ایران پر اسرائیل کے حملے نے دنیا میں ایک بے یقینی کیفیت کو جنم دیا ہے۔ جہاں مسلم ممالک نے یک زبان اسرائیلی حملے کی پُرزور مذمت کی ہےوہیں مغربی ممالک اسرائیل کی پشت پر نظر آرہے ہیں۔ دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ایک ملک جو خود دوسروں کی زمین ہڑپ کرکے انسانی حقوق کو پاؤں تلے روندھ کر‘ یکے بعد دیگرے تمام ہمسایہ ممالک کے لیے وبال جان بنا ہوا ہے، دنیا کو اپنی معصومیت کی دہائی دیتا پھرتا ہے۔ اس پر طرہ یہ ہے مغرب کا پروپیگنڈہ نظام اس میں بھرپور اس کی حمایت کرتا ہے۔
اسرائیل ہمسایہ ممالک کے لیے وبال جان بنا ہوا ہے۔ ابھی غزہ میں اس کی ہولناکیاں جاری و ساری تھیں، تو اس نے پہلے لبنان، پھر شام اور یہاں تک کہ بلاجواز اب ایران کو بھی اپنی دہشت کا نشانہ بنا دیاہے۔
دنیا اسرائیل کی لاکھ مذمت کرے لیکن اس ملک کے حکمران ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔ وہ اپنی چودھراہٹ کے توسط خود ساختہ مسیح بنا پھر رہا ہیں۔ امریکہ کی آشرباد سے یہ حکمران دنیا کے لیے ناسور بن چکے ہیں۔ ایسا ناسور جسے اگر وقت پر قابو نہیں کیا گیا پوری دنیا کے خرمن میں امن کو بصم کرکے رکھ دے گا۔
جہاں دنیا کے بیشتر ممالک کے حکمران نےاسرائیل کی ایران پر جارہانہ حملے کی مذمت کی ہے وہیں جموں و کشمیر کی بیشتر سیاسی جماعتوں نے بھی اس ضمن میں مذمتی گردان جاری کردی ہے۔ گرچہ جموں و کشمیر کے سیاسی جماعتوں کی یہ مذمت اسرائیل کے عزائم کو روکنے میں کوئی بہ معنی کا کام نہیں ادا کرے گی لیکن ظلم کے خلاف احتجاج ضرور ریکارڈ ہوگا۔ بقول ساحر ؔلدھیانوی ؎
قاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہے










