امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے جموں و کشمیر میں موجودہ ریزرویشن پالیسی کو ’’ناقابلِ یقین‘‘ اور ’’کشمیری عوام کے صراصر خلاف اور منافی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تنقید کی ہے۔ لون کا کہنا ہے کہ کوٹے کی تقسیم میں جو نقصان کشمیر کو پہنچا ہے، وہ پہلے لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔
سماجی رابطہ گاہ ایکس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے لون نے کہا: ’’یہ واقعی ایک حیران کن حقیقت ہے۔‘‘ لون نے علاقائی عدم توازن پر شدید خدشات کا اظہار کیا، جہاں ریزرویشن سرٹیفکیٹس کی تقسیم زیادہ تر جموں کے حق میں جھکاؤ رکھتی ہے۔
انہوں نے یکم اپریل 2023 کے بعد کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’’یہ امتیاز واضح طور پر جھلکتا ہے۔ مثال کے طور پر، شیڈولڈ کاسٹ (SC) کیٹیگری میں جموں میں 67,112 سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، جبکہ کشمیر میں ایک بھی نہیں۔ اسی طرح، انٹرنیشنل بارڈر (IB) کیٹیگری میں بھی تمام 551 سرٹیفکیٹس جموں کے لیے مختص کیے گئے، اور کشمیر کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔‘‘
لون نے شیڈولڈ ٹرائب (ST) ریزرویشن میں بھی سنگین ناانصافی کا دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق: ’’کل 4,59,493 ST سرٹیفکیٹس میں سے 79,813 ہی کشمیر کو ملے، جو صرف 14.7 فیصد بنتے ہیں۔ اسی طرح، معاشی طور پر کمزور طبقے (EWS) کے لیے جاری شدہ سرٹیفکیٹس میں سے 92.3 فیصد جموں کو اور صرف 7.7 فیصد کشمیر کو دیے گئے۔‘‘
شمالی کشمیر کی ہندوارہ نشست سے ایم ایل اے سجاد لون نے ریزرویشن پالیسی کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’موجودہ ریزرویشن سسٹم کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ کشمیری عوام، خاص طور پر کشمیری زبان بولنے والے افراد، ہمیشہ نقصان میں رہیں۔ یہاں تک کہ ST کیٹیگری میں بھی جموں کے رہائشیوں کو نمایاں برتری حاصل ہے۔‘‘
لون کا مزید کہنا ہے کہ ’’دسمبر 2024 میں حکومت نے اس معاملے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے چھ ماہ میں رپورٹ جمع کرانی تھی، مگر اب تک اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔‘‘ انہوں نے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ریزرویشن پالیسی پر نظرثانی ناگزیر ہے، تاکہ تمام طبقات کے ساتھ مساوی انصاف ہو سکے۔ ان کے اس بیان کے بعد، جموں و کشمیر میں ریزرویشن پالیسی پر ایک نئی بحث چھڑنے کا امکان ہے۔‘‘











