امت نیوز ڈیسک //
بڈگام : جموں کشمیر پولیس نے وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں کالعدم قرار دی گئی عسکری تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ تین اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیو) کو اسلحہ سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس بیان کے مطابق یہ گرفتاری ضلع کے ناربل علاقے میں انجام دی گئی۔
بڈگام پولیس نے گرفتار شدہ افراد کی شناخت مذمل احمد اور اشفاق پنڈت ساکنان اگلر، پٹن اور منیر احمد ساکنہ میرپورہ، بیروہ کے طور پر ظاہر کی ہے۔ بڈگام پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے قبضے سے ایک پستول اور ایک دستی بم برآمد ہوا جو وہ ممکنہ طور پر کسی تخریبی کارروائی کے لیے استعمال کرنے والے تھے۔
پولیس نے اس ضمن میں پولیس اسٹیشن ماگام میں ایک ایف آئی آر 66/2025 غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام (ایکٹ) کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
بڈگام پولیس کے مطابق ’’ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرفتار شدہ افراد کا رابطہ کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ سے وابستہ عابد قیوم لون ولد عبدالقیوم لون ساکنہ وُسن پٹن سے تھا، جو سال 2020 میں غیر قانونی طور پر سرحد پار کر کے پاکستان چلا گیا ہے۔ جہاں اس نے لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کی اور اب وہیں سے سرگرم ہو کر وادی میں نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنے، عسکری صفوں میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے اور مقامی سطح پر عسکری سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنے میں ملوث ہے۔‘‘
پولیس کے مطابق عابد قیوم ان گرفتار شدہ معاونین کو پار سے ہدایات دے رہا تھا، جن میں نہ صرف دہشت گرد کارروائیاں انجام دینا شامل تھا بلکہ دوسرے نوجوانوں کو بھی ورغلانے اور عسکری صفوں میں شامل کرنے کی کوشش کرنا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی گرفتاری سے ماگام-ناربل علاقے میں ایک ممکنہ تخریبی سازش کو ناکام بنایا گیا ہے۔
جموں کشمیر پولیس کا مزید کہنا ہے کہ اس ضمن میں تفتیش جاری ہے اور اس بات کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے کہ ان گرفتار شدہ افراد کے ساتھ اور کون افراد شامل تھے اور ان کے نیٹ ورک کی وسعت کہاں تک ہے، اس کا بھی سراغ لگایا جا رہا ہے۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیز ضلع بھر میں الرٹ ہیں اور اس کیس میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔










