امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس ائی يو) نے سرینگر کی این آئی اے عدالت میں ایک ہلاک اور دو سرگرم لشکر طیبہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز عدالت کے سامنے پیش کی گئی چارج شیٹ کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے سرینگر پولیس نے کہا ہے کہ ایف آئی آر نمبر 50/2022، جو دو سرگرم اور ایک ہلاک شدہ عسکریت پسند کے خلاف صورہ پولیس اسٹیشن میں درج ہے، تعزیرات ہند کی دفعہ 307، 302، آرمز ایکٹ کی دفعہ 7/270 کے علاوہ یو اے پی اے کی دفعات 13، 16، 18، 20 اور 38 کے تحت درج کی گئی ہے۔
معاملے کی مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے پولیس کا کہنا تھا کہ 24 مئی 2022 کو نامعلوم عسکریت پسندوں نے ایک پولیس اہلکار سیف اللہ قادری ولد محمد سید قادری اور اس کی نابالغ بیٹی صفا قادری ساکن ملک شب صورہ سرینگر پر فائرنگ کی، جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور اس کی کمسن بیٹی زخمی ہوگئی۔
پولیس کا مزید کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران تین عسکریت پسند کی، جن کی شناخت باسط احمد ڈار ولد عبدالرشید ڈار ساکنہ ریڈوانی قائمو کولگام، مومن گلزار میر ولد گلزار احمد میر ساکن فردوس کالونی عیدگاہ سرینگر اور عادل احمد پارے ولد حبیب اللہ پارے ساکنہ بدر گنڈ گاندربل کے طور پر ہوئی ہے، عسکریت پسندی کے جرائم میں ملوث پائے گئے۔ اس کے علاوہ عسکری حملے میں استعمال ہونے والی اسکوٹی زیر رجسٹریشن نمبر JKO2CB-1268 بھی قبضے میں لے لی گئی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس جون مہینے کی 12 تاریخ کو سرینگر کے سنگم علاقے میں پولیس کے ساتھ ایک تصادم میں ایک ملزم عادل احمد پارے کو ہلاک کیا گیا جبکہ دیگر دو ملوث عسکریت پسند اب بھی سرگرم ہیں اور کالعدم عسکری تنظیم ایل ای ٹی/ٹی آر ایف سے منسلک ہیں۔ وہیں معاملے کی مزید تحقیقات سی ار پی سی کے سیکشن 173(8) کے تحت جاری ہے۔ وہیں دیر شام کو سرینگر پولیس نے تینوں عسکریت پسندو کی تصویریں اپنے ٹوئٹر پوسٹ کے ذریعے شائع بھی کے ہے۔










