اُمت رپورٹ/عاصم فاروق
جموںو کشمیر کی سیاست میں پھر ایک دلچسپ موڑ اس وقت نظر آیا جب سجاد غنی لون اور دیگر سیاست دانوں نے ہاتھ ملا کر ایک نئے سیاسی متحدہ محاذ تشکیل دینے کا اعلان کیا۔’’ دی پیپلز الائینس فار چینج‘‘ نامی اس متحدہ سیاسی فرنٹ میں سجاد غنی لون کے علاوہ سرینگر کے سابق میونسپل کونسلر شیخ عمران، پی ڈی ایف کے حکیم محمد یاسین قابل ذکر ہیں۔ جبکہ جماعت اسلامی کی حمایت یافتہ تصور کی جانے والی ’’جسٹس اینڈ ڈیولوپمنٹ فرنٹ‘‘ بھی اس سیاسی اتحاد میں شامل ہو گئی ہے۔ ان تمام لیڈران نے پیپلز کانفرنس کے سربراہ اور ایم ایل اے ہندوارہ سجاد غنی لون کے ساتھ ہاتھ ملا کر دی پیپلز الائینس فار چینج(PAC) کا ایک مشترکہ سیاسی اتحاد قائم کیا ۔
اتحاد کا اعلان
پی اے سی نامی اتحاد میں شامل ہوئے لیڈران نے30 جون پیر کوسرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس اتحاد کا باضابطہ اعلان کیا ۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون نے کہا کہ’’ اس اتحاد میں وہ لیڈران شامل ہوئے ہیں جو ہم خیال ہیں اور جموں وکشمیر کی سیاسی خلا کوپُر کرنے کےلئے یہ پلیٹ فارم ایک سیاسی متبادل کے طور پر اُبھرے گا۔‘‘
جے ڈی ایف کے صدر شمیم احمدٹھوکر نے اس موقع ہر کہا کہ’’ اس الائینس کےقیام سےجموںو کشمیر کے عوام کے احساسات و جذبات کو ایک آواز ملے گی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود بھی یہ فورم قومی مشترکہ مفادات کےلئے زمینی سطح پر کام کرے گا۔‘‘
شمیم احمد نے کہا کہ’’ یہ پلیٹ فارم یقینی طور پر عدم استحکام کو دور کرنے کےلئے ایک متبادل کے طور پر اُبھرے گا۔‘‘ان کا کہنا تھاکہ جموں وکشمیر کے لوگوں نے بہت سے مصائب جھیلے ہیں اور اس اتحاد کے لیڈران نے کافی قریب سے عام لوگوں کی طرح ان مصائب کو جھیلا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ’’ہم خیال رکھنے والے تمام دیگر سیاست دانوں کےلئے بھی یہ پلیٹ فارم کھلا رہے گا۔‘‘
پی ڈی ایف کے سربراہ حکیم محمد یاسین نے اس موقعہ پر کہا کہ’’ دی پیپلز الائینس فار چینج ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو مستحکم اور منصوبہ بند حکمت عملی تحت کام کرے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہاں کی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ کشمیر ، جموں اور دلی میں الگ الگ باتیں کی ہیں جسکے نتیجے میں یہاں کے لوگوں کا کافی سیاسی استحصال ہوا ہے۔ حکیم یاسین نے کہا کہ یہاں کے سیاست دانوں کی ناقص پالسیوں کی وجہ سے یہاں کے عوام کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا متحدہ فرنٹ اس سیاسی استحصال کو ختم کرنے کا کام کرے گا اور زمینی سطح پر جموں وکشمیر کے لوگوں کی فلاح اور وقار کے لئے کام کرے گا۔ حکیم یاسین نے کہا کہ یہ فرنٹ ایسے لوگوں کی آواز بن کر ابھرنے کی کوشش کرے گا جن کی آواز کسی نہ کسی طرح سے دبائی جاتی ہے۔
سرینگر کے سابق ڈیپٹی میئرشیخ عمران نے اس موقعہ پر کہا کہ’’ دی پیپلز الائینس فار چینج ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔‘‘ شیخ عمران نے کہا کہ یہ فرنٹ سیاسی امنگوں کے ساتھ ساتھ سیاسی استحصال کو ختم کرنے کے لئے سرگرم رہے گا۔ شیخ عمران نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں کی داد پرسی کسی بھی کوارٹر سے نہیں ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہاں کے جوان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ یو ٹی سرکار کم اختیارات کا رونا رو رہی ہے تاکہ ان کی ناکامیوں کو کسی نہ کسی طرح سے چھپایا جا سکے۔ شیخ عمران نے کہا کہ الائینس ایک آواز بن کر نئی دلی کی سرکار کو بتائیگا کہ یہاں کے لوگوں کا درد کیا ہے اور کس طرح سے اس درد کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
کشمیر کی سیاسی صورتحال پراس اتحاد کے ممکنہ اثرت
جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے محض8 ماہ بعد کشمیر میں ایک نیا سیاسی اتحاد معرض وجود میں آیا ہے ۔دیکھا جائے تو پی اے سی خود کو ایک متبادل سیاسی آواز کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ کشمیر کی روایتی سیاستی جماعتیں ہر چھ سال (اسمبلی انتخابات کے بعد ) کرسی تبدیل کرتی رہتی ہیں جس سے کشمیر کی سیاست میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی ہے اور پی اے سی کا مقصد لوگوں کو ایک سیاسی تبدیلی کی طرف لےجانا بھی ہے ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ پی اے سی جس سیاسی تبدیلی کی بات کررہا ہے وہ تبدیلی کیسے آئیگی ؟یقینا وہ تب ہی آئیگی جب یہ اتحاد ایک متبادل پروگرام، ایک متبادل روڈ میپ لوگوں کے سامنے پیش کرے گا ۔اس کے علاوہ نئے اور متبادل سیاسی اہداف اپنے لئے تعین کرے گا … کیا اس نے ایسا کیا ہے؟ جواب نفی میں ہے ۔
پی اے سی نے جو روڈ میپ پیش کیا ہے اس میں370کی بحالی، 35 اے کی واپسی اور ریاستی درجے کی بحالی کی بات کی گئی ہے۔اس کے علاوہ سیاسی نظر بندوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔
اگر اس روڈ میپ کا سرسری جائزہ لیا جائے تو اس میں کوئی نئی بات، کوئی نیا سیاسی ہدف نظر نہیں آرہا ہے جس کی کشمیر کی روایتی سیاسی جماعتیں بات نہیں کررہی ہیں ۔نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی ‘ دونوں جماعتیں 370، 35اے کے علاوہ ریاستی درجے کی بحالی کی باتیں کررہی ہیں تو ان کے اور پی اے سی کے ایجنڈا میں کیا فرق ہے ؟اس میں نیا یا متبادل کیا ہے ؟
سچ تو یہ ہے کہ کشمیر کی سیاست کا محور ہمیشہ جذباتی ایشوز رہے ہیں ۔شیخ محمد عبداللہ نے محاذ رائے شماری کو اپنی سیاست کا محور بنا دیا۔زائد از دو دہائیوں تک یہ نعرہ ان کی سیاست کا مرکزی خیال رہا اور پھر اسے ترک کرکے اقتدار کو چُن لیا ۔
عصر حاضر کی سیاسی جماعتیں ‘ اب 370/35اے اور ریاستی درجے کی بحالی پر سیاست کررہی ہیں ۔یہ جماعتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ 370/35 اے کبھی بحال نہیں ہوں گے ۔ انہیں ملک کی پارلیمنٹ نے ختم کردیا اور اس فیصلے کی توثیق سپریم کورٹ نے بھی کی۔لیکن اس کے باوجود کشمیر کی سیاسی جماعتیں اس دفعہ کی بحالی کا جذباتی نعرہ بلند کرکے اس پر سیاست کررہی ہیں ۔پی اے سی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ‘حالانکہ اس نے خود کو کشمیر میں ایک سیاسی متبادل کے طور پر پیش کیا ہے ۔ اگر وہ خود کو ایک متبادل کے طور پر پیش کررہا ہے تو اس کا سیاسی ایجنڈا بھی کشمیر کی روایتی سیاسی جماعتوں سے مختلف ہونا چاہئے …
اخذ یہی ہوتا ہے کہ اس اتحاد سے جموں و کشمیر کی عمومی سیاست پر کچھ زیادہ اثر نہیں پڑے گا، ہاں البتہ اس اتحاد میں شامل پارٹیوں کو’ ڈوبنے سے بچنے کا سہار‘ ضرور مل گیا ہے۔ کیونکہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ان پارٹیوں کی کارکردگی اور بیانیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر کی عوام نے فی الحال کے لیے ان پارٹیوں اور لیڈران کو مسترد کردیا ہے۔
تیسرے محاذ کیقیاس آرائیاں
گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد کی وجہ سے تیسرے محاذ کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، لیکن نتائج منفی رہے اور بی جے پی کے’پراکسی‘ ہی گردانے گئے۔ سابق کانگریسی غلام نبی آزاد کی’ ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی ‘ کوئی سیٹ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
سجادغنی لون کی پیپلز کانفرنس بھی صرف ایک نشست ہی جیت سکی۔جبکہ سید محمد الطاف بخاری کی جموں و کشمیر اپنی پارٹی کوئی بھی سیٹ جیت نہ سکی۔
لوک سبھا انتخابات میں بارہمولہ سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے انجینئر رشید کی عوامی اتحاد پارٹی نے ’جماعت پینل ‘کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔ انتخابات کے دوران اس اتحاد کے بارے میں خوب چرچہ تھا۔ دونوں پارٹیوں نے دعویٰ کیا تھاکہ وہ جموں و کشمیر کی سیاست کو متاثر کر رہے ہیں۔ تاہم جموں و کشمیر کے عوام نے اس اتحاد کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
مذکورہ پارٹیوں کی شکست کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ نیشنل کانفرنس عوام الناس میں یہ بات پھیلانے میں کامیاب رہی کہ’’انجینئر رشید،بی جے پی کے آدمی ہیں اور جماعت پینل بھی کسی کے اشارے پر میدان میں اُتری ہے۔‘‘
اور شاید کہی نہ کہی پی اے سی اتحاد میں شامل پارٹیاں پھر سےوہی غلطی دہرارہے ہیں۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس اتحاد کا قیام محض نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے متبادل کشمیری عوام کی نمائندہ جماعت کا ہے۔تو وہیں یہ الزام بھی لگایا جارہا ہے کہ یہ اتحاد کشمیری ووٹ کو تقسیم کرکے بی جے پی کی جموں و کشمیر میں ’’عوامی حکمرانی‘‘ کے لئے سبیل تلاشنا ہے۔










