• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
ہفتہ, جنوری ۲۴, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
کشمیریوں کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے: سجاد لون

دفعہ 370 کی منسوخی لوگوں کو بے اختیار بنانے کی قبیح مثال : سجاد لون

by امت ڈیسک
05/08/2024
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

امت نیوز ڈیسک//
سرینگر: جموں کشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اور سابق وزیر سجاد غنی لون نے دفعہ 370کی منسوخی کے پانچویں سالگرہ کے موقع پر جموں کشمیر میں منتخب اسمبلی نہ ہونے کی سخت تنقید کی۔ پی ڈی پی – بی جے پی مخلوط سرکار میں وزیر رہ چکے سجاد غنی لون نے بھی دفعہ 370کی منسوخی کی سماجی رابطہ گاہ ایکس پر مذمت کی۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں لون نے کہا: ’’5 اگست ہمیشہ کشمیری عوام کو پوری طرح بے اختیار بنائے جانے کی ایک قبیح مثال رہے گی۔ پانچ سال بعد بھی (جموں کشمیر میں) کوئی منتخب اسمبلی نہیں ہے اور مقامی لوگوں کا اپنے معاملات چلانے میں کوئی کردار اور کوئی حصہ داری نہیں ہے۔‘‘ لون نے جموں کشمیر کے حقوق کی وکالت کرنے والی ہندوستان میں بااثر آوازوں کی عدم موجودگی پر مزید افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’افسوس کی بات ہے کہ ملک میں اتنی طاقتور آوازیں نہیں ہیں جو یہ سوال کر سکیں کہ جموں و کشمیر کو اس طرح کے ذلت آمیز وجود کے لیے منتخب طور پر کیوں نشانہ بنایا گیا ہے؟‘‘

یاد رہے کہ جموں و کشمیر میں آخری مرتبہ اسمبلی انتخابات سال 2014 میں منعقد ہوئے اور (سابق) ریاست میں پی ڈی پی – بی جے پی کی اتحادی حکومت قائم ہوئی۔ یہ اتحاد اس وقت ختم ہوا جب بی جے پی نے 18 جون 2018 کو محبوبہ مفتی سے حمایت واپس لے لی اور جموں و کشمیر میں صدر راج کا نفاذ عمل میں لایا گیا جو ہنوز جاری ہے۔

سال 2018میں حمایت واپس لینے کے بعد بعض مقامی سیاسی جماعتوں نے اتحاد کرنے کی کوشش کی اور حکومت بنائے جانے کی درخواست اس وقت کے گورنر ستیہ پال ملک کو بھیجی جنہوں نے ’’فیکس مشین خراب ہونے‘‘ اور سیاسی جماعتوں کا دعوت نامہ وصول نہ ہونے کی وجہ سے اسمبلی کو ہی تحلیل کر دیا ور تب سے کسی نہ کسی وجہ سے اسمبلی الیکشن کو ٹال دیا گیا۔ سال 2019میں یہاں لوک سبھا انتخابات منعقد ہوئے مگر اسمبلی انتخابات کو منعقد نہیں کیا گیا۔

پانچ اگست 2019کو دوبارہ مرکز میں مضبوط حکومت بنانے والی بی جے پی نے جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت دفعہ 370کو منسوخ کر کے ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز – جموں کشمیر اور لداخ – میں منقسم کر دیا۔ اور جموں و کشمیر میں انتظام چلانے کا مکمل اختیار لیفٹیننٹ گورنر کے سپرد کر دیا، جبکہ گزشتہ دنوں مرکزی حکومت نے تنظیم نو ایکٹ کے تحت لیفٹیننٹ گورنر کو مزید با اختیار بنایا ہے۔

یہاں کی سیاسی جماعتوں نے مسلسل ریاست کا درجہ بحال کرنے اور اسمبلی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے، حتیٰ کہ سپریم کورٹ نے بھی رواں سال ستمبر ماہ میں یہاں اسمبلی الیکشن منعقد کرنے کی سفارش کی ہے، تاہم اس کے باوجود یہاں الیکشن منعقد نہیں کیے جا رہے۔ حزب اختلاف سیاسی جماعتیں خصوصاً کانگریس پارٹی حالیہ کی گئی تبدیلیوں کو واپس لینے اور یہاں الیکشن منعقد کروانے سے متعلق گزشتہ دو ہفتوں سے احتجاج کر رہی ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

دفعہ 370 منسوخی کی برسی : جموں میں ہائی الرٹ

Next Post

بنگلہ دیش تشدد میں اب تک تقریباً 100 افراد ہلاک، ہندوستان نےاپنے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

کشمیر میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران موسم عام طور پر خشک رہنے کا امکان

کشمیر میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران موسم عام طور پر خشک رہنے کا امکان

24/01/2026
یوم جمہوریہ کی تقریب سے قبل تمام انتظامات مکمل، برفباری کے بعد زمینی اور ہوائی رابطہ بحال،صوبائی کمشنر کشمیر

یوم جمہوریہ کی تقریب سے قبل تمام انتظامات مکمل، برفباری کے بعد زمینی اور ہوائی رابطہ بحال،صوبائی کمشنر کشمیر

24/01/2026
مبینہ حملے کے بعد تہار میں ایم پی انجینئر رشید کو جیل نمبر 1 منتقل کیا گیا

عدالت نے رکنِ پارلیمنٹ انجینئر رشید کو حراستی پیرول پر بجٹ اجلاس میں شرکت کی اجازت دے دی

24/01/2026
سری نگر ایئرپورٹ پر پروازوں کی ہوئی  بحالی

سری نگر ایئرپورٹ پر پروازوں کی ہوئی بحالی

24/01/2026
کٹھوعہ انکاؤنٹر اپڈیٹ: غیر ملکی ملیٹنٹ ہلاک، سرچ آپریشن جاری: فوج

کٹھوعہ انکاؤنٹر اپڈیٹ: غیر ملکی ملیٹنٹ ہلاک، سرچ آپریشن جاری: فوج

23/01/2026
سرینگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی بجٹ 2026-27 سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے مشاورتی نشست

سرینگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی بجٹ 2026-27 سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے مشاورتی نشست

23/01/2026
Next Post
بنگلہ دیش تشدد میں اب تک تقریباً 100 افراد ہلاک، ہندوستان نےاپنے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

بنگلہ دیش تشدد میں اب تک تقریباً 100 افراد ہلاک، ہندوستان نےاپنے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی

التجا مفتی، تنویر صادق کا گھروں میں انہیں نظر بند رکھنے کا الزام

التجا مفتی، تنویر صادق کا گھروں میں انہیں نظر بند رکھنے کا الزام

بی جے پی کی پالیسی نہ تو کشمیریت کا احترام کرتی ہے اور نہ ہی جمہوریت کو برقرار رکھتی ہے: ملکارجن کھڑگے

بی جے پی کی پالیسی نہ تو کشمیریت کا احترام کرتی ہے اور نہ ہی جمہوریت کو برقرار رکھتی ہے: ملکارجن کھڑگے

بنگلا دیش میں مظاہرے، وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے استعفیٰ دے دیا

بنگلا دیش میں مظاہرے، وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے استعفیٰ دے دیا

توہین عدالت کیس، ڈی سی گاندربل کو جواب داخل کرنے کے لیے سات دن کی مہلت

توہین عدالت کیس، ڈی سی گاندربل کو جواب داخل کرنے کے لیے سات دن کی مہلت

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »