الیکشن کمیشن نے جموں وکشمیر میںپنچایتی انتخابات کا بگل بجاکر‘مستقبل قریب میںیہاں اسمبلی انتخابات پر بحث پر لگام کس دی ہے۔ یوں ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی سرکار جیسا کہ اس کا دعویٰ ہے یہاںپنچایتی الیکشن کراکر بقول اس کے زمینی سطح پر جمہوریت کو استحکام بخشنے کا کام کرنا چاہتی ہے اور ہر حال میں اس میں تسلسل کی روادار ہے۔اس حقیقت کی غمازی مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے 23 جون2023ء کو دیئے گئے بیان سے ہوتی ہے جس میں موصوف نے کہا کہ کوئی بھی طاقت ان کی حکومت کے شروع کردہ پنچائت راج پہل کو منسوخ نہیں کرسکتی ہے اور یہ کہ جموںو کشمیر میں ہمیشہ پنچایت الیکشن ہوتے رہیں گے۔ اگرچہ یہاں کی جملہ سیاسی جماعتیں اس دعوے کو صریح مذاق سے تعبیر کررہی ہیں اور اسے بی جے پی حکومت کے اسمبلی الیکشن میں ہار کے خوف سے بھاگنے سے تعبیر کرتی ہیں لیکن اس کےباوصف یہی جماعتیں 2018ء میں ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے اپنے عمل کو صریح غلطی مان چکی ہیں ۔
حال ہی میں تعینات کئے گئے الیکشن کمشنر بی آر شرما کہتے ہیں کہ مجوزہ انتخابات اکتوبر،نومبر تک کرائے جائیں گے۔ ان انتخابات کے انعقاد کو آئینی اور قانونی ضرورت قرار دیتے ہوئے ریاستی الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں موجودہ پنچایتی اداروں کی میعاد10جنوری 2024ءکو ختم ہو رہی ہے اسلئے ضروری ہے کہ انہیں بلا تاخیر منعقد کیا جائے۔ایک مقامی روزنامے سے بات کرتے ہوئے الیکشن کمشنر نے کہا ہےکہ قانون میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ موجودہ پنچایتی ادارے کی میعاد ختم ہونے سے ایک ماہ قبل انتخابات کرائے جائیں۔لہٰذا، اگر میعاد 10جنوری، 2024ءکو ختم ہوتی ہے، تو انتخابات10دسمبر تک ہونے چاہئیں، اور انتخابات کے انعقاد کا پورا عمل اکتوبر۔نومبر، 2023ءتک کرایا جانا چاہیے کیونکہ قوانین کا یہی تقاضہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی لیےمتوقع ہے کہ مذکورہ انتخابات اس سال نومبر اور دسمبر کے درمیان ہوں گے۔تیاریوں کے حوالے سےموصوف کا کہنا تھا کہ ان کے پیشرو انتخابی فہرستوں کی تیاری پر کافی کام کر چکے ہیں،میں اس کا بھی جائزہ لے رہا ہوں۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ جنوری 2023ءکے حوالہ کی بنیاد پر ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، اور جو بھی رہ گیا ہے اسے شامل کرنے کے لیے ایک خصوصی نظرثانی بھی کی جائے گی۔بی آرشرما کا کہنا ہےکہ ایک خصوصی سمری پر نظرثانی بھی کی گئی تھی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ فہرست سے خارج کسی کو بھی اس میںشامل کیا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ اگر ہمیں کسی تضاد کا شبہ ہوتا ہے، تو محتاط رہنا بہتر ہے اور ہماری کوششیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ کوئی بھی ووٹر فہرست سے باہر نہ رہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ، ’’مغربی پاکستانی پناہ گزینوں، والمیکیوں، گورکھوں وغیرہ کے نام پہلے ہی ووٹر لسٹوں میں شامل کر دیے گئے ہیں اور وہ ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔‘‘
کچھ حلقوں کے اس مطالبے پر کہ پنچایتوں کے تینوں درجوں بشمول ضلع ترقیاتی کونسلوں ( ڈی ڈی سی)بلاک ترقیاتی کونسلوں (بی ڈی سی )اور پنچایتوں کے انتخابات ایک ساتھ ہونے چاہیے جیسا کہ دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ہوتا ہے، الیکشن کمشنرکا کہنا ہے کہ ہر منتخب ادارے کی مدت 5سال مقرر کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس میں تبدیلی لانی ہے تو حکومت کے سامنے مطالبہ رکھا جانا چاہئے۔ان سے جب سوال کیا گیا کہ آیایہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے یا غیر جماعتی بنیادوں پر توان کا کہنا تھا کہ دونوں طرح کے یعنی جماعتی بنیادوں پر یا غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانے کی دفعات موجود ہیں، لیکن پچھلے انتخابات کی طرح نچلی سطح پر جمہوریت کو مضبوط تر کرنے کےلئے اگریہ الیکشن غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے گئے تو کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ان کا مذید کہنا تھا کہ طریقہ کار طے کرنے کا اختیار حکومت کے پاس ہے اورحتمی فیصلہ حکومت کرے گی اور الیکشن کمیشن اس کے مطابق آگے بڑھے گا۔
بادی النظر میں محسوس ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن اس انتخابی عمل کو 2018ء کی طرح غیر جماعتی بنیادوں پر ہی کرانا چاہتی ہے ۔موجودہ پنچایتی اداروں کی طرف سے انتخابات کو مؤخر کرنے کی درخواست کے بارے میں شرما نے کہا ہےکہ مدت کا تعین قانون کے ذریعے کیا گیا تھا اور جنوری2024ءمیں اس کی میعاد ختم ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس قانون میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی ہے، اور میعاد میں تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔شرما نے کہا کہ جو بھی شخص یکم جنوری 2023ءکو یا اس سے پہلے18سال کی عمر کو پہنچ گیا ہے وہ ووٹ دینے کا اہل ہے۔ الیکشن کے انعقاد کےلئے انتظامات کے بارے میں الیکشن کمشنر نے کہا کہ انتظامیہ سکیورٹی سمیت تمام انتظامات کا خیال رکھتی ہے۔انہوں نے کہا،اس بار سیکورٹی کی صورتحال بہتر نظر آرہی ہے، اور ضرورت کے مطابق تمام ضروری انتظامات کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات کے لیے دیگر تمام انتظامی اقدامات ٹریک پر ہیں۔شرما نے کہا کہ انتخابات کے لئے سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کئے جائیں گے اور انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ لوگوں کی زیادہ سے زیادہ انتخابی عمل میںشرکت کرےگی۔ الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں پنچایتیں اور میونسپلٹی اس سال اکتوبر۔نومبر میں اپنی پانچ سالہ مدت پوری کریں گی جبکہ لوک سبھا انتخابات اگلے سال اپریل۔مئی میں شیڈول ہیں۔انہوں نے اسمبلی انتخابات کی تاریخ کی وضاحت نہیں کی جو جون 2018ءمیں بی جے ،پی ڈی پی اتحاد کے ٹوٹنے کے بعد سےنہیں ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ اتحاد کے ٹوٹنے کے بعد سابقہ ریاست کو مرکزی حکومت کے تحت لایا گیا تھا۔ یہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مقننہ کے ساتھ کسی بھی ریاست یا یو ٹی میں نوکر شاہی کی حکمرانی کا تیسرا طویل ترین دور ہے۔مارچ کے مہینے میں نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی قیادت میں جموں و کشمیر کے رہنماؤں کے ایک وفد نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) سے ملاقات کی تھی اور مطالبہ کیا تھاکہ اسمبلی انتخابات کا اعلان بلا تاخیر کیا جائے۔ تاہم ای سی آئی کی جانب سے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ15 اگست 2020ءکو یوم آزادی کی اپنی تقریر میں، وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ جموں و کشمیر میں حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہونے کے بعد انتخابات کرائے جائیں گے۔ تقریباً ایک سال بعدوزیراعظم نے 24جون2021ءکو نئی دہلی میں جموں و کشمیر کے سیاست دانوں کے ساتھ ایک آل پارٹی میٹنگ کی صدارت کرنے کے بعد بھی اسی طرح کی یقین دہانی کرائی تھی۔
یادرہے کہ جموںو کشمیر میں پچھلے پنچایتی انتخابات 17نومبر سے 11دسمبر 2018ءتک کرائے گئے تھے جبکہ اُسوقت یہ الیکشن تقریباً4378پنچایتوں میں ہوئے تھے۔ مذکورہ پنچایتی انتخابات17،20،24،27،29 نومبر،یکم،4،8 اور11 دسمبر 2018ءکو ہوئے تھے، جبکہ ووٹوں کی گنتی پولنگ کے آخری دن کی گئی تھی۔اُسوقت چونکہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی بڑی سیاسی جماعتوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اسلئے کشمیر داوی میں ووٹنگ کی شرح کم رہی تھی لیکن جموں ڈویژن میں بڑی تعداد میں لوگوں نے ووٹ ڈالے تھے اور اپنےمن پسند امیدواروں کو کامیاب بنایا تھا۔
بلاک ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات تقریباً ایک سال بعد ہوئے تھے جبکہ ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات دسمبر2020ءمیں کرائے گئے تھے۔2018ءمیں، شہری بلدیاتی انتخابات اکتوبر میں ہوئے تھے اور اس کے بعد پنچایتی انتخابات ہوئے تھے۔ اس سال بھی پنچایتی انتخابات سے قبل میونسپل انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔2018ءمیں یو ایل بی کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوئے تھے۔بلاک ڈیولپمنٹ کونسلز(بی ڈی سی) کی میعاد اکتوبر 2024ءمیں ختم ہو جائے گی جبکہ ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسلز (ڈی ڈی سی)9جنوری2026ءمیں اپنی مدت پوری کریں گی۔عام طور پر پنچایتی راج نظام کے تینوں درجوں کے انتخابات ایک ساتھ ہوتے ہیں۔ تاہم، چونکہ جموں و کشمیر میں پہلی بار ڈی ڈی سی کے انتخابات ہوئے تھے، اس لیے ان کی اور پنچایتوں کی میعاد میں دو سال کا وقفہ تھا جب کہ پنچایتوں اور بی ڈی سی کی مدت میں ایک سال کا فرق تھا۔جب گزشتہ سال خصوصی سمری نظرثانی کی گئی تھی اور آخری انتخابی فہرستیں گزشتہ سال 25نومبر کو شائع کی گئی تھیں ،جموں و کشمیر میں رائے دہندگان کی تعداد رتراسی اعشاریہ انسٹھ لاکھ تک پہنچ گئی تھی ۔ اس سال الیکشن کمیشن کی جانب سے خصوصی سمری پر نظرثانی کی گئی اور 27 مئی کو حتمی فہرستیں شائع کی گئیں تو یہ تعداد مزید8 اعشاریہ5ملین بڑھ گئی ہے۔
یہ بات تحریر کی جاچکی ہے کہ 2018ء میں ہونے والے پنچایت الیکشن کا جموں وکشمیر کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے بائیکاٹ کیا تھا جبکہ حریت بھی ان کے خلاف تھے۔ اسوقت 35اے کی منسوخی کے ضمن میں عدالت عالیہ میں ایک مقدمہ چل رہا تھا جس کو لے کر نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے بائیکاٹ کردیا تھا لیکن بعد ازاں یہ دونوں جماعتیں اپنے فیصلے پر خود تنقید کرتی نظر آئیں۔ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے تو بائیکاٹ کو ایک سنگین غلطی تک تسلیم کیا تھا۔ 5 دسمبر2022ء کو پارٹی ڈیلی گیشن سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ2018ء کے الیکشن کا بائیکاٹ ایک سنگین غلطی تھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے اس فیصلے کو بھی نکار دیا تھا کہ جس کے تحت عمر عبداللہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ جموں وکشمیر کی ریاست کی بحالی تک الیکشن میں حصہ نہیں لیںگے۔ بوجوہ اس بار یہ جماعتیں اس مجوزہ انتخابی عمل سے الگ نہیں رہیں گی۔
چونکہ پچھلے ایک برس سے کئی اہم عہدیداروں اور لیڈران کے بیانات سے یہ بات مظہر ہورہی تھی کہ جموںو کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے بجائے بلدیاتی اور پنچایتی الیکشن ہی کرائے جائیں گے اس لئے پچھلے کچھ عرصے سے کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے اس ضمن میں گائوں اور قصبہ جات کے اندر اپنی موجودگی کے احساس کو اُجاگر کرنے کی نیت سے کاوشیں شروع کررکھی ہیں۔ کچھ سیاسی مبصرین تو اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری کے کچھ حریت لیڈران کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں کو بھی پنچایت اور بلدیات کےلئے ہونے والے مجوزہ انتخابات کی عینک سے دیکھ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ الطاف بخاری کے یہ اقدامات ماضی میں پی ڈی پی کی جانب سے اٹھائے گئے ایسے ہی اقدامات کے مترادف ہیں اور ان کے ذریعے الطاف بخاری ایک مخصوص اور خاصے مؤثر طبقے کی ہمدردیاں بٹورنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پی سی،اپنی پارٹی وغیرہ نے بھی کچھ عرصے سے جماعتیں سرگرمیاں شروع کررکھی ہیں جو بظاہر آنے والے پنچایت اور بلدیاتی الیکشن کی ہی تیاریاں ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر جموںو کشمیر میں ہونے والے اس بڑے اور وسیع انتخابی عمل میں یہاں کی مقامی سیاسی جماعتیں کیسے حصہ لیں گی۔ کیا ان جماعتوں کے درمیان کسی قسم کا اتحاد،الائینس یا کم از کم سیٹ ایڈجسمنٹ ہوگا کہ سبھی علیحدہ علیحدہ الیکشن میں کود پڑیں گی۔ سب سے بڑھ کر گپکار الائینس میں شامل جماعتوںکا معاملہ ہے کہ کیا یہ جماعتیں آنے والے بلدیاتی و پنچایتی الیکشن میں اکٹھے مل کر لڑیں گی کہ الگ الگ ہوکر۔ اس ضمن میں ماضی میں ہونے والے ڈی ڈی سی الیکشن کی مثال سب کے سامنے ہے جس میں گپکار الائینس نے اکٹھے مل کر بی جے پی اور اسکی ہم نوا جماعتوں کا مقابلہ کیا اور تاریخ ساز کامیابی حاصل کی۔
ہم نے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے دوسرے درجے کے کئی لیڈران سے اس ضمن میں بات کی اور ان کے اندروں کو جاننے کی جستجو کی ۔ نام نہ لینے کی شرط پر نیشنل کانفرنس کے لیڈر کا کہنا تھا کہ کم از کم پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کو جموں ڈویژن کے علاقوں میں مل کر الیکشن لڑنے کی کوشش کرنا چاہئے ۔ان کا کہنا تھا کہ جموں ڈویژن میں کانگریس اور غلام نبی آزاد کی ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی کے علاوہ چوہدری لال سنگھ کی ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن کا بھی ووٹ بینک ہے اور ایسے میں اگر پی ڈی پی و نیشنل کانفرنس اکھٹے ہوکر الیکشن لڑتے ہیں تو ان کی جیت یقینی ہوسکتی ہے۔ پی ڈی پی نمائندے کا کہنا ہے کہ وہ تو چاہتے ہیں کہ جموں کے ساتھ ساتھ کشمیرمیں بھی گپکار الائینس کی جماعتیں مل کر الیکشن لڑیں کیونکہ یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے بی جے پی اور اسکی ہم نوا جماعتوں کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سجاد غنی لون کی پیپلز کانفرنس اور سید الطاف بخاری کی اپنی پارٹی کو گپکار الائینس میں شامل اکثر جماعتوں کے لیڈران بی جے پی کی ہم نوا جماعتیں مانتے ہیں جبکہ ان دونوں کو اس سے شدید اختلاف ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ یہ دونوں جماعتیں نیشنل کانفرنس یا پی ڈی پی کے ساتھ کسی انتخابی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اسی طرح غالب گمان ہے کہ جموں ڈویژن میں چوہدری لال سنگھ کی جماعت اور پینتھرس پارٹی بی جے پی مخالف سمت ہی اختیار کریں گی۔ایسے میں انتخابات کا یہ سلسلہ دہلی میں حکمران بی جے پی کےلئے بھی ایک بڑا امتحان اور چیلنج ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی اور دوسری علاقائی جماعتوں کےلئے بھی عوامی سپورٹ کا گویا لٹمس ٹیسٹ ہوگا۔ ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ بظاہر کمتر نظر آنے والے یہی انتخابات جموں وکشمیر کی آئندہ سیاست اور صورت حال کا بھی تعین کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف بی جے پی جموں ڈویژن میں اپنی اور کشمیر ڈویژن میں اپنے ہم نوا جماعتوں کی کامیابی کےلئے کاوشیں کرے گی جبکہ کانگریس ،نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سمیت دوسری کئی اہم جماعتوں کا ہدف بی جے پی اور اسکی ہم جولیوں کو ان انتخابات میں نہ صرف کشمیر ڈویژن بلکہ جموں ڈویژن میں بھی ہرانا ہوگا۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی کی مانند اس بار کہیں سے بھی کوئی بائیکاٹی کال بھی نہیں ہوگی اور یوں کشمیر میں لوگ غالباً اس عمل میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں گے جس کا بظاہر فائدہ گپکار الائینس میں شامل جماعتوں کومل سکتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جیسے جیسے یہ الیکشن قریب آتے جائیں گے تو معاملات بھی واضح تر ہوتے جائیں گے ،اسلئے تاحال کسی کی جیت اور کسی کی ہار کا اندازہ لگانا مناسب نہیں ہوگا۔










