امت نیوز ڈیسک //
جموں : جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز جموں میں زور دے کر کہا کہ وہ یونین ٹیریٹری کے پانی کو پنجاب کی طرف موڑنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے، کیونکہ ’’یہ پانی جموں و کشمیر کے عوام کا حق ہے۔‘‘
جموں کے کنوینشن سینٹر میں ’رابطہ دفتر‘ کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا: ’’سندھ طاس معاہدے کے تحت تین دریا پنجاب کو دیے گئے تھے، لیکن جب ہمیں پانی کی شدید ضرورت تھی تو ہمیں ایک قطرہ بھی نہیں دیا گیا۔ شاہ پور کنڈی بیراج منصوبے کے ذریعے جد و جہد کے بعد کچھ پانی حاصل ہوا ہے، لیکن اب جموں و کشمیر کا پانی پنجاب کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال جموں میں پانی کی قلت ہے اور نلکے خشک ہو چکے ہیں۔ ’’میری ترجیح جموں و کشمیر کے لوگوں کو پانی فراہم کرنا ہے، اور ہم اکھنور سے جموں تک پانی اٹھانے اور تلبل نیویگیشن بیراج پر کام کر رہے ہیں۔‘‘
ریزرویشن کے حوالے سے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ’’کابینہ نے رپورٹ کو منظور کر کے قانونی جانچ کے لیے محکمہ قانون کو بھیج دی ہے۔ پورے ملک میں مختلف حکومتوں نے ایسی کمیٹیاں بنائیں، لیکن پہلی بار کسی کمیٹی نے مقررہ وقت میں اپنی رپورٹ مکمل کی ہے۔‘‘
پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی کی طرف سے رپورٹ پر تنقید کے جواب میں عمر نے کہا: ’’میرے پاس محبوبہ مفتی کے کئی ایکس پوسٹس موجود ہیں جب وہ اننت ناگ سے پارلیمانی انتخاب لڑ رہی تھیں اور انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو ریزرویشن پر بات نہ کرنے کی ہدایت دی تھی، کیونکہ وہ ووٹ حاصل کرنا چاہتی تھیں۔‘‘
ایران-اسرائیل جنگ کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ جنگ کبھی بھی اچھی چیز نہیں ہوتی۔ ’’کچھ عرصہ قبل امریکی انٹیلی جنس چیف نے کہا تھا کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار بنانے کے قریب نہیں، پھر اسرائیل نے اب حملہ کیوں کیا؟ یہ کشیدگی مناسب نہیں کیونکہ وہاں سینکڑوں بھارتی شہری اور طلبہ پھنسے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں بعض (کشمیری طلبہ) کو واپس لایا گیا ہے، اور ہم باقی کو بھی نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
ریاستی درجہ بحال کرنے کے حوالے سے عمر نے کہا، ’’مجھے اب بھی امید ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی جلد اپنا وعدہ پورا کریں گے۔‘‘










