جموں وکشمیر انتظامیہ وادی کشمیر کے باشندوں کو یو آئی ڈی یعنی ’’یونیق آئڈینٹیفکیشن نمبر‘‘ فراہم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔انتظامیہ کے مطابق اسکا مقصد ہر گھر اور اس میں رہنے والے افراد خانہ کو ’’سماجی بہبود و فلاحی ترقی اسکیموں‘‘ کا فائدہ بغیر کسی خلل کے دستیاب ہو سکے۔لیکن اس اقدام پر مقامی سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
گزشتہ ماہ ڈویژنل کمشنر کشمیر وجے کمار بیدھوری نے سرینگر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئےکہاکہ سرینگر میں ہرایک گھر کویونیک آئیڈنٹیفیکشن نمبریامنفرد شناختی نمبر دیا جائے گا جس سے لوگوں کاپتہ لگانے میں آسانی ملے گی۔اس سے ہر گھر اور اس کے افراد خانہ کی تفصیل انتظامیہ کو دستیاب رہے گی۔اس سکیم کااعلان گزشتہ سال دسمبر میں ایل جی منوج سنہا نے سنہا نے جموں میں کرتے کہا تھا کہ” ہر گھر کے لیے آٹھ نمبرات پر مبنی فیملی آئی ڈی ہوگی جس سے لوگوں کی سماجی و فلاحی بہبود اسکیموں کا فائدہ اٹھانے میں انکو آسانی ہوگی“۔ منوج سنہا نے کہا تھا کہ اس فیملی آئی ڈی سے سوشل اور سیکورٹی اسکیموں کو شفافیت اور تیزی سے لاگو کرنے میں سہولت ہوگی۔چیف سیکرٹری نے اس پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ” پہلے جب آپ کسی سرکاری دفتر میں جاتے تھے تو آپ کو اپنی تمام تفصیلات بتانے کی ضرورت ہوتی تھی اور اس میں گھنٹے لگ جاتے تھے۔ ڈیجیٹل دورمیں اس کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے،دفاتر میں کوئی قطار نہیں لگنی چاہیے، سب کچھ آن لائن ہو سکتا ہے۔ یونین ٹیریٹری میں فراہم کی جانے والی آن لائن خدمات کی تعداد میں ہم پہلے نمبر پر ہیں۔ لوگوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ انہیں دفاتر جانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن تمام خدمات آن لائن فراہم کی جائیں گی۔ اس سے مقامی لوگوں کو کافی فائدہ ہوگا۔ خیال یہ ہے کہ مقامی لوگوں کو کام کے لیے ہمارے پاس آنے کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ حکومت ان کے پاس جائے گی“۔
وہیں میونسپل کمشنر سرینگر عامر اطہر کے مطابق اس سے سسٹم سے گھر کی مکمل ڈاکیو منٹیشن کی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ” گھر کا پتہ معلوم کرنے کے لئے ہر میٹروپولیٹن سٹی میں ایک مخصوص سسٹم ہوتا ہے“۔ان کا کہنا تھاکہ ʼاس (ڈیجٹل کیو آر ہاؤس کوڈ) سے گھر کی مکمل ڈاکیو منٹیشن ہوتی ہے، مثال کے طور پر یہ گھر کس کے لئے استعمال ہوتا ہے کمرشل مقاصد کے لئے استعمال ہوتا ہے یا رہائشی ہے اس کا بجلی کنکشن، پانی کا کنکشن کہاں سے آتا ہے وغیرہ’۔انہوں نے کہا کہ شہر میں گھر گھر یہ سروے کیا گیا ہے اور 2 لاکھ 30 ہزار گھروں کا اب تک اس سروے کا کام مکمل ہوا ہے۔
تاہم دوسری طرف سے سری نگر شہر کے مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ یہ پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ کی طرف پہلا قدم ہے۔پچھلے سال جب جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے شہری علاقوں میں پراپرٹی ٹیکس نافذ کرنے کا اعلان کیا تو سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹیوں اور دیگر ٹریڈ یونینوں کی اکثریت نے اس کی مخالفت کی۔ وہیں سیاسی جماعتیں اس سکیم کو مقامی لوگوں پر نگرانی کا ایک حربہ قرار دے رہی ہیں۔گزشتہ سال اس سکیم کے اعلان پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ” یہ کشمیری عوام کی زندگیوں پر آہنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے نگرانی کا ایک اور حربہ ہے۔‘‘اور اب بھی مقامی سیاسی جماعتیں اس پر سوال کھڑے کر رہی ہیں۔ پی ڈی پی کے ترجمان سہیل بخاری نے ایک نیوز پورٹل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کے اس اقدام سے لوگوں کی نگرانی میں اضافہ ہوگااور ان کا ذاتی ڈیٹا لیک ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے نے کہا، ’’موجودہ انتظامیہ کشمیر میں ہر فرد کی ذاتی زندگی پر نظر رکھنا چاہتی ہے اور مرکزی حکومت جموں کشمیر میں شہریوں کے ایک مختلف طبقے کو قائم کر رہی ہے۔‘‘ نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈارنے کہاکہ یہ انتظامیہ کا ایک غیر ضروری قدم ہے، جس سے وسائل ضائع ہو رہے ہیں اور عوام پر نگرانی بڑھ رہی ہے۔ ڈار نے کہا کہ حکومت نے ملک بھر میں لوگوں کو آدھار کارڈ فراہم کیے ہیں جس میں ہر شہری کی ذاتی تفصیلات، شناختی پتہ پہلے سے موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ نئی یو آئی ڈی دینے کا مقصد لوگوں پر نگرانی بڑھانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔









