کپواڑہ کے کھمیریال علاقے سے تعلق رکھنے والے زبیر الا سلام نے قومی اہلیت کم داخلہ ٹیسٹ (نیٹ) امتحان پاس کرلیا ہے۔ زبیرالاسلام کی کہانی کیوں اہم ہے کیونکہ ماضی میں ان پرپبلک سیفٹی ایکٹ( پی ایس اے) عائد کرنے کے لیے پولیس تیاری کررہی تھی۔
2023 میں کپواڑہ پولیس نے’مختلف الزامات‘ کی بنیاد پرنے زبیر الاسلام کے خلاف پی ایس اے عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ جس کے بعد زبیر کے افراد خانہ نے پیپلز کانفرنس چیرمین سجاد غنی لون سے اس بارے میں رابطہ کیا۔
سجاد لون کے مطابق ’’مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوا؟ البتہ مجھے یقین تھا کہ کچھ کرنا ہے تاکہ زبیر کو بچایا جاسکے۔‘‘
اس ضمن میں پیپلز کانفرنس چیرمین نے کپواڑہ کے اس وقت کے ایس ایس پی سے رابطہ کرلیا اور ان سے زبیر کے بارے میں استفسار کیا۔
سجاد لون کا کہنا ہے کہ ’’ہم دونوں(سجاد لون اور ایس ایس پی) نے کئی مرتبہ زبیر کے بارے میں بات کی لیکن اکثر دنوں کی رائے مختلف رہی۔‘‘
بالاآخر ایس ایس پی کپواڑہ نے سجاد لون کو واپس کال کرکے بتادیا کہ ان کو بھی لگتا ہے کہ زبیر کو ایک موقع ملنا چاہیے۔
سجاد لون کا کہنا ہے کہ پولیس آفیسر کے بروقت’ بہتر فیصلے ‘کی وجہ سے سماج کو ایک اور ڈاکٹر خدمت کے لیے مل گیا۔
زبیر الاسلام کون ہے؟
زبیر الاسلام کا تعلق کپواڑہ کے کھمریال علاقے سے ہے۔ 2019 میں انہوں نے آرمی گُڈوِل اسکول کپواڑہ سے بارویں جماعت کا امتحان پاس کرلیا۔ اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی ایس سی ڈگری کے لیے داخلہ لے لیا لیکن دو سال بعد خرابی صحت کی وجہ سے واپس گھر آگئے۔اور نیٹ امتحان کے لیے تیاری شروع کردی۔
پہلی بار میں زبیرالاسلام کو بی یو ایم ایس ڈگری کے لیے گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج گاندربل میں داخلہ ملا۔رواں برس انہوں نے پھر سے امتحان دے کر535 نمبرات حاصل کرکے 99.05 فیصد کے حساب سے آل انڈیا لیول 20112 ویں پوزیشن حاصل کرلی۔
واضح رہےماضی میں زبیر پر الزام تھا کہ وہ ’’انتظامیہ کے خلاف سرگرمیوں ‘‘میں ملوث تھے۔
سجاد لون کا شکریہ
پیپلز کانفرنس چیرمین سجاد غنی لون نے لیفٹیننٹ گورنر آفس کا بھی اس ضمن میں شکریہ ادا کیا کہ ان کی رضامندی کے بغیر زبیر کے بارے میں رعایت ملنا ممکن نہیں تھا۔
سجاد لون کا ماننا ہے کہ زبیر کی کامیابی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ’’کشمیر کی صورتحال میں کامیابی محبت اور شفقت میں مزین ہے۔۔۔۔چلین زبیر کی کامیابی کے جشن کو ہم سب منائیں۔‘‘
(نوٹ: یہ تحریر سجاد غنی لون کی’’ ایکس‘‘ پر شائع پوسٹ پر مبنی ہے، جس میں انہوں نے زبیر کی کہانی کا ذکر کیا ہے)










