امت نیوز ڈیسک //
امسال وادی کشمیر میں مسلسل خراب موسمی صورتحال کے بیچ گزشتہ کچھ دنوں سے گرمی کی لہر میںکافی اضافہ ہو گیا جس کے نتیجے میں لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔اتوار کو ایک مرتبہ پھر لوگوں کو شدید گرمی سے کوئی راحت نہیںملی اور ان کا درجہ حرارت 32ڈگری تک پہنچ گیا ۔اس دوران محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں مستقبل قریب میں بارشوں ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے تاہم 19مئی سے موسمی صورتحال میں تبدیلی کا امکان ہے اور بارشیںہو سکتی ہے جس سے لوگوں کو گرمی کی شدید لہر سے راحت ملے گی۔
سی این آئی کے مطابق جہاں ماہ مئی میں درجہ حرارت میں اضافہ کے نتیجے میں پائی جانے والی شدید گرمی کی وجہ سے اہل وادی کیلئے رات دن تکلیف دہ ثابت ہو رہے ہیں وہیں گرمی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کی ایک کڑی کے تحت سرینگر میں اتوارکا سب سے گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا ۔اتوارکو دن بھر شدید گرمی کی لہر جاری رہی جس دوران درجہ حرارت 32.2ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا ۔محکمہ موسمیات کے مطابق جموں میں بھی گرمی کی شدید لہر جاری ہے اور 41ڈگری سیلشس ریکار ڈ کیا گیا ۔ محکمہ کے مطابق وادی کشمیر میں آئندہ چند دونوں میں موسم میں تبدیلی آنے کے امکانات نہیں ہے اور مجموعی طور پر موسم خشک ہی رہیگا۔
تاہم انہوں نے اس بات کے امکانات ظاہر کئے ہیں کہ گرمی کی شدت میں کمی آسکتی ہے ۔کیونکہ 19 مئی سے بارشیں ہوسکتی ہے ۔ ادھر دن گرم ہونے کے ساتھ ہی مجموعی طور پر خشک موسم کی پیشینگوئی کے بیچ جموں و کشمیر کے بیشتر مقامات پر رات کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوا محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اگلے 24 گھنٹوں میں بنیادی طور پر خشک موسم کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ 19مئی تک کسی ”بڑی تبدیلی“کی توقع نہیں تھی حالانکہ شام کی بارش کے امکان کو، اگرچہ کم ہے لیکن مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔











