امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: آٹھویں محرم الحرام کی مناسبت سے وادی بھر میں تعزیہ اور ماتمی جلوس برآمد ہوئے ہیں، جن میں شہر سرینگر کے گورو بازار سے سب سے بڑا جلوس اعزا برآمد ہوا جو کہ بعد میں ڈلگیٹ میں پرُ امن طور اختتام پذیر ہوا۔ گذشتہ چند برسوں کی طرح امسال بھی ایل جی کی جانب سے آٹھویں محرم کے اس ماتمی جلوس کو نکالنے کی اجازت دی گئی۔
جلوس میں سینکڑوں کی تعداد میں اعزاداروں نے شرکت کی اور اس دوران جلوس میں سوگواروں نے غم حسینی میں ماتم ، گریہ زاری اور سینیا کوبی کی ۔ وہیں شرکاء نے نوحہ خوانی کر کےامام حسین اور دیگر شہدائے کربلا کو یاد کیا۔اس موقع پراعزاداروں نے کہا کہ ہم امام حسین کے پیغام کو آگے لے جاتے ہیں ۔جو ہمیشہ انصاف اور مظلوموں کے لیے کھڑے رہیں۔
واضح رہے کشمیر میں آٹھ اور دس محرم الحرام کے تاریخی جلوس تعزیہ پر 1989 میں کشمیر میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی اس وقت کے سابق ریاست کے گورنر جگ موہن نے پابندی عائد کی تھی جو کہ مسلسل سال 2022 تک جاری تھی۔
آٹھویں محرم کو صرف شعیہ آبادی والے علاقوں میں ہی ذو الجناح اور ماتمی جلوس کی اجازت دی جاتی تھی۔ ایسے میں سال2023 میں تین دہائی سے زائد عرصے کے بعد 8 اور 10 محرم الحرام کے ماتمی جلوسوں پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو کہ اب چند برسوں سے دوبارہ اپنے رواریتی روٹز سے برآمد ہورہے ہیں۔
اس موقعے پر شرکاء نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے میدان کربلا میں اسلام کی بقاء کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ایسی مثال قائم کی جس نے رہتی دنیا تک حق و باطل کا معیار طے کر دیا اور کربلا ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ مظلوم کا ساتھ دیا جائے اور اگر ہم آج کے دن بھی یہ سبق حاصل نہیں کریں گے تو یہ مجالس پھر بے معنی ہیں۔
ایک عزادار نے کہا کہ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک مشن ہے جو کہ نہ صرف شعبہ برادری بلکہ سنی براداری کو کو آگے لیجانا ہوگا ۔جس کو بھی حسین علیہ السلام کے نقش راہ پر چلنا آئے گا اس کی نجات دنیا اور آخرت میں بھی طے ہے۔ اس بڑے ماتمی جلوس کے پرامن انعقاد کیلئے پولیس اور ضلع انتطامیہ سرینگر کی جانب سے سکیورٹی کے معقول انتظامات کیے گئے جبکہ ٹریفک ایڈوائزی بھی جاری کی گئی۔
اس موقعے پر بی جے پی کے سنئیر رہنما اعجاز احمد نے آٹھویں محرم کے پر امن انعقاد کے لئے ایل جی، ضلع اور پولیس انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امید ہے کہ یوم عاشورہ 10 محرم الحرام کا جلوس اسی طرح احسن طریقے سے انجام پائے گا۔ انہوں نے اس وقت نہ صرف شعبہ برداری کے لوگ عزاداروں کو پانی اور مشروبات تقسیم کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں بلکہ سنی براداری بھی اپنا بھر پور تعاون پیش کررہے ہیں جو کہ سنی شیعہ اتحاد اور آپسی بھائی چارے کی صدیوں پرانی روایت کی عکاسی کرتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں کربلا ایک ایسا دل سوز سانحہ ہے کہ رہتی دنیا تک اس کا درد ہر ایک مسلمان کے دل میں اٹھتا رہے گا۔ کربلا حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت ہے۔ واقعہ کربلا کو 14 صدی گزر گئی لیکن آج بھی یہ جرات و شجاعت اور اسلام کی سر بلندی کا بے مثال واقعہ زندہ و جاوید ہے۔ یہ وہ غم انگیز اور الم آفرین واقعہ ہے جس نے جاندار اور بے جان کو خون کے آنسو رلایا۔









