امت نیوز ڈیسک //
جموں: رامبن کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کلبیر سنگھ نے بتایا کہ آج رامبن ضلع کے ایک گاؤں میں قدرتی آفت کی وجہ سے تین لوگوں کی موت ہو گئی جب کہ ضلع میں 100 سے زیادہ لوگوں کو بچا لیا گیا۔
ایس ایس پی رامبن نے مزید کہا کہ کل رات سے ہی ضلع میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی بیچ رامبن ضلع میں بادل پھٹنے کی وجہ سے اچانک سیلاب جیسی صورت حال پیدا ہو گئی اور حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔
کلبیر سنگھ کے مطابق "بادل پھٹنے کی وجہ سے دو ہوٹلوں، دکانوں اور کچھ مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ قومی شاہراہ متعدد مقامات پر بند ہے۔ بگنا میں مسلسل بارشوں کے بعد مکان گرنے سے دو بچوں سمیت تین افراد کی موت ہو گئی۔”
انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور 100 سے زائد لوگوں کو بچا کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ فی الوقت بارشیں جاری ہیں اور موسم ٹھیک ہونے کے بعد بحالی کا کام شروع کیا جائے گا۔
اس دوران سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے کہا کہ رامبن کے علاقے میں رات بھر شدید ژالہ باری، متعدد لینڈ سلائیڈنگ ہوئیں اور تیز ہوائیں چلیں، بشمول رامبن شہر آس پاس کے علاقوں میں قومی شاہراہ بند ہے اور بدقسمتی سے اس دوران تین لوگوں کی موت ہو گئی اور املاک کا نقصان ہوا ہے۔
جتیندر سنگھ نے مزید لکھا کہ ”ڈپٹی کمشنر بصیر الحق چوہدری کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ضلع انتظامیہ بروقت اور فوری کارروائی کے لیے قابل ستائش ہے جس سے کئی قیمتی جانیں بچانے میں مدد ملی۔ مالی اور دیگر قسم کی ریلیف فراہم کی جا رہی ہے۔” انہوں نے کہا کہ ڈی سی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ، اگر ضرورت ہو تو مزید جو کچھ بھی درکار ہے، ایم پی کے ذاتی وسائل سے بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔”
سنگھ نے کہا کہ گذارش ہے کہ گھبرائیں نہیں۔ ہم سب مل کر اس قدرتی آفت نمٹنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس دوران، ایس ایس پی ٹریفک نیشنل ہائی وے (رامبن) راجہ عادل حامد گنائی نے کہا کہ بارشیں جاری ہیں، اور لینڈ سلائیڈنگ اور پتھراؤ کی وجہ سے ہائی وے پانچ مقامات پر بند ہے۔ "میں بھی اس جگہ پر ہوں جہاں نقصان ہوا ہے۔ بارش رک جانے کے بعد بحالی کا کام شروع کر دیا جائے۔










