امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: حکام نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ایسے میں انجمن اوقاف نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکام نے ایک بار پھر تاریخی عیدگاہ سرینگر اور جامع مسجد سرینگر میں عیدالاضحیٰ کی نماز کی اجازت نہیں دی۔
مسجد کے دروازے بند کر دیے گئے اور باہر پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے۔ یہاں تک کہ آج صبح فجر کی نماز بھی جامع مسجد میں ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کیونکہ دروازے مقفل رکھے گئے۔ میرواعظ کو بھی ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔
میرواعظِ کشمیر عمر فاروق نے ٹویٹ کیا
ادھر میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ اہکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ “عید مبارک! مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کشمیر ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کے ساتھ جاگا: نہ عیدگاہ میں نماز کی اجازت ملی، اور نہ ہی جامع مسجد کھولی گئی. یہ مسلسل ساتواں سال ہے۔ مجھے بھی میرے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے









