• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
ہفتہ, جنوری ۳۱, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
بلوچستان میں دو بم دھماکے، کم از کم 24 افراد ہلاک

بلوچستان میں دو بم دھماکے، کم از کم 24 افراد ہلاک

by امت ڈیسک
07/02/2024
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

امت نیوز ڈیسک //
پاکستان کے جنوب مغربی علاقے میں ایک سیاسی جماعت اور ایک آزاد امیدوار کے انتخابی دفاتر پر ہونے والے بم دھماکوں میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔

صوبہ بلوچستان کی نگران صوبائی حکومت کے ترجمان جان اچکزئی نے بتایا کہ پہلا بم دھماکہ ضلع پشین میں ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق اس دھماکے میں زخمی ہونے والے کچھ افراد کی حالت نازک ہے۔

دوسرا بم دھماکہ بلوچستان کے شہر قلعہ سیف اللہ میں ہوا اور اس کا نشانہ مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام کے انتخابی دفتر تھا۔ اس بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے۔

نگراں وزیر داخلہ گوہر اعجاز نے دھماکوں کی مذمت کی ہے۔

یہ بم دھماکے ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب ملک میں اور بالخصوص صوبہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں حالیہ اضافے کے بعد پاکستان بھر میں ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کی گئی تھی۔

یہ بم دھماکے ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب ملک میں اور بالخصوص صوبہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں حالیہ اضافے کے بعد پاکستان بھر میں ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کی گئی تھی۔

کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی افغانستان اور ایران کی سرحد سے متصل صوبہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر متعدد حملوں میں ملوث رہی ہے۔ 30 جنوری کو بلوچستان لبریشن آرمی کے ایک گروپ نے بلوچستان کے ضلع مچھ میں سکیورٹی تنصیبات پر حملہ کیا جس میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔

پاکستان حالیہ مہینوں کے دوران ملک میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، خاص طور پر پاکستانی طالبان کے سابقہ گڑھ میں۔

افغانستان اور ایران کی سرحد پر واقع گیس سے مالا مال صوبہ بلوچستان دو دہائیوں سے زائد عرصے سے بلوچ قوم پرستوں کی شورش کا مرکز رہا ہے۔ یہ بلوچ قوم پرست ابتدائی طور پر صوبائی وسائل کا حصہ چاہتے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے آزادی کے لیے بغاوت کا آغاز کیا۔

پاکستانی طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کی بھی صوبے میں مضبوط موجودگی ہے

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

کانگریس کی سوچ پرانی ہوچکی ہے: مودی

Next Post

لبنان کے جج نواف سلام عالمی عدالتِ انصاف کے صدر منتخب

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

ادھمپور میں سیکیورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوکے درمیان تصادم شروع

کشتواڑ میں سیکیورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان جھڑپ

31/01/2026
اسپیکر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے آل پارٹی، بزنس ایڈوائزری کمیٹی اجلاس کی صدارت کی

اسپیکر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے آل پارٹی، بزنس ایڈوائزری کمیٹی اجلاس کی صدارت کی

30/01/2026
میرواعظ عمر فاروق نے ایکس اکاؤنٹ سے حریت چیئرمین کا عہدہ ہٹانے کی وضاحت کر دی

کشمیر یوں پر حملے بند کیے جائیں: میرواعظ عمر فاروق

30/01/2026
صرف سرکاری ویب سائٹ پر ہی ٹریفک چالان کی تصدیق کریں: ایس ایس پی ٹریفک سرینگر

صرف سرکاری ویب سائٹ پر ہی ٹریفک چالان کی تصدیق کریں: ایس ایس پی ٹریفک سرینگر

30/01/2026
کشتواڑ کے بعض علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات عارضی طور پر معطل

کشتواڑ کے بعض علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات عارضی طور پر معطل

30/01/2026
طلباء میں خود کشی کا تشویشناک رجحان،جموں کشمیر میں کمیٹیاں تشکیل

طلباء میں خود کشی کا تشویشناک رجحان،جموں کشمیر میں کمیٹیاں تشکیل

30/01/2026
Next Post
لبنان کے جج نواف سلام عالمی عدالتِ انصاف کے صدر منتخب

لبنان کے جج نواف سلام عالمی عدالتِ انصاف کے صدر منتخب

سماج دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کیلئے جدید طریقہ کار اپنانے کی ضرورت : ایس ایس پی بارہمولہ

سماج دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کیلئے جدید طریقہ کار اپنانے کی ضرورت : ایس ایس پی بارہمولہ

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کشمیری مہاجر خاندانوں کی فلاح و بہبود کیلئے پرعزم:منوج سنہا

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کشمیری مہاجر خاندانوں کی فلاح و بہبود کیلئے پرعزم:منوج سنہا

دفعہ 370کے خاتمہ کے بعد اب تک 366جنگجو، 96عام شہری اور 81سیکورٹی فورسز اہلکار ہلاک

سال 2019سے لیکر ابھی تک جموں و کشمیر میں 579تشدد آمیز واقعات میں 818ملی ٹنٹ اور247فورسز اہلکار از جاں: مرکز

کوکرناگ علاقے میں عدم شناخت لاش بر آمد

امرتسر کے سکھ کا سری نگر میں نامعلوم بندوق برداروں نے گولی مار کر قتل کر دیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »