امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ میں منظور کرنے کے فوراً بعد اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو کا دورہ کشمیر ایک دانستہ اور سوچا سمجھا قدم تھا تاکہ مسلمانان ہند کو باور کیا جا سکے کہ مسلم اکثریتی حصے میں اس قانون کی مخالفت نہیں ہو رہی ہے۔ محبوبہ مفتی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور انکے والد و نیشنل کانفرنس کے سرپرست ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے رجیجو کا والہانہ استقبال کرنے اور انہیں ٹیولپ گارڈن (باغ گل لالہ) کی سیر کرانے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’اس قدم سے عمر عبداللہ نے مسلمانوں کے اندر بیگانگی کے احساس کو مزید گہرا کیا ہے۔‘‘
محبوبہ مفتی نے اردو اور انگریزی میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹویٹر) پر اپنے پیغامات میں لکھا کہ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے وقف بل منظور کرانے کے بعد کشمیر کا دورہ کرنے کا اسٹرٹیجک فیصلہ کیا اور سرینگر میں بھارت کے واحد مسلم اکثریتی خطے کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے انہیں ریڈ کارپٹ سے والہانہ استقبال کیا گیا۔
محبوبہ مفتی نے تاویل پیش کی کہ رجیجو کا دورہ اور عبداللہ باپ بیٹے کی طرف سے گرمجوشانہ استقبال ایک ایسا اقدام تھا جو واضح طور پر اور دانستہ طور پر پورے بھارت کے 24 کروڑ مسلمانوں کو یہ پیغام دینے کے لیے کیا گیا کہ ان کے خیالات اُس وقت کوئی اہمیت نہیں رکھتے جب ملک کے واحد مسلم اکثریتی علاقے کا رہنما ان کے حق میں کھڑا ہوتا ہے۔
محبوبہ کے مطابق ’’یہ دورہ ایشیا کے سب سے بڑے ٹیولپ باغات کے پس منظر میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کمیونٹی کی پسپائی اور کمزوری کا عوامی جشن منایا جا رہا ہو۔ وزیر اعلیٰ کے اقدامات نے نہ صرف مسلم کمیونٹی کے اندر بیگانگی کے احساس کو گہرا کیا بلکہ اس یکطرفہ فیصلے کو بھی جواز فراہم کیا جو مجموعی طور مسلمانوں کے مفادات کے برعکس مانا جا تا ہے۔‘‘
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’’آج کے دن اسمبلی اجلاس کے اختتام کو دیکھتے ہوئے حکومتی اتحاد کو ایک قرار داد منظور کرنے کو ترجیح دینی چاہئے جو وقف ایکٹ کو مسترد کرے، بجائے اسکے کہ اس معاملے پر سیاسی شعبدہ بازی کی جائے۔‘‘











