جموں و کشمیر کی سیاست میںایک نیا تنازع اُبھر آیا ہے۔بی جے پی نے آئندہ نائب تحصیلدار (ریونیو افسر) کی بھرتی کے امتحان میں اُردو زبان کی لازمی جانچ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے برخلاف حکمران جماعت نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سمیت دیگر پارٹیوں نے بی جے پی کے اس مطالبے کی سخت مخالفت کی ہے اور اُس پر جموں و کشمیر کی ثقافتی وراثت کو مٹانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔
اس ضمن میں سینئر بی جے پی رہنما اور جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف، سنیل شرما نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی اور نائب تحصیلدار کے عہدے کے لیے اہلیت کے معیار کے طور پر اُردو کے عملی علم کو ختم کرنے کے لیے اُن کی مداخلت کی اپیل کی۔
نائب تحصیلدار کے امتحان میں اُردو کا علم لازمی
9 جون کو جموں و کشمیر سروس سلیکشن بورڈ نے یو ٹی کے ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں نائب تحصیلدار کے 75 عہدوں کے لیے تحریری امتحان کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ امتحان کے لیے اپنے رہنما خطوط میںحسبِ معمول، جے کے ایس ایس بی نے واضح کیا کہ ان عہدوں کے لیے تحریری امتحان کا دوسرا پرچہ امیدوار کی ’’اُردو کے عملی علم‘‘ کی جانچ کرے گا۔یاد رہے اردو کا استعمال ریونیو ریکارڈ، زمین کی تصفیہ، عدالتی فیصلوں کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں قانونی خط و کتابت میں بھی ہوتا ہے، جس سے ریونیو سے متعلقہ عہدوں کے لیے زبان کا عملی علم ضروری ہے۔
سیاسی جماعتوں کو مؤقف
بی جے پی جموں و کشمیر یونٹ کے سربراہ سنیل شرما کے جموں و کشمیر میں نائب تحصیلدار امتحان کے لیے اردو کے عملی علم کو لازمی نہ کرنے کے مطالبے نے وادی میں تشویش کو جنم دیا ہے۔ وہیںحکمراں نیشنل کانفرنس اور اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) دونوں نے بی جے پی پر’’جموں و کشمیر کے ثقافتی ورثے کو مٹانے‘‘کا الزام لگایا ہے۔
جموں و کشمیر کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی اور ان سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اردو کو جموں و کشمیر کی پانچ سرکاری زبانوں میں سے ایک بنانا ’’مساوات مواقع اور انتظامی انصاف کے آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، اور یہ ایک غیر ضروری رکاوٹ پیدا کرتا ہے، خاص طور پر جموں کے امیدواروں کو نقصان پہنچانے میں۔‘‘
نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے اور پارٹی کے چیف ترجمان تنویر صادق نے بی جے پی لیڈر کے مطالبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے ریونیو، عدالتی اور انتظامی سیٹ اپ میں اردو کا مقام’’تاریخ میں جڑا ہوا ہے، کسی سیاسی یا فرقہ وارانہ ایجنڈے میں نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اردو 130 سال قبل مہاراجہ کے دور حکومت میں جموں و کشمیر کی سرکاری انتظامی زبان بن گئی تھی، جو قدرتی طور پر تمام خطوں اور برادریوں کے لیے متحد اور فعال زبان کے طور پر تیار ہوئی تھی۔
پی ڈی پی کے پلوامہ کے ایم ایل اے وحید پرہ نے بھی اردوزبان کی ضرورت کو ہٹانے کے خلاف انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مطالبہ’’جموں و کشمیر کے امیر آرکائیوز اور ثقافتی ورثے کو مٹانے کا خطرہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’اردو ایک زبان سے بڑھ کر ہے، یہ اس خطے کے ورثے کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسے ختم کرنا برادریوں میں تقسیم پیدا کرے گا۔‘‘ انھوں نے نیشنل کانفرنس حکومت پر زور دیا کہ وہ بی جے پی کی ’’اردو زبان سے نفرت‘‘ کے خلاف مزاحمت کرے۔
اُردو جموں و کشمیر کی سرکاری انتظامی زبان
آزادی کے پہلے کے زمانے سے ہی اُردو جموں و کشمیر کی سرکاری انتظامی زبان رہی ہے۔ ابتدائی ڈوگرہ دور میں فارسی جموں و کشمیر کی سرکاری زبان تھی، لیکن ایک صدی سے بھی پہلے مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے اُردو کو واحد سرکاری زبان بنا دیا تھا۔ جموں و کشمیر کے ریونیو محکمے میں بھرتی کے لیے اُردو کا عملی علم ہمیشہ سے ایک لازمی شرط رہی ہے، کیونکہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں تمام زمین کے ریکارڈ اُردو زبان میں ہی موجود ہیں۔
اگست 2019 میں جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ 370 کو ختم کرنے کے بعد، ستمبر 2020 میں مرکز میں حکمران بی جے پی نے پارلیمان میں جموں و کشمیر آفیشل لینگویجز بل 2020 منظور کیا، جس میں پہلے سے موجود اُردو کے ساتھ کشمیری، ڈوگری، ہندی اور انگریزی کو بھی جموں و کشمیر کی سرکاری زبانوں کے طور پر شامل کیا گیا۔ اس بل میں کہا گیا ہے کہ ان پانچ زبانوں کا استعمال مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں’’تمام سرکاری مقاصد کے لیے‘‘ کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر میں اردو کا مستقبل
اردو زبان و ادب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اردو صدیوں سے سابق ریاست کے تینوں خطوں میں مختلف زبانیں بولنے والے باشندوں کے درمیان ایک پل کے علاوہ تینوں خطوں کی عوام کے لیے رابطے کی زبان ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ سرکار اردو کی جگہ دوسری متبادل زبان جموں و کشمیر میں سرکاری زبان کے طور پر لاگو کرنے سے یہ ایک انسان کو اس کی روح سے منقطع کرنے کے مترادف ہے۔ اردو زبان کو تبدیل کرنا کشمیر کی تہذیب پر یلغار ہے۔
واضح رہےجموں وکشمیر کے پورے خطے میں اردو کو ایک مشترکہ زبان سمجھا جاتا ہے۔یہ جموں وکشمیر کےعوام اور انتظامیہ کے مابین بھی ایک لنک زبان کے طور پر کام کرتی ہے۔یہ اپنے مختلف شکلوں میں بولی جاتی ہے۔ نہ صرف مسلمان بلکہ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے علاوہ سکھوں ، عیسائیوں ، بودھوں اور دیگر مذہبی اور نسلی گروہوں کے ذریعہ بھی اردو بولی جاتی ہے۔
31 اکتوبر2019 کو(جموں وکشمیر تنظیم نو قانون 2019)کے نفاذ کے ساتھ ہی جموں وکشمیر کی سرکاری زبان ہونے کا اعزاز کھو دینے والی ’’اردو‘‘ جہاں سرکاری سطح پر مسلسل عدم توجہی اور غیر ذمہ دارانہ سلوک کی شکار ہے وہیں عوامی سطح پر بھی اس کے ساتھ روا رکھا جا رہا برتاؤ بھی حوصلہ شکن ہی ہے۔
ارود کے محبوں اور شیدائیوں کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں اردو کے فروغ کے لئے سرکاری سطح پر کسی منظم ادارے بالخصوص اردو اکیڈمی کا ناپید ہونا اردو زبان کے تنزل کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اگر چہ جموں وکشمیر میں اردو اخبارات کی ایک کثیر تعداد شائع ہورہی ہے لیکن اس کے باوصف بھی اردو زبان کا مستقبل غیر محفوظ ہے، اردو کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ زمینی سطح پر ایک ہمہ گیر مہم شروع کی جائے اور اس سلسلے میں کم سے کم دکانداروں کو اردو زبان میں بورڈ و دیگر مواد شائع کرانے پر رضامند کیا جائے۔جموںو کشمیر میں جہاں ایک طرف سرکاری محکموں میں انگریزی زبان کو اردو پر ترجیح دی جارہی ہے اور لگ بھگ تمام سرکاری دفاتر کے بورڑ انگریزی زبان میں تحریر ہیں وہیں وادی کشمیر کی بیشتر دکانوں کے بورڈ بھی انگریزی زبان میں ہی لکھے گئے ہیں۔
محبان اردو کا کہنا ہے کہ ریاست کا یونین ٹریٹری میں تبدیل ہونے کے بعد سرکاری محکموں پر لگائے جانے والے نئے بورڈ انگریزی زبان میں ہی ہوتے ہیں بلکہ پرائیویٹ ادارے بھی انگریزی زبان میں تحریر بورڈ لگانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ کوچنگ سینٹروں کے شہر ودیہات میں سڑکوں اور گلی کوچوں میں نصب بورڈ انگریزی زبان میں ہی ہیں۔
یاد رہےپی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط حکومت کے دور میں سال 2018 میں اردو زبان کے فروغ کے لئے’’اردو کونسل‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا لیکن اس کونسل کی سرگرمیاں محض چند میٹنگوں تک ہی محدود رہی۔ بعض سرکاری افسران کونسل کے رکن تھے جن کا اردو کے ساتھ کوئی سروکار تھا نہ اردو کے ساتھ کوئی ہمدردی تھی۔محبان اردو کا ماننا ہے کہ جہاں سرکاری سطح پر اردو کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جارہا ہووہاںعوامی سطح پر بھی یہاں اردو کے ساتھ ہمدردی زبانی جمع خرچ تک ہی محدود ہے۔










