امت نیوز ڈیسک /
ماسکو: روس نے افغان طالبان کو ممنوعہ تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کے بعد جمعرات کو ان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا۔ سنہ 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والا روس والا پہلا ملک بن گیا۔
روسی حکومت نے یہ اعلان طالبان کی جانب سے تعینات کیے گئے نئے افغان سفیر گل حسن کو قبول کرتے ہوئے کیا۔ روسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ اسے افغانستان کے نئے سفیر گل حسن حسن کی اسناد موصول ہو گئی ہیں۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ افغان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے دو طرفہ تعاون کو فروغ ملے گا۔
طالبان رہنماؤں نے اس پیش رفت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ یہ ہمارے تعلقات کی تاریخ میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ روسی خبر رساں ایجنسی ٹاس (TASS) کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ماسکو میں افغان سفارت خانے پر طالبان کا سفید جھنڈا لہرا رہا ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کر کے کہا، ‘ہمیں یقین ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے ہمارے درمیان مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعمیری تعاون کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ماسکو میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں روس کے نائب وزیر خارجہ اینڈری روڈینکو نے گل حسن حسن سے ملاقات کی اور ان کی اسناد قبول کیں۔
واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی روس نے کابل میں اپنا سفارت خانہ کھلا رکھا اور طالبان قیادت سے رابطے میں رہا۔ روسی حکومت نے کہا کہ وہ تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کی ‘کافی گنجائش’ دیکھ رہی ہے اور توانائی، ٹرانسپورٹ، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ روس نے تعلیم، ثقافت، کھیل اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
روس کے اس قدم کو عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اب تک کسی ملک نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا تھا، حالانکہ بہت سے ممالک نے دو طرفہ رابطہ اور بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں









