امت نیوز ڈیسک //
سرینگر / وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کے تولبل نیویگیشن بیراج پروجیکٹ سے متعلق بیان پر سخت رد عمل دیا اور اُن پر سر حد پار کچھ لوگوں کو خوش کرنے کا الزام عائد کیا۔
سماجی رابطه گاها. ایکس” پر محبوبہ مفتی کی پوسٹ کے ؟ لی پوسٹ کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ جموں و کشمیر کے عوام کے مفادات کے خلاف سب سے بڑا تاریخی دھو کہ رہا ہے۔ میں نے ہمیشہ اس معاہدے کی مخالفت کی ہے اور آئندہ بھی کرتار ہوں گا۔
عمر عبد اللہ نے مزید کہا: در حقیقت، افسوسناک بات یہ ہے کہ سستی شہرت حاصل کرنے اور سرحد پار بیٹھے کچھ لوگوں کو خوش کرنے کی اندھی خواہش میں آپ یہ تسلیم کرنے سے انکار کر رہی ہیں کہ سندھ طاس معاہدہ جموں و کشمیر کے عوام کے مفادات کے خلاف ایک بڑا تاریخی ظلم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک غیر منصفانہ معاہدے کی مخالفت کرنا کسی بھی صورت میں جنگ پسندی نہیں ہے بلکہ ایک تاریخی نا انصافی کو درست کرنے کی کوشش ہے جس نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو اپنے ہی پانی کے استعمال کے حق سے محروم رکھا۔
اس سے قبل، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ایکس پر عمر عبداللہ کی پوسٹ کے رد عمل میں کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران تلبل نیویگیشن پروجیکٹ کو دوبارہ شروع کرنے کی بات کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کا تلبل نیویگیشن پروجیکٹ کو دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ اُس وقت میں انتہائی افسوسناک ہے جب ہندوستان اور پاکستان جنگ کے دہانے سے واپس لوٹے ہیں اور جموں و کشمیر نے اس کشیدگی میں بے گناہ جانوں کے نقصان، بڑے پیمانے پر تباہی اور شدید تکلیف کا سامنا کیا ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ خطرناک حد تک اشتعال انگیز بھی ہیں۔ انھوں نے ایکس پر لکھا کہ لوگ امن کے حقدار ہیں، جیسے کہ ملک کے باقی حصے کے لوگ۔ کسی ایسی چیز کو ہتھیار بنانا جو زندگی کے لیے ضروری ہو ، جیسے پانی، نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ اس سے ایک دوطرفہ معاملے کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کا خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
اس سے قبل عمر عبد اللہ نے ایک پوسٹ میں کہا تھا شمالی کشمیر میں واقع و ولر جھیل۔ جو سول ورکس ویڈیو میں نظر آرہے ہیں، وہ تلبل نیویگیشن بیراج ہے۔ اس پر 1980 کی دہائی کے اوائل میں کام شروع ہوا تھا لیکن پاکستان کے دباؤ میں، جو سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دے رہا تھا، یہ منصوبہ ترک کرنا پڑا۔ انہوں نے اس پروجیکٹ کو دوبارہ شروع کرن کی مانگ کی۔











