھا کے چیمبر میں 888 اور راجیہ سبھا کے چیمبر میں384سیٹیں ہیں۔ پارلیمنٹ کی پرانی عمارت کے برعکس اس میں مرکزی ہال نہیں ہے۔ لوک سبھا چیمبر مشترکہ اجلاس کی صورت میں 1272ممبران رکھنے کے قابل ہے۔ باقی عمارت چار منزلوں پر مشتمل ہے جس میں وزراء کے دفاتر اور کمیٹی روم ہیں۔ عمارت کا رقبہ20866مربع میٹر 224600فٹ مربع ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے 3داخلی دروازے ہیں، جن کا نام گیان دوار (علم کا دروازہ)، شکتی دوار (طاقت کا دروازہ) اور کرما دروازہ ( کرما گیٹ) ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے نئی دہلی اس نئی عمارت کا افتتاح کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ لوگوں کو بااختیار بنانے کا گہوارہ بنے گی۔ یہ عمارت خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ دے گی۔نئی عمارت کی افتتاحی تقریب کو ویدک طرز کی عبادات کے ساتھ شروع کیا گیا۔روایتی لباس میں ملبوس وزیر اعظم نریندر مودی گیٹ نمبر1سے پارلیمنٹ کے احاطہ میں داخل ہوئے۔ اسپیکر اوم برلا نے ان کا خیرمقدم کیا۔ کرناٹک کے شرنگیری مٹھ کے پجاری ویدوں کا جاپ کررہے تھے۔ وزیراعظم نے گنپتی ہومم (ہون) کیا۔ وزیراعظم سینگول کے سامنے جھکے اور ٹامل ناڈو کے مختلف ادھینم کے پجاریوں کا آشیرواد لیا۔ وہ سینگول اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے تھے۔ واضح رہے کہ یہ سینگول یا چھڑین چولا خاندان کے دور کا ہے، جوایک روایت کے مطابق لارڈ ماؤنٹ بیٹن، جو کہ آزاد ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل نے ہندوستان کی آزادی کے موقع پر پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو پیش کیا تھا جبکہ ملک کے موجودہ وزیر داخلہ امیت شاہ کا دعویٰ ہے کہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے 14اگست سنہ 1947ءکو تمل پجاریوں کے ہاتھوں اسے قبول کیا تھا۔امیت شاہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ نہرو نے اسے حکومت کی منتقلی کی علامت کے طور پر قبول کیا تھا۔ لیکن تاريخ دانوں کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور ان کے خیال میں نہرو نے حکومت کی منتقلی کی علامت کے طور پر تو اسے قطعی قبول نہیں کیا ہو گا۔بعد میں اسے الہ آباد (اب پریاگ راج) میں ایک میوزیم میں رکھ دیا گیا تھا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے تمل ناڈو کے ادھینم مٹھ سے یہ سینگول قبول کیا اور اسے نئی عمارت میں نصب کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ سینگول دراصل چاندی سے تیار کردہ ایک ’شاہی عصا‘ ہے، جس پر سونے کی پرت چڑھی ہے۔ اس پر ہندوؤں کے ایک بھگوان شیو کی علامت ’’نندی‘‘ کی شکل بھی بنی ہوئی ہے۔روایات کے مطابق جنوبی بھارت کے چول دور حکومت میں جب کوئی نیا راجہ بنتا تھا، تو اسے یہ ’’شاہی عصا‘‘ دیا جاتا تھا۔ بی جے پی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت دراصل اس عمل کے ذریعے بھارت میں ’’ہندو راشٹر‘‘ یا ہندو ریاست کے قیام کی جانب علامتی طور پر قدم بڑھا رہی ہے۔

بہرحال وزیراعظم مودی نے اس سینگول( چھڑی )کو جلوس کی شکل میں لے جاکر پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے اندر لوک سبھا چیمبر میں اسپیکر کی کرسی کے سیدھی جانب خصوصی انکلوژر میں رکھ دیا۔کئی مرکزی وزرا ءبشمول راج ناتھ سنگھ‘ امیت شاہ‘ ایس جئے شنکر‘ اشوینی ویشنو‘ من سکھ منڈاویہ اور جتیندر سنگھ کے علاوہ چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ‘ چیف منسٹر آسام ہیمنت بشواشرما اور بی جے پی صدر جے پی نڈا اس موقع پر موجود تھے۔ اس موقع پر ہمہ مذہبی دعائیہ اجتماع کا بھی اہتمام کیا گیا۔ وزیراعظم بعدازاں اسپیکر اور بعض دیگر ممتاز شخصیتوں کے ساتھ اولڈ پارلیمنٹ ہاؤس گئے۔نئی عمارت کا افتتاح کئی اپوزیشن جماعتوں کے بائیکاٹ کے بیچ ہوا جن کا اصرار تھا کہ صدرجمہوریہ دروپدی مرمو کو سربراہ ِ مملکت ہونے کے ناطہ عمارت کا افتتاح کرنا چاہئے تھا۔نئی عمارت ٹاٹا پراجکٹس لمیٹڈ نے تعمیر کی ہے۔ نئی عمارت کی تعمیر میں استعمال کردہ مٹیرئیل ملک کے مختلف حصوں سے منگوایا گیا۔ ساگوان کی لکڑی مہاراشٹرا کے ناگپور سے منگوائی گئی جبکہ ریڈ اینڈ وائٹ سینڈ اسٹون راجستھان کے سرمتھرا سے آیا۔ لال قلعہ اور ہمایوں کے مقبرہ کے لئے بھی سینڈ اسٹون سرمتھرا سے ہی آیا تھا ۔نئی عمارت میں تریپورہ کے بانس کا فرش اور چھت کا ڈھانچہ دمن۔دیو سے درآمد کیا گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اب پارلیمنٹ ہاؤس میں ملک کے ہر خطے کی جھلک نظر آئے گی۔ اس کا فرش تریپورہ کے بانس سے بنایا گیا ہے۔ قالین مرزا پور کا ہے۔ سرخ سفید ریت کا پتھر راجستھان کے سرماتھرا سے ہے۔ جبکہ تعمیر کے لیے ریت ہریانہ کے چرخی دادری سے منگوائی گئی ہے اور عمارت کے لیے ساگون کی لکڑی ناگپور سے منگوائی گئی ہے۔ عمارت کے لیے زعفرانی سبز پتھر ادے پور، اجمیر کے قریب ریڈ گرینائٹ لکھا اور راجستھان کے امباجی سے سفید سنگ مرمر درآمد کیا گیا ہے۔لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی فالس سیلنگ میں نصب اسٹیل کا ڈھانچہ دمن۔دیو سے درآمد کیا گیا ہے۔ جبکہ پارلیمنٹ میں نصب فرنیچر ممبئی میں تیار کیا گیا تھا۔ پتھر کی جالیوں کا کام راجستھان کے راج نگر اور نوئیڈا سے کیا گیا تھا۔اشوک ستون کے لیے مواد مہاراشٹر کے اورنگ آباد اور راجستھان کے جے پور سے منگوایا گیا تھا۔ دوسری طرف لوک سبھا۔راجیہ سبھا کی بڑی دیوار اور پارلیمنٹ کے باہر نصب اشوک چکر اندور سے لائے گئے ہیں۔پتھروں پر نقش و نگار ابو روڈ اور ادے پور کے مجسمہ سازوں نے کیے ہیں۔ یہ پتھر راجستھان کے کوٹ پٹلی سے لائے گئے تھے۔ فلائی ایش کی اینٹیں ہریانہ اور اتر پردیش سے منگوائی گئیں، جب کہ پیتل کا کام اور سیمنٹ کی خندقیں احمد آباد سے لائی گئیں۔ نئی پارلیمنٹ عمارت میں لوک سبھا کی عمارت کو قومی پرندے مور کی تھیم پر اور راجیہ سبھا کو قومی پھول کنول کی تھیم پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔نئی عمارت میں ایک عظیم الشان کانسٹی ٹیوشن ہال ہوگا جوبھارت کے جمہوری ورثے کی عکاسی کرے گا۔بھارت کے آئین کی اصل کاپی بھی وہیں رکھی جائے گی۔

واضح رہے کہ اس نئی عمارت کا سنگ بنیاد 10دسمبر 2020کو رکھا گیا تھا۔ تعمیر2021کے اوائل میں شروع ہوئی تھی اور تکمیل میں2سال سے زائد وقت لگا۔ افتتاحی تقریب کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ’ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا جیسے ہی افتتاح ہوا ہمارے دل و دماغ فخر، امید اور وعدے سے بھر گئے۔ خدا کرے کہ یہ شاندار عمارت بااختیار بنانے کا گہوارہ بنے، خوابوں کو روشن کرے اور ان کی پرورش کرے۔ یہ ہماری عظیم قوم کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچائے۔‘نئے پارلیمنٹ ہاؤس کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ ’آج ایک مبارک موقع ہے۔ ملک آزادی کے75سال مکمل ہونے پر جشن منا رہا ہے۔ ’میں اس موقع پر تمام ہم وطنوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ صرف ایک عمارت نہیں، یہ 140کروڑ بھارتی شہریوں کی امنگوں کی عکاس ہے۔ یہ ہماری جمہوریت کا مندر ہے۔‘جبکہ حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے اس سے قبل نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے افتتاحی پروگرام کے متعلق کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس عمارت کے افتتاح کو اپنی ’تاجپوشی‘ (کی تقریب) سمجھ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پارلیمان کی نئی عمارت شروع سے ہی تنازعے کا شکار رہی ہے کیونکہ یہ وسیع سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کا حصہ ہے اور حزب اختلاف نے اسے فضول خرچی قرار دیا تھا۔پارلیمان کی نئی عمارت کا بائیکاٹ مودی کے ہاتھوں افتتاح کے معاملے پر ہے۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اس کا افتتاح بھارت کی صدر دروپدی مرمو کے ہاتھوں ہونا چاہیے تھا۔میڈیا کو جاری کیے جانے والے ایک مشترکہ بیان میں19اپوزیشن جماعتوں نے مودی کے ہاتھوں افتتاح کونا صرف سنگین توہین بلکہ جمہوریت پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ ان جماعتوں کا موقف ہے کہ وہ نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے مخالف نہیں لیکن مودی کے ذریعے افتتاح کے خلاف ہیں۔ان کا یہ موقف بھی ہے کہ پارلیمنٹ کی عمارت کا افتتاح ایک اہم موقع ہے اور اس لحاظ سے انھوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہ ہمارے اس یقین کے باوجود کہ حکومت جمہوریت کو خطرے سے دو چار کر رہی ہے، اور جس آمرانہ انداز میں نئی پارلیمنٹ کی تعمیر کی گئی ہے اس پر ہماری ناراضگی کے باوجود ہم اپنے اختلافات کو ختم کرنے اور اس موقع کو یادگار بنانے کے لیے تیار ہیں۔حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ صدر مملکت نا صرف ریاست کا سربراہ ہوتا ہے بلکہ پارلیمنٹ کا ایک لازمی حصہ بھی ہے کیونکہ وہی اسے طلب کرتا ہے، ملتوی کرتا ہے اور وہی اس سے خطاب بھی کرتا ہے۔مختصر یہ کہ پارلیمنٹ صدر کے بغیر کام نہیں کر سکتی، اس کے باوجود وزیر اعظم نے ان کے بغیر پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ غیر مہذب فعل صدر کے اعلیٰ عہدے کی توہین ہے، اور آئین کی حرف اور روح دونوں طرح سے خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ سب کی شمولیت کے جذبے کی نفی کرتا ہے جس کے تحت قوم نے اپنی پہلی آدیواسی (قبائلی) خاتون کو صدر بنتے دیکھا ہے۔تاہم حزب اختلاف کی کم از کم پانچ پارٹیوں نے اس افتتاح میں شامل ہونے کا کہا ہے۔

سوشل میڈیا کی ویب سائٹوں پر اس عمارت پر تعریف اور تنقید دونوں کی جا رہی ہیں۔پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے افتتاح سے قبل بالی وڈ سٹار شاہ رخ خان نے مائی پارلیمنٹ مائی پرائڈ کے ہیش ٹیگ کے تحت نئی عمارت کی تعریف کی ہے اور اسے امیدوں کا نیا گھر کہا ہے۔دوسری جانب معروف وکیل اور سوشل ایکٹوسٹ پرشانت بھوشن نے لکھا’مودی ہمیں ایک ایسے نئے بھارت کی ایک جھلک دکھاتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ ہمارا آئین ریاست میں مذہب کی مداخلت کی اجازت نہیں دیتا، لیکن یہاں یہ نظر آرہا ہے!۔راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا موازنہ تابوت سے کیا ہے۔ پارٹی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ٹویٹ کی گئی تصویر میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے ساتھ تابوت کی تصویر لگاتے ہوئے پوچھا ہے کہ یہ کیا ہے؟

’’ نئی پارلیمنٹ کی عمارت بنانے پر فخر کرنے والوں نے جموں و کشمیر کے اسمبلی کمپلیکس کو فلم کی شوٹنگ کے لیے کرائے پر دے رکھا ہے‘‘

جموںو کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے بھی نئی پارلیمان کے حوالے سے دلچسپ بیانات داغے۔نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جن کی پارلیمان میں موجودگی ہے‘ نے افتتاحی تقریب کا بائیکاٹ کیا لیکن اس کے باوصف نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نئی پارلیمانی عمارت کی تعریف میں رطب اللسان نظر آئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ افتتاح کے بارے میں اختلاف کو ایک لمحے کے لئے پرے رکھ رکھیں ، یہ عمارت ایک خوش آئند اضافہ ہے۔ پرانے پارلیمنٹ ہاؤس نے ہماری اچھی خدمت کی ہے لیکن ایک ایسے شخص کے طور پر جس نے وہاں کچھ سال کام کیا ہے، ہم میں سے اکثر لوگ ایک نئی اور بہتر پارلیمنٹ کی عمارت کی ضرورت کے بارے میں آپس میں بات کرتے تھے۔عمر عبداللہ نے ہندوستانی پارلیمنٹ کی نئی عمارت کو خوش آئند اضافہ قرار دیا اور کہا کہ ’’یہ بہت متاثر کن ہے ‘‘ ۔اس حوالے سے پیپلز کانفرنس کے لیڈر سید بشارت بخاری نے بھی ایک دلچسپ بیان دیا ۔ بخاری کا کہنا تھا کہ ’’اگرچہ وہ پارلیمنٹ کے لیے نئی عمارت بنانے کے خیال کے خلاف نہیں ہے، لیکن یہ افسوسناک ہےکہ جموں و کشمیر میں جمہوری عمل کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ ‘‘انہوں نے الزام لگایا کہ’’ نئی پارلیمنٹ کی عمارت بنانے پر فخر کرنے والوں نے جموں و کشمیر کے اسمبلی کمپلیکس کو فلم کی شوٹنگ کے لیے کرائے پر دے رکھا ہے۔‘‘ پی سی کے نائب صدر اور میڈیا سربراہ سید بشارت بخاری نے مختصر بات چیت میں افسوس کا اظہار کیا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو وہی لوگ بنیادی بنیادی اور جمہوری حقوق سے محروم کر رہے ہیں جو جمہوریت کے چیمپئن ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔’’ہمارے جمہوری حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے اور آپ مجھ سے پارلیمنٹ کے بارے میں تبصرہ کرنے کو کہہ رہے ہیں۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ نئی پارلیمانی عمارت کا افتتاح بہتر ہے لیکن ہماری اسمبلی کو فلم کی شوٹنگ کےلئے کرایہ پر دینا جمہوریت کی کون سی خدمت ہے۔
جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ پارلیمان کی افتتاحی تقریب پر مختلف مذاہب کی مقدس کتابوں یا عبادات کا بھی اہتمام کیا گیا ۔افتتاح کی اس تقریب کے دوران قرآن کی سورۃ الرحمٰن کی چند آیات بھی تلاوت کی گئیں، جس کا تذکرہ بطور خاص پاکستان اوربھارت کے سوشل میڈیا پر کیا جا رہا ہے۔اس موقع پر وزیر اعظم اپنی کابینہ کے ارکان کے ساتھ موجود تھے اور خاموشی کے ساتھ تمام مذاہب کے کلام کو سُن رہے تھے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

*شرپسند جعلی ویب سائٹ کے ذریعے طلباء کو جعلی سرٹیفکیٹ، ڈپلومے دے کر گمراہ کررہے ہیں: JKBOSE*

Next Post

جموںو کشمیر میں اُردو صحافت( ابتدا ء تا حال) کا تجزیاتی مطالعہ

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

جموں و کشمیر میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ناگزیر، باہر کے دباؤ سے تحفظ ضروری: عمر عبداللہ

جموں و کشمیر میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ناگزیر، باہر کے دباؤ سے تحفظ ضروری: عمر عبداللہ

31/01/2026
سجاد لون کی میوہ صنعت کو نقصان پہنچنے پر حکومت کی تنقید

مہراج ملک کو غلط طور پر حراست میں رکھا گیا، ان کے خلاف کوئی مضبوط مقدمہ نہیں: سجاد لون

31/01/2026
ایران کا آبنائے ہرمز میں دو روزہ لائیو فائر بحری مشقوں کا اعلان، امریکی جنگی جہازوں کے قریب سرگرمیاں

ایران کا آبنائے ہرمز میں دو روزہ لائیو فائر بحری مشقوں کا اعلان، امریکی جنگی جہازوں کے قریب سرگرمیاں

31/01/2026
کشمیر میں 10 فروری تک بھاری برف باری کا کوئی امکان نہیں

کشمیر میں 10 فروری تک بھاری برف باری کا کوئی امکان نہیں

31/01/2026
ادھمپور میں سیکیورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوکے درمیان تصادم شروع

کشتواڑ میں سیکیورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان جھڑپ

31/01/2026
اسپیکر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے آل پارٹی، بزنس ایڈوائزری کمیٹی اجلاس کی صدارت کی

اسپیکر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے آل پارٹی، بزنس ایڈوائزری کمیٹی اجلاس کی صدارت کی

30/01/2026
Next Post
پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح: حکومت مطمئن ،اپوزیشن کی تنقید اور بائیکاٹ

جموںو کشمیر میں اُردو صحافت( ابتدا ء تا حال) کا تجزیاتی مطالعہ

تمباکو نوشی صحت فروشی

تمباکو نوشی صحت فروشی

پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح: حکومت مطمئن ،اپوزیشن کی تنقید اور بائیکاٹ

جہلم میں ہاؤس بوٹ ڈوبنے کے متعدد واقعات؛ ہوس بوٹ مکین انتظامیہ سے نالاں کیوں؟

دوسال سے ماں کی قبرپر رہنے والےبچےکی دلسوز کہانی

دوسال سے ماں کی قبرپر رہنے والےبچےکی دلسوز کہانی

دوسال سے ماں کی قبرپر رہنے والےبچےکی دلسوز کہانی

مبینہ روسی ’جاسوس وھیل‘ سویڈن جا پہنچی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »