امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے پیر کو تین ملازمین کو برطرف کرنے پر جموں و کشمیر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سماجی رابطہ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنا بیان جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایل جی انتظامیہ جموں و کشمیر میں ٹوٹ پھوٹ کی مستقل حالت کو ادارتی شکل دے رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب ریاست بے روزگاری سے دوچار ہے، ’دہشت گردی کے روابط‘ کی مضحکہ خیز وجوہات کی بنیاد پر لوگوں کے معاش کو کریمنلائز کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو ذریعہ معاش سے محروم کیے جانے کی وجہ سے عدم اعتماد مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ سب بھارتی آئین کے آرٹیکل 311 (2)b کا غلط استعمال کرتے ہوئے کیا جا رہا ہے۔”
واضح رہے کہ خطے کی انتظامیہ نے آج تین سرکاری ملازمین کو عسکریت پسندی اور علیحدگی پسندی کی مبینہ حمایت کرنے کے الزام میں نوکریوں سے برطرف کر دیا۔ ذرائع کے مطابق ایل جی انتظامیہ نے ان ملازمین کو آئین ہند کے دفعہ 311 کے تحت برطرف کیا۔ برطرف کے گئے ملازمین میں یونیورسٹی آف کشمیر کے پبلک ریلیشن آفیسر فہیم اسلم، محکمہ مال کے ملازم مروت حسن میر اور جموں و کشمیر پولیس کانسٹیبل ارشد احمد ٹھوکر شامل ہیں۔ اب تک انہی وجوہات پر نوکری سے برطرف کے گئے ملازمین کی تعداد 52 ہو گی ہے۔









