امت نیوز ڈیسک //
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں بدھ کے روز سری نگر میں جموں و کشمیر کی کابینہ کی میٹنگ ہوئی، جس نے کابینہ کی ذیلی کمیٹی سے کہا ہے کہ وہ کچھ خامیوں کو دور کرنے کیلئے’’اپنی رپورٹ پر دوبارہ کام کر ے‘‘تاکہ اسے قانونی طور پر قابل عمل دستاویز بنایا جا سکے۔ کابینہ کے اجلاس میں ہونے والی بات چیت سے واقف قابل اعتماد ذرائع نے بتایا کہ رپورٹ، جس کے بارے میں اندازہ لگایا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ وہ میٹنگ کااہم ایجنڈا ہوگا،صرف مختصر طور پر زیر بحث آیا۔کیا یہ (رپورٹ) باضابطہ طور پر کابینہ کو پیش کی گئی ہے، اس سوال کا جواب مختصر تھا ’’نہیں، اس رپورٹ پر زیادہ غور و خوض نہیں ہوا‘‘۔
زرائع نے وضاحت کے بعد کہا’’اسے کابینہ میں پیش نہیں کیا گیا ہے کیونکہ اس میں کچھ خامیاں ہیں۔ اسے فول پروف بنانے کے لیے ان نکات پر نظر ثانی کی جائے گی۔ امکان ہے کہ کابینہ کے آئندہ ایک یا دو اجلاسوں میں سفارشات پر مزید غور کیا جائے گا‘‘۔کیا خاص طور پر اس مقصد کے لیے کابینہ کے اگلے اجلاس کے لیے کوئی تاریخ طے کی گئی ہے؟ اس سوال کا کھلا جواب تھا’’نہیں، ابھی نہیں‘‘۔اگرچہ کابینہ کا باقاعدہ ایجنڈا بھی غور و خوض کے لیے تھا، لیکن سیاسی، میڈیا اور سماجی حلقوں میں پھیلی ہوئی تشہیر، واضح وجوہات کی بناء پر، بنیادی طور پر تین رکنی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات کے گرد گھومتی تھی، جو ریزرویشن کے قوانین کے بارے میں مختلف عہدوں کے لیے امیدواروں کے ایک حصے کی جانب سے پیش کردہ شکایات کی جانچ کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ ذرائع نے بتایا’’کابینہ کے سامنے پورا ایجنڈا صاف نہیں ہو سکا۔ ادھم پور کے ایک پی ایچ ای پروجیکٹ کو منظوری دے دی گئی۔ اس کے علاوہ شری امرناتھ یاترا اور سیاحت کو فروغ دینے کے بارے میں خاص غور و خوض کیا گیا، جو اس وقت سب کے ذہنوں میں ہے۔ اسی طرح، بات چیت کے بعد ایجنڈے میں شامل کچھ دیگر امور کے بارے میں بھی بات ہوئی‘‘۔10جون 2025کو پینل کو دی گئی چھ ماہ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد ریزرویشن سے متعلق کابینہ کی ذیلی کمیٹی رپورٹ کے حوالے سے سنسنی نے زور پکڑ لیا۔اپوزیشن کے جھنجھلاہٹ اور ’’تعلق داروں‘‘کے دباؤ کا سامنا کرتے ہوئےوزیر تعلیم، صحت اور طبی تعلیم اور سماجی بہبود کی وزیر سکینہ ایتو، جو پینل کا حصہ بھی ہیں، نے ‘X’ پر پوسٹ کیا کہ کابینہ سب کمیٹی جلد ہی اپنی رپورٹ کابینہ میں پیش کرے گی۔انہوں نے 10 جون کو پوسٹ کیا تھا’’جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ریزرویشن کے معاملے کی جانچ کرنے کے لیے بنائی گئی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے 6ماہ کے مقررہ وقت کے اندر اپنی رپورٹ کا مسودہ تیار کیا ہے۔ رپورٹ کو کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا‘‘۔ایک دن بعد، یعنی 11جون کو، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا’’کابینہ کی ذیلی کمیٹی (سی ایس سی) نے اپنی رپورٹ (ریزرویشن پر) تیار کر لی ہے۔










