• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, جنوری ۲۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
کالعدم جموں و کشمیر جماعت اسلامی کے مبینہ کارکنوں کی ’’اپنی پارٹی ‘‘میں شمولیت ۔۔۔۔بلند بانگ دعوؤں کے بعد ہونے والی اس شمولیت کو کیوں ’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘ سے تعبیر کیا جارہا ہے؟

کالعدم جموں و کشمیر جماعت اسلامی کے مبینہ کارکنوں کی ’’اپنی پارٹی ‘‘میں شمولیت ۔۔۔۔بلند بانگ دعوؤں کے بعد ہونے والی اس شمولیت کو کیوں ’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘ سے تعبیر کیا جارہا ہے؟

شاہد لطیف

by امت ڈیسک
19/10/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

11اکتوبر2023 ء کو جب سماجی میڈیا کے مختلف فورمز سے یہ خبر نشر ہوئی کہ کالعدم جماعت اسلامی کے کچھ مبینہ ممبران نے سید الطاف بخاری کی سربراہی میں قائم ’اپنی پارٹی‘ میں شمولیت اختیار کی ہے تو غالباً کوئی کشمیری حیران یا پریشان نہیں ہوا کیونکہ ایسی کچھ خبریں کئی ماہ و ایام سے یہاں گردش کررہی تھیں۔ ہاں! اس خبر کے آنے کے معاً بعدجب ابھی اس کے مندرجات منظر عام پر نہیں آئے تھے‘ چہ مہ گومیاں شروع ہوئیں کہ کون سے بڑے اور نامور جماعت اسلامی والے اس فہرست میں شامل ہوں گے لیکن جیسے ہی اس حوالے سے میڈیا پر فوٹو، ویڈیو اور نام مشتہر ہونے لگے تو خبر کی مضحکہ خیزی کا تاثر زور دار طریقے سے اُبھرنے لگا اور اس عمل کو ’کھودا پہاڑ نکلا چوہا ‘ سے تعبیر کیا جانے لگا۔

اپنی پارٹی میں شامل ہونے والے ان مبینہ ’سابقہ علیحدگی پسندرہنمائوں‘ کے بارے میں شاید ہی کسی کشمیری کو کچھ علم تھا ۔ راقم نے پلوامہ سے اپنے ایک ہم مشرب سے شامل ہونے والے’طلعت مجیدالائی ‘ نامی مبینہ لیڈر کے بارے میں اِستفسار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ نام اس نے پہلی مرتبہ سنا ہے۔بہرصورت میڈیا اور نیوز چینلوں نے اس خبر کو خوب پذیرائی بخشی اور اسے وادیٔ کشمیر میں علیحدگی پسندوں کو ایک اور جھٹکا قرار دیا۔ خبروں کے مطابق کالعدم جماعت اسلامی کے ایک سرکردہ رہنما نے اپنے حامیوں کے ہمراہ پارٹی ہیڈکوارٹر پر’ اپنی پارٹی‘میں شمولیت اختیار کی اور کہا کہ یہ ان کا یہ قدم ایک حقیقت پسندانہ نقطہ نظر اور قدم ہے اور انہیں امید ہے کہ اور بھی بہت سے لوگ اس راستے کو اختیار کریں گے۔میڈیا رپورٹوں کی مانیں تو کالعدم جماعت اسلامی کے رہنما، طلعت مجید، جن کا تعلق جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ سے ہے اور وہ پابندی سے قبل رکن جماعت (جماعت کے رکن) تھے، نے اس موقع پر واضح کیا کہ مرکزی دھارے کی سیاسی جماعت کا حصہ بننے کے لیے ان پرکسی بھی قسم کا کوئی دباؤ نہیں تھا اور یہ کہ ان کا یہ فیصلہ کسی بھی دبائو یا لالچ کے زیر اثر نہیں لیا گیا ہے۔ موصوف کا مذید کہنا تھا کہ وہ جموںو کشمیر میں حالات کی مثبت تبدیلی کےلئے 2014ء سے ہی سوچ رہے تھے لیکن اندر باہر کہیں ان کے خیالات کی پذیرائی نہیں ہوسکی۔’’ میں دبائو کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاست کے شوق کی وجہ سے سیاست میں ہوں۔ہاں! میں سیاست پہلےجماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے کرنا چاہتا تھا لیکن وہاں پلیٹ فارم مہیا نہیں ہواتو میں نے کچھ الگ سوچا۔‘‘جب موصوف سے پوچھا گیا کہ اب ان کا جماعت اسلامی کے بارے میں کیا خیال ہے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ جماعت اسلامی کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اسوقت وہ ایک ممنوعہ جماعت ہے۔طلعت الائی کا کہنا تھا کہ ’’ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ آج جماعت اسلامی کے بارے میں جو کوئی کچھ بھی کہنا چاہے گا تو جماعت اسلامی کی جانب سے اس کا کوئی جواب نہیں آئے گا کیونکہ وہ آج ممنوعہ ہیں۔ جماعت اسلامی یا ان کی قیادت کیا کررہی ہے یا کیا سوچ رہی ہے یہ ان کا معاملہ ہے،ان پر منحصر ہے میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ہاں بہت سارے لوگ میری سوچ کے ساتھ ہیں اور ابھی میرے ساتھ یہاں موجود ہیں اور کچھ ہیں جو عملی سیاست میں نہیں آنا چاہتے۔‘‘

چناوی سیاست میں آنے کے چند ہی منٹوں کے بعد طلعت مجید نے اعتراف کیا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کا مقدر بھارت کے ساتھ ہے اور نوجوان نسل کےمستقبل کو بچانے کے لیے ان کی حقیقت کو تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے۔جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ سے تعلق رکھنے والے مبینہ سابق رکن جماعت طلعت مجید کا کہنا تھا کہ ’’نجی بات چیت کے دوران، تمام علیحدگی پسند رہنما اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کا مستقبل صرف ہندوستان کے ساتھ ہے لیکن ان میں لوگوں کو یہ سچ بتانے کی ہمت نہیں ہے۔‘‘جماعت کے مبینہ سابق رہنما نے مزید کہاکہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے ہر کشمیری کو قبول کرنا ہوگا۔ مسٹر الائی کا مذید کہنا تھا کہ’ دہشت گردی‘ سے کشمیریوں کو کبھی فائدہ نہیں ہوا۔’’میں 2014سے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں حقیقت پسندانہ انداز اپنانا چاہیے۔ میں نے ہمیشہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے بارے میں بات کی ہے جس کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کی موت ہوئی اور لاکھ وںنوجوان منشیات کے عادی ہوئے ہیں۔ ہمیں نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔یہی میرا ایجنڈا ہوگاکہ میں نوجوانوں کو بچانے کی کوشش کروں گا۔ میری خواہش ہے کہ مسلح جدوجہد کے نام پر کوئی نہ مرے۔ یہ عام کشمیری ہے جو مرتا ہے، اس سے قطع نظر کہ گولی کس طرف سے چلائی جائے۔ ‘‘انہوں نے کہاکہ عام لوگوں کا کسی نے نہیں سوچا۔ہمیں یہ جاننے کے لیے حقیقت پسند ہونا چاہیے کہ بندوق کشمیریوں کے حق میں نہیں ہے۔ اس موقع پرطلعت اوران کے حامیوں کو پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے، اپنی پارٹی کے بانی الطاف بخاری نے کہا کہ ’’جو بھی دہشت گردی اور منشیات کی مذمت کرتا ہے، ہندوستانی آئین اور جموں و کشمیر کی ترقی پر یقین رکھتا ہے، اس کا’ اپنی پارٹی‘ میں خیرمقدم ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ انہوں نے ماضی میں لوگوں کو ان کی پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی جس کا آج ان لوگوں نے مثبت جواب دیا ہے اور میں ان کا تہہ دل سے استقبال کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک اپنی کوششیں جاری رکھیں گے جب تک جموں و کشمیر کا ہر فرد’ اپنی پارٹی‘ میں شامل نہیں ہو جاتا۔واضح رہے کہ قبل ازیں رواں برس کے ماہ ستمبر میں ایک اور سابق لیڈرسید مظفر رضوی، جو حریت کانفرنس کی ایک ذیلی جماعت اتحاد المسلمین کے سابق جنرل سکریٹری تھے‘ نے بھی اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔سید الطاف بخاری، جو ایک تاجر سے سیاست دان بنے ہیں، نے رضوی کی کشمیر کے علاقے کے لیے اپنی پارٹی کے نائب صدر کے طور پر تقرری کا اعلان کیا تھا۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جناب الطاف بخاری کی سیاست کا طریقہ کار وہی ہے جو ماضی میں پی ڈی پی کا رہا ہے۔ماضی میں تاریخ کے جھروکوں سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ جب مفتی محمد سعید نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کرکے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد ڈالی اور ان کی دختر محبوبہ مفتی نے سیاسی کمان سنبھال لی تو انہوں نے اسوقت کے زمینی حالات کے مطابق مفاہمت، انسانی حقوق کی پامالیاں روکنے جیسی دلپذیر باتیں کیں۔ اسوقت حالت یہ تھی کہ ملی ٹینسی کو جڑ سے اُکھاڑنے کی پالیسی کے تحت جموں وکشمیر خاص طور پر جنوبی کشمیر کے اندر جماعت اسلامی سے وابستگان خاص عتاب کے شکار تھے اور یوں انہیں ہی مفتی صاحب نے بھی ٹارگٹ کیا اور پھر وقت نے دیکھ لیا کہ کس طرح مفتی محمد سعید جو تب تک خود بظاہر جموںو کشمیر میں کوئی الیکشن تک نہیں جیت سکے تھے،کی پارٹی پی ڈی پی 2002ء میں جموں وکشمیر کے منصب اقتدار پر فائز ہوگئی۔آجکل اگر چہ حالات بہت زیادہ مختلف ہیں لیکن’ پرانی بوتلوں میں نئی شراب‘ کے مصداق نسخہ وہی زیر استعمال ہے۔

جماعت اسلامی 2019ء سے کالعدم ہے اور اس پر خاصا عتاب جاری ہے ۔ایک سیاسی مبصر کے مطابق یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ خاص طور پر جنوبی کشمیر اور شمالی کشمیر کے کچھ حصوں میںجماعت اسلامی کا ایک مضبوط ووٹ بینک ہے جسےنظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہی معاملہ حریت کانفرنس اور دوسری جماعتوں کا ہے کہ جنکو جموں وکشمیر کے متعدد حلقوں میںکسی نہ کسی صورت میں ایک قسم کا سپورٹ حاصل ہےاور 2019ء کے بعد سخت گیر پالیسی اپنانے کے باوجود اس سپورٹ بیس(Support Base)کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الطاف بخاری جیسے سیاست دان کو کہ جن پر بی جے پی کی ’ بی ٹیم‘ ہونےکے الزامات ہیں ایک عرصے سے حریت کانفرنس اور جماعت اسلامی وغیرہ کو اپنی جانب راغب کرانے کی کوششیں کرتے نظر آرہے ہیں اور مزے کی بات ہے کہ بظاہر اس پر نہ مرکزی حکومت کو کوئی اعتراض ہے،نہ میڈیا چینلوں کو کوئی شکایت ہے اور نا ہی بی جے پی کو کوئی شکوہ ہے‘ حالانکہ معروضی حالات میں ایسا ہونا لازمی بات تھی بلکہ بی جے پی تو بظاہر اس اقدام کی طرف دار نظر آرہی ہے اور چاہتی ہے کہ’ علیحدگی پسند عناصر مین اسٹریم سیاست ‘جوائین کرلیں۔ اس بات کاثبوت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر‘ سنیل شرما کا یہ کہنا ہے کہ تمام حریت لیڈر اور علیحدگی پسند قومی دھارے میں شامل ہوں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے لئے سارے دروازے بند ہوئے ہیں ۔یہ بات بھی سچ ہے کہ ماضی قریب میں الطاف بخاری صاحب پہلے حریت لیڈر پروفیسر عبدالغنی بٹ سے ملنے ان کے آبائی گائوں بوٹنگو سوپور پہنچےاور بعد ازاں شیعہ لیڈر آغا سید حسن بڈگامی سے ملنے بھی تشریف لے گئے۔ ان کے بیانات ریکارڈ پر ہیں جن میں وہ بظاہرحریت پسندوں کو خوش کرنے کی کوششیں کرتے نظر آرہے ہیں۔ جماعت اسلامی سے متعلق ان کے اس بیان کو ہی لیجئے جس میں موصوف نے کہا تھا ہے کہ ان پر لگی پابندی کو ہٹادینا چاہئے کیونکہ انہوں نے ماضی کی سیاست کو ترک کردیا ہے اور اب ان کی کوئی سرگرمی ملک کے مفاد کے خلاف نہیں ہے۔ اسی طرح ایک بار انہوں نے بیان داغ دیا کہ جس میں انہوں نے حریت کانفرنس اور دوسرے علیحدگی پسندوں کو ’اپنی پارٹی‘ جوائین کرنے کی دعوت دے ڈالی۔ جموںو کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری کا کہنا تھا کہ ان کے دروازے جماعت اسلامی اور حریت والوں کیلئے بھی کھلے ہیں۔ان کا ساتھ ہی کہنا تھا’’ہمارے دروازے ان سب لوگوں کیلئے کھلے ہیں جو آئین ہند پر یقین رکھتے ہوں‘ فرقہ وارانہ سیاست نہ کرتے ہوں، ڈرگس اور دہشت گردی میں ملوث نہ ہوں‘‘۔اپنی پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم سچ کی سیاست میں یقین رکھتے ہیں اورلوگوں کوسچائی اپنانے او رسچائی کاساتھ دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ انہوںنے کہا ماضی میں جن سیاسی پارٹیوں نے عوام کااستحصال کیاہے اب یہ عوام انہیں معاف نہیں کریگی بلکہ جب بھی الیکشن ہونگے رائے دہندگان انہیں ضرور اپنے فیصلے سے آگاہ کرینگے ۔قبل ازیں مسٹر بخاری نےکہا تھا کہ ہمارا مقدر ہندستان کے ساتھ ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ الطاف بخاری صاحب نے بارہا قیدیوں کی رہائی، مذہبی آزادی کو یقینی بنانے اور جموں وکشمیر کی ریاستی پوزیشن کو بحال کرکے یہاں الیکشن کرانے کی باتیں بھی زور و شور سے کی ہیں اور یہی باتیں جب پی ڈی پی یا نیشنل کانفرنس کرتی ہے تو فوراً ان پر بی جے پی کا وار نظر آتا ہے لیکن الطاف بخاری کے معاملے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں اس ضمن میں کھلی چھوٹ حاصل ہے۔

ہم نے ریاست کے ایک بزرگ سیاسی مبصر سے جب پوچھا کہ کیا الطاف بخاری صاحب فی الواقع حریت کانفرنس،جماعت اسلامی اور دوسرے علیحدگی پسندوں کو اپنی پارٹی میں شامل کرکے مضبوطی حاصل کرپائیں گے۔ ان کا مدلل جواب سن کر میں دھنگ رہ گیا۔ مذکورہ سیاسی مبصر کا کہنا تھا کہ’’ مفتی محمد سعید نے2002 ء سے قبل جب نیم علیحدگی پسند سیاست شروع کی تھی اسوقت بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ مسئلہ جموں کشمیر اور دوسرے مسائل کا حل تلاش کرنے کےلئے مذاکرات کررہے تھے۔ مفتی صاحب ایک زیرک کہنہ مشق سیاست دان تھے اور جانتے تھے کہ وہ وقت ان کی سیاست کےلئے موزوں ترین تھا۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ پی ڈی پی کو نیشنل کانفرنس کا متبادل یا متوازی بنانے کے لئے انہیں دہلی سے بھی سپورٹ حاصل تھی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوگئے لیکن اس کے برعکس الطاف بخاری ایک کہنہ مشق تاجر تو ہوسکتے ہیں لیکن انہیں کسی بھی صورت میں کہنہ مشق سیاست دان نہیں کہا جاسکتا نا ہی ان کامفتی محمد سعید یا فاروق عبداللہ جیسا قد کاٹھ ہے۔ انہوں نے اگرچہ کوششیں کی ہیں کہ پرانے علیحدگی پسندوں کے ساتھ تعلق قائم کریں اور ان کے سپورٹ کو حاصل کرکے کشمیر کے میدان سیاست میں اپنی جگہ کو مضبوط کریں لیکن بظاہر ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ چاہتے تو ہیں کہ علیحدگی پسندوں کو لبھائیں لیکن دوسری جانب ان کی سیاست کو وہاں اتارنا چاہتے ہیں جہاں ان کی رہی سہی ساکھ اور شناخت ہی مٹ جائے گی۔ اب بتائے! کہ اگر کوئی بڑا علیحدگی پسند چناوی سیاست میں آکر اپنا مستقبل بنانا چاہتا بھی ہو تو وہ نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی، کانگریس یا بی جے پی جیسی بڑی جماعتوں کو چھوڑ کر الطاف بخاری کی بظاہر نئی اور قدرے چھوٹی پارٹی کو کیوں جوائین کرے گا۔ پھر اگر کسی بڑے علیحدگی پسندکو مین اسٹریم سیاست ہی میں آنا ہے تو وہ خود کی اپنی جماعت کے بینر کو کیوں نہیں آزمائے گا۔ بھلا وہ کیوں کر الطاف بخاری کو جوائین کرے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے دیکھا ہے کہ ان کے بلند بانگ دعووں کے برعکس کوئی بڑا نام ان کے ساتھ شامل نہیں ہورہا ہے بلکہ انہیں ایسے ناموں اور ایسی شمولیتوں کا سہارا لینا پڑرہا ہے کہ جنہیں غالباً اپنے اضلاع یا گائوں میں تک کوئی نہیں پہچانتا اور بظاہر مرکز کی مکمل آشیرواد کے بعدلئے گئے ان کے اقدامات کی ناکامی کا ثبوت بھی اسی میں مضمر ہے‘‘۔

بزرگ سیاسی مبصر کی یہ باتیں اگرچہ حیران کن ہیں لیکن انہیں سرے سے نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ قارئین کرام کو بخوبی یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل سماجی رابطوں کی ویب سایٹوں سے لیکر اخبارات تک میں یہ خبریں بڑے طمطراق سے چلائی جارہی تھیں کہ جماعت اسلامی سمیت کئی علیحدگی پسند لیڈران اور لوگ ’ اپنی پارٹی‘ جوائین کررہے ہیں۔ لیکن جب اس خبر کی حقیقت سامنے آگئی تو ایسے ناموں کی شمولیت سامنے آئی جن کا کوئی بڑا قدو کاٹھ نہیں ہے۔طلعت مجید الائی اور ان کے ساتھ اپنی پارٹی میں شامل ہونے والوں میں منظور احمد میر، اعزاز احمد وانی، شہزاد الاسلام، اختر مجید ڈار، ڈاکٹر نجیب الرحمان، راجہ احتشام عالی، اشفاق احمد ملک، لطیف احمد بٹ، عمران صدیق شامل ہیں۔ اعجاز احمدبٹ، محمد اقبال حرہ، یونس احمد ڈار میں سے کوئی بھی ایک نام ایسا نہیں ہے کہ جسے ’ جماعت اسلامی یا علیحدگی پسندی کا سابقہ لیڈر‘ کہا جاسکتا ہے۔ اگرچہ کہا جارہا ہے کہ اس قسم کی شمولیت کے اور بھی پروگرام منعقد ہوں گے لیکن بظاہر ان میں بھی کسی بڑے نام کی توقع نہیں ہے اور یوں کہا جاسکتا ہے کہ اس عمل کا بظاہر اپنی پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ادھر کانگریس پارٹی کے جموں وکشمیر میں سربراہ وقار رسول نے الزام لگادیا ہے کہ یہ شمولیتیں دبائو کا نتیجہ ہیں اور یہ کہ لوگوں پر ایک مخصوص پارٹی میں شامل ہوجانے کےلئے دبائو اور دھونس کا سہارا لیا جارہا ہے۔ ایسے میں کشمیری کی معروضی اور زمینی صورت حال کو مدنظر رکھیں گے تو بظاہر شمولیتوں کے اس نئے سلسلے سے ’ اپنی پارٹی‘ کو فائدہ کجابلکہ نقصان ہی اٹھانا پڑے گا۔ بہرحال آگے کی سیاست کیا کروٹ لےگی اس کا حتمی تعین کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔ظاہری طور پر جو کچھ دیکھا سوچا یا سمجھا جاسکتا ہے وہ بیان کیا جاچکا ہے ۔آگے کے ایام بتائیں گے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ، آئے! تب تک ہم سب اٹکلوں سے ہی دل بہلاتے رہیں۔

جماعت اسلامی کے سابق رکن ڈاکٹر طلعت مجید کون ہیں؟

رضوان سلطان
گزشتہ ہفتے وادی کشمیر میں ایک اہم پیش رفت میں ماضی میں جماعت اسلامی جموں و کشمیر سے وابستہ رہے کارکن طلعت مجید نے جموں وکشمیر اپنی پارٹی میں شمولیت کی۔انہوں نے سرینگر میں پارٹی صدر دفتر پر الطاف بخاری کی موجودگی میں ایک درجن کے قریب ساتھیوں سمیت شمولیت کی۔ تقریب میں الطاف بخاری کے علاوہ پارٹی کے دیگر لیڈران بشمول سابق وزیر غلام حسن میر، رفیع میر، اشرف میر اور منتظر محی الدین شامل تھے۔ اور پارٹی لیڈران نے انہیں مالا پہنا کر پارٹی میں استقبال کیا۔ ان کی شمولیت ایسے موقع پر اپنی پارٹی میں ہوئی جب اس سے چند روز قبل ہی الطاف بخاری نے جماعت اسلامی اور علیحدگی پسند لیڈران کو اپنی پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔ سید محمد الطاف بخاری نے اس موقع پر کہا کہ وہ طلعت جیسے نوجوانوں کی اپنی پارٹی میں شامل ہونے پر وہ بہت خوش ہیں اور آنے والے دنوں میں طلعت مجید جیسے مزید افراد اپنی پارٹی میں شامل ہونے والے ہیں۔ بخاری نے وعدہ کیا کہ اپنی پارٹی ان نئے اراکین کو امن، خوشحالی اور ترقی کے حصول میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے ایک قابل اعتماد پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا ’’میں اپنی پارٹی کو ہمہ جہت بنانا چاہتا ہوں، نہ کہ فیملی پارٹی۔ اپنی پارٹی کی بنیاد سچائی کے اصول پر رکھی گئی تھی اور سچ یہ ہے کہ ہمارا مقدر ہندوستان کے ساتھ ہے۔ ہمارے تمام مسائل کا حل بھی نئی دہلی کے پاس ہے“۔اس دوران طلعت مجید نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شمولیت میں جماعت اسلامی سے وابستہ کوئی موجودہ رکن نہیں ہے بلکہ جو اس فکر سے وابستہ انکے کچھ ساتھی ہیں وہ شامل ہو رہے ہیں۔وہیں انہوں نے کہا کہ” میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ حریت اور جماعت اسلامی کا ایک سیاسی کردار ہے جسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ سیاسی استحکام کےلیے انکا بڑا کردار ہے، اگر دونوں (جماعت اسلامی اور حریت) حقیقت کو تسلیم کریں کہ انکا مقدر کس کے ساتھ جڑا ہوا ہے تو ایک بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے“۔

ڈاکٹر طلعت مجید کا تعلق جنوبی ضلع پلوامہ کے گوری پورہ سےہے۔ابتدائی تعلیم اپنے ہی گاؤں میں حاصل کی۔جبکہ بارہویں جماعت انہوں نے بسکو اسکول سے پاس کیا۔اسکے بعد انہوں نے سائنس میں ڈگری حاصل کی اور پھر 2009 انہوں نے پی ایچ ڈی بھی کیا۔ ڈاکٹر طلعت محکمہ زراعت میں ملازم تھے۔ تاہم ڈاکٹر طلعت نےاگست 2023 میں ملازمت سے استعفیٰ دیااور اسکے کچھ ماہ بعد ہی وہ اب جموں و کشمیر اپنی پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔ڈاکٹر طلعت 2006 میں جماعت اسلامی کے رکن بنے تاہم 2014ءمیں انکا جماعت اسلامی سے اخراج ہوا۔طلعت کے مطابق انکا جماعت سے سیاسی اختلاف ہوا تھا۔طلعت کہتے ہیں کہ انہوں نے جماعت کو مین سٹریم سیاست میں آنے کا مشورہ دیا تھا۔

 

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

گاندربل میں کیمسٹ گرفتار ،میڈیکل شاپ سیل

Next Post

وقف بورڈ نے کرایہ کی ادائیگی کے بعد دکانوں کو کھول دیا

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

21/01/2026
این سی کا لداخ کو دوبارہ جموں و کشمیر میں شامل کرنے، ملازمت و اراضی حقوق اور خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ: سکینہ ایتو

این سی کا لداخ کو دوبارہ جموں و کشمیر میں شامل کرنے، ملازمت و اراضی حقوق اور خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ: سکینہ ایتو

21/01/2026
پونچھ میں کنٹرول لائن کے قریب بی ایس ایف اہلکار لاپتہ

کیرن سیکٹر میں ایل او سی پر پاکستانی فوج کی ہوائی فائرنگ، بھارتی فوج کا محتاط جواب

21/01/2026
حکمران جماعت کے رکنِ اسمبلی کا امیرا کدل پل کے افتتاح پر لیفٹیننٹ گورنر کے کردار پر اعتراض

حکمران جماعت کے رکنِ اسمبلی کا امیرا کدل پل کے افتتاح پر لیفٹیننٹ گورنر کے کردار پر اعتراض

21/01/2026
جی ڈی سی ڈوڈہ کی طالبہ کی موت کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیٹی قائم، اسسٹنٹ پروفیسر معطل

جی ڈی سی ڈوڈہ کی طالبہ کی موت کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیٹی قائم، اسسٹنٹ پروفیسر معطل

21/01/2026
مذہبی بنیادوں پر جموں و کشمیر کی تقسیم دو قومی نظریے کی توثیق ہوگی: محبوبہ مفتی

پیر پنجال اور چناب ویلی کے لیے ڈویژنل درجہ کا معاملہ: محبوبہ مفتی کا نیشنل کانفرنس سے واضح موقف کا مطالبہ

20/01/2026
Next Post
وقف بورڈ نے کرایہ کی ادائیگی کے بعد دکانوں کو کھول دیا

وقف بورڈ نے کرایہ کی ادائیگی کے بعد دکانوں کو کھول دیا

کینیڈا نے بھارت سے 41 سفارتکار واپس بلا لئے

کینیڈا نے بھارت سے 41 سفارتکار واپس بلا لئے

جموں و کشمیر کانگریس میں ردوبدل، ایگزیکٹو کمیٹی کا قیام، 5 سینئر نائب صدور کا تقرر

جموں و کشمیر کانگریس میں ردوبدل، ایگزیکٹو کمیٹی کا قیام، 5 سینئر نائب صدور کا تقرر

جامعہ مسجد میں آج بھی نماز جمعہ کی اجازت نہیں دی گئی

جامعہ مسجد میں آج بھی نماز جمعہ کی اجازت نہیں دی گئی

جموں میں ٹرک کھائی میں جا گری، چار افراد ہلاک

جموں میں ٹرک کھائی میں جا گری، چار افراد ہلاک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »