امت نیوز ڈیسک //
اسرائیل کی جانب سے دن بھر تہران پر حملوں کے بعد ایران نے پورے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش کر دی جب کہ صبح صادق کے وقت ایران کی جانب سے اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا گیا جس کے بعد تل ابیب، مقبوضہ بیت المقدس اور حیفہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایرانی میزائل حملے کے بعد حیفہ پاور پلانٹ میں آگ لگ گئی، ایرانی حملوں میں کم ازکم 5 اسرائیلی ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔
ایران نے صبح سویرے اسرائیل پر پھر میزائلوں کی برسات کردی، ایران نے اسرائیل میں تقریبا 100 میزائل داغے، حیفہ، تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی میزائل حملے سے اسرائیلی شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، صہیونی فوج نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی جب کہ حیفہ میں پاور پلانٹ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔
اسرائیلی میڈیا نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر یہ اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دے دیا جب کہ اسرائیلی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ایک بار پھر ناکام رہا، حیفہ اور تل ابیب میں نئے میزائل حملوں سے بھی جانی نقصان ہوا ہے۔
اسرائیلی اخبار ہیرٹز کے مطابق تازہ ترین حملوں کے نتیجے میں جنوبی اسرائیل میں کم از کم 5 اسرائیلی ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ حیفہ میں آگ لگی ہوئی ہے، وہاں بھی کچھ شہری زخمی ہوئے ہیں جب کہ شمالی اسرائیل میں بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق تازہ ہلاکتوں میں کے بعد 2 روز کے دوران ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد 19 تک جاپہنچی ہے جبکہ ایران پر اسرائیل کے حملوں میں شہید ہونے والے ایرانی شہریوں کی تعداد 224 تک جاپہنچی ہے جبکہ 1277 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق ایرانی میزائل حملوں کے بعد وسطی اسرائیل کا بڑا حصہ بجلی سے محروم ہوگیا جب کہ تل ابیب میں ایرانی میزائلوں نے متعدد اہداف کو براہ راست نشانہ بنایا۔
دوسری جانب، اسرائیل کی جانب سے بھی ایران پر میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے، صہیونی ریاست نے تہران، مشہد، اصفہان سمیت مختلف مقامات پر میزائل حملے کیے جب کہ اسرائیل نے ایران کی فورڈو جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مختلف شہروں پر اسرائیل کے حملوں میں جاں بحق ہونے والوں میں 90 فیصد شہری شامل ہیں جب کہ تہران میں اسرائیلی حملوں میں معصوم اور نومولود بچے بھی زخمی ہوئے ہیں۔
ایران نے بتایا کہ اسرائیل نے ایرانی وزارتِ خارجہ کی عمارت پر جان بوجھ کر حملہ کیا جس میں کئی شہری زخمی ہوئے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے ویڈیوجاری کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت خارجہ کی عمارت میں قائم لائبرئیری کی کھڑکیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔
اس سے قبل، رات گئے کیے گئے حملے میں ایران کے میزائل پہنچتے ہی اسرائیل کے تل ابیب، حیفہ اور دیگر شہروں میں سائرن بج اٹھے تھے، شہریوں کو شیلٹرز کی جانب جانے اور اگلے احکام تک وہاں سے نہ نکلنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔
اسرائیل نے اپنے تمام ہوائی اڈے اور فضائی حدود مکمل طور پر بند کردی ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل اسرائیل کے کئی مقامات پر ٹکرانے کی اطلاعات کے بعد ایمرجنسی سروسز کو روانہ کیا گیا ہے۔
یروشلم پوسٹ کے مطابق ’زکا‘ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شمالی اسرائیل میں ایک عمارت پر براہ راست میزائل ٹکرایا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران کے ہائپرسونک میزائل کے حملے میں اسرائیل میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، متعدد لوگ زخمی ہیں، ہزاروں لوگ زیر زمین جاچکے ہیں، جب کہ اسرائیل میں خوف کا سماں ہے
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایران کے حملے کے بعد اسرائیل کی جانب سے وسطی ایران میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ میزائل تنصیبات ہیں۔
تہران ٹائمز کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے کہا ہے کہ یہودی قابضین مقبوضہ علاقے چھوڑدیں، کیوں کہ یہی ان کی بقا کا واحد راستہ ہے، جرائم پیشہ لوگوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسرائیل پر بڑے میزائل حملے کے بعد ایران کے کئی صوبوں میں احواظ دفاعی نظام کو فعال کردیا گیا ہے، تہران ٹائمز کے مطابق یہ اقدام انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔
اسرائیلی حملوں میں اب تک 224 ایرانی شہید
ایران کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تہران پر حملوں کے آغاز سے اب تک 224 افراد شہید ہوچکے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل شادمانی نے کہا ہے کہ جان لیوا کارروائیاں اُس وقت تک جاری رہیں گی جب تک اسرائیلی اپنی جارحیت پر مکمل طور پر پچھتانے نہ لگیں۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بہت زیادہ شدت کے ساتھ جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی جارحیت کے جواب میں ایران نے اتوار کو تل ابیب، وسطی اور شمالی اسرائیلی شہروں پر بیلسٹک میزائل سے حملے کیے تھے، قیصریہ میں ایرانی حملے سے نیتن یاہو کا خاندانی گھر بھی متاثر ہوا تھا۔









