امت نیوز ڈیسک //
پاکستان کے جنوب مغربی علاقے میں ایک سیاسی جماعت اور ایک آزاد امیدوار کے انتخابی دفاتر پر ہونے والے بم دھماکوں میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔
صوبہ بلوچستان کی نگران صوبائی حکومت کے ترجمان جان اچکزئی نے بتایا کہ پہلا بم دھماکہ ضلع پشین میں ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق اس دھماکے میں زخمی ہونے والے کچھ افراد کی حالت نازک ہے۔
دوسرا بم دھماکہ بلوچستان کے شہر قلعہ سیف اللہ میں ہوا اور اس کا نشانہ مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام کے انتخابی دفتر تھا۔ اس بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے۔
نگراں وزیر داخلہ گوہر اعجاز نے دھماکوں کی مذمت کی ہے۔
یہ بم دھماکے ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب ملک میں اور بالخصوص صوبہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں حالیہ اضافے کے بعد پاکستان بھر میں ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کی گئی تھی۔
یہ بم دھماکے ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب ملک میں اور بالخصوص صوبہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں حالیہ اضافے کے بعد پاکستان بھر میں ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کی گئی تھی۔
کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی افغانستان اور ایران کی سرحد سے متصل صوبہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر متعدد حملوں میں ملوث رہی ہے۔ 30 جنوری کو بلوچستان لبریشن آرمی کے ایک گروپ نے بلوچستان کے ضلع مچھ میں سکیورٹی تنصیبات پر حملہ کیا جس میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔
پاکستان حالیہ مہینوں کے دوران ملک میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، خاص طور پر پاکستانی طالبان کے سابقہ گڑھ میں۔
افغانستان اور ایران کی سرحد پر واقع گیس سے مالا مال صوبہ بلوچستان دو دہائیوں سے زائد عرصے سے بلوچ قوم پرستوں کی شورش کا مرکز رہا ہے۔ یہ بلوچ قوم پرست ابتدائی طور پر صوبائی وسائل کا حصہ چاہتے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے آزادی کے لیے بغاوت کا آغاز کیا۔
پاکستانی طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کی بھی صوبے میں مضبوط موجودگی ہے











