امت نیوز ڈیسک//
کیف:یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں یوکرین نے روس کے دور دراز اور محفوظ سمجھے جانے والے علاقے سائبیریا میں اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا ہے۔ اس حملے میں روس کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جہاں موجود کم از کم چالیس جنگی طیارے تباہ یا بری طرح متاثر ہوئے۔
یہ حملہ یوکرین کی سکیورٹی سروس کی جانب سے پاوُتنا یعنی "جال” کے نام سے کیے گئے ایک خفیہ اور منظم آپریشن کا حصہ تھا، جس کا مقصد روس کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی فضائی طاقت کو کمزور کرنا ہے۔ یوکرین کی جانب سے کیے گئے اس حملے میں سائبیریا کے ایرکٹسک علاقے میں واقع فوجی یونٹ کو نشانہ بنایا گیا۔
روسی گورنر نے اس حملے کی تصدیق کی ہے، جو اس خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ حملے میں اولینیا اور بیلایا نامی ہوائی اڈے خاص طور پر نشانے پر رہے، جہاں ٹی یو-95 اور ٹی یو-22ایم3 جیسے بمبار طیارے تباہ ہوئے۔ ایک جدید اے-50 ایئرلی وارننگ طیارے کے بھی تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔ بیلایا ایئربیس پر شدید آگ لگنے کے مناظر بھی سامنے آئے ہیں۔
اس حملے کی خاص بات یہ ہے کہ یوکرین نے ایسے علاقوں کو نشانہ بنایا ہے جو روس کے داخلی حصوں میں واقع ہیں اور عام طور پر حملوں سے محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ یوکرین کے پاس اگرچہ روس کی طرح میزائلوں کا ذخیرہ نہیں ہے، مگر اس نے ڈرون ٹیکنالوجی کو جنگی حکمتِ عملی میں نہایت مؤثر انداز سے استعمال کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حملے میں ایف پی وی ڈرونز استعمال کیے گئے، جو ممکنہ طور پر قریبی علاقوں میں کھڑے ٹرکوں سے لانچ کیے گئے۔ روسی ردعمل کے طور پر فوجی اور شہری ریسپانس یونٹس کو متحرک کر دیا گیا ہے اور حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈرون لانچ کرنے کے ذرائع کو بند کر دیا گیا ہے۔ تاہم یہ حملہ روسی دفاعی حکمتِ عملی پر ایک سنگین سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔
یوکرین کے اس اقدام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اب صرف دفاعی پوزیشن پر نہیں بلکہ مکمل جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کر چکا ہے۔ یہ حملہ نہ صرف جنگ کے میدان میں یوکرین کی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس جنگ کے پھیلاؤ کے خطرے کو نمایاں کرتا ہے۔
روس کی طویل فاصلے تک حملہ کرنے والی فضائی صلاحیت کو نشانہ بنانا یوکرین کی ایک بڑی اسٹریٹیجک کامیابی سمجھی جا رہی ہے، جو آئندہ کی لڑائی کا رخ متعین کر سکتی ہے۔ یہ واقعہ جنگ کے اس نئے مرحلے کا آغاز ہے، جہاں محاذ کی لکیریں واضح نہیں رہیں اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر حملے کہیں سے بھی کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ اب صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ جدید ٹیکنالوجی نے اسے ہر دروازے تک پہنچا دیا ہے۔










