امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اعتراف کیا کہ پہلگام حملے کے بعد امرناتھ یاتریوں کی رجسٹریشن میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال اب تک یاترا کے لیے رجسٹریشن کرانے والے یاتریوں کی تعداد میں 10 فیصد سے زیادہ یعنی تقریباً 35 سے 40 ہزار کی کمی آئی ہے۔
پچھلے سال امرناتھ یاترا میں ریکارڈ 5.12 لاکھ ہندو یاتریوں نے شرکت کی تھی، جو گزشتہ 12 برسوں میں سب سے زیادہ تھی۔ تاہم، اس سال 22 اپریل کو پہلگام میں ہوئے حملے میں ایک مقامی گھوڑے بان کے ساتھ ساتھ25 سیاح مارے گئے تھے۔ حملے کے بعد جموں کشمیر میں میں صورتحال کافی تبدیل ہو گئی۔
ایل جی سنہا نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’’22 اپریل سے قبل 2,36,801 یاتریوں نے رجسٹریشن کرائی تھی، تاہم اب تک صرف 85,000 یاتریوں نے اپنے آنے کی تصدیق کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تعداد بڑھے گی۔‘‘ ایل جی سنہا نے ’آن اسپاٹ‘ رجسٹریشن کا حوالہ دیتے ہوئے یاتریوں کی بہتر تعداد کی امید ظاہر کی۔
شری امرناتھ جی شرائن بورڈ کے چیئرمین منوج سنہا نے رواں ماہ امرناتھ یاترا کے ایک روٹ – بالتل – راستے سے خود پوتر گپھا کے درشن کیے۔ یاد رہے کہ روایتی یاترا روٹ – پہلگام – کے علاوہ وسطی کشمیر کے بالتل روٹ سے بھی یاترا انجام دی جاتی ہے۔










