3جولائی جمعرات رات دیر گئے ایک اہم پیش رفت میں کلعدم جماعت اسلامی کے سابق اُمراء نے سوشل میڈیا پر اپنے الگ الگ بیان میںجماعت اسلامی کی حمایت یافتہ تصور کی جانے والی’’جماعت پینل‘‘اور’’ جسٹس اینڈ ڈیوپلمنٹ فرنٹ‘‘(جے ڈی ایف) سے اظہار لاتعلقی کا اعلان کردیا۔ واضح رہے جماعت زعما کا یہ بیان پیپلز الائنس فار چینج(پی اے سی) نامی اتحاد کے قیام کےدو روز بعد آیا جس میں جی ڈی ایف ، پی ڈی ایف کے علاوہ پیپلز کانفرنس شامل ہیں۔
سابق اُمراء نے کیا کہا
کلعدم جماعت اسلامی کے سابق امیر غلام محمد بٹ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ پابندی کے بعدجماعت اسلامی کے ذمہ داران نے حکومت سے بات چیت کیلئے ایک پینل بنایا تھا لیکن وہ ناکام ہو چکا ہے اور اب اس پینل کا کوئی وجود باقی نہیں ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ’’حکومت نے جماعت اسلامی پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس وقت ہماری سرگرمیاںمعطل ہیں ۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہم پابندی کے خلاف عدالت میں گئے تھے لیکن فیصلہ ہمارے خلاف آیا، اب بھی ہمارے پاس ایک راستہ ہے اور وہ سپریم کورٹ جانے کا ہے ، میرا خیال ہے کہ ہمیں سپریم کورٹ میں جانا چاہے اور مجھے اُمید ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا۔
غلام محمد بٹ نے مزید کہا کہ’’ چونکہ حکومت سے بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے لہذا اب اگر وہ پینل کوئی سرگرمی کرتا ہے وہ غلط اور غیر قانونی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ اس پینل نے اپنا ایک دستور بھی بنایا ہے جو جماعت اسلامی کے دستور کے بالکل منافی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جو 85 سالہ کارکردگی ہے ، اس پینل کی سرگرمی اس کے یکسر منافی ہے ۔ غلام محمد بٹ نے کہا کہ ہمارا اس پینل سے کوئی لینا دینا نہیںہے اور نہ ہی وہ ہمیں قبول ہے۔انہوںنے کہا کہ مجھے اس پینل کے لوگوں پر افسوس ہوتا ہے ، وہ جب میرے پاس آتے ہیں ، میں انکا اچھی طرح خیر مقدم اور انکے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہوں کیونکہ ہمارے پیغمبر ﷺ نے ہمیں یہی سکھایا ہے البتہ وہ میرے ساتھ تصاویر بناتے ہیں اور بعد میں ان تصاویر کا غلط استعمال کرتے ہیں اور یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ہمیں بٹ صاحب کی تائید حاصل ہے ۔وہ غلط بیانی کرتے ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔انہوںنے کہا کہ’’ مجھے پوری امید ہے کہ یہ لوگ اپنے طرز عمل پر غور کریں گے ۔‘‘
دریں اثنا ءکلعدم جماعت اسلامی کے ایک اور سابق امیر محمدعبداللہ وانی نے بھی اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ حکومت نے ہم پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کی وجہ سے ہم سخت مشکلات کا شکار ہیں ، ہم کوئی سرگرمی نہیں کرسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ’’ میں حیران ہوں کہ ہم پر پابندی ہے لیکن کچھ لوگ تنظیم کا نام استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں جماعت کی پشت پناہی حاصل ہے، یہ سراسر زیادتی ہے۔ یہ لوگ غلط فہمی پیدا کررہے ہیں جو نہایت افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔‘‘
محمد عبداللہ وانی نے کہا کہ’’ جماعت اسلامی کسی تنظیم کی پشت پناہی نہیں کر رہی ، ہم پرامن لوگ ہیں اور فلاحی کام پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘ انہوںنے مزیدکہا کہ’’جماعت نے بات چیت کیلئے ایک پینل بنایا تھا ، لیکن بدقسمتی سے وہ ناکام ہوا ہے۔ اس پینل کا اب کوئی کردار اور وجود نہیں ہے، وہ پینل اب ختم ہو چکا ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ہم قانون کا احترام کرتے ہیں اور قانون کی خلاف ورزی کو جرم سمجھتے ہیں۔
اسی طرح کا بیان سابق امیر شیخ غلام حسن اور سابق نائب امیرنذیر احمد رعنا کی جانب سے بھی دیا گیاہے جس میں انہوں نے جماعت پینل یا جے ڈی ایف سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
جماعت پر پابندی
28 فروری 2019 کومرکزی وزارتِ داخلہ نے جماعتِ اسلامی جموں و کشمیر کو پانچ سال کے لیے غیر قانونی تنظیم قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کی۔ یہ اقدام وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد کیا گیا، جس میں جماعت پر ’’دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط، علیحدگی پسند سرگرمیوں کی حمایت اور بھارت کی سالمیت کے لیے خطرہ ‘‘ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔
واضح رہے حکومت ہند کی جانب سے یہ فیصلہ 14 فروری 2019 کو پلوامہ حملے کے بعد لیا گیا، جس میں 42 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ حکومت نے جماعتِ اسلامی کو دہشت گرد تنظیموں سے روابط اور علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
27 فروری 2024 کو حکومت ہندنے جماعتِ اسلامی پر عائد پابندی کی مدت مزید پانچ سال کے لیے بڑھا دی۔ مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا کہ جماعتِ اسلامی جموں و کشمیر ’’ملیٹنسی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں‘‘میں ملوث ہے، جو بھارت کی سالمیت اور خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’کوئی بھی جو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔‘‘
جماعت پینل کا قیام
جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر حکومت کی جانب سے عائد پابندی کے بعد، تنظیم نے اپنی سرگرمیاں معطل کر دی تھیں۔ تاہم، کچھ افراد نے جماعت کے نام پر ایک’’ پینل‘‘ تشکیل دیا، جس کا مقصد انتخابی عمل میں حصہ لینا تھا۔ یہ پینل بظاہر جماعت اسلامی حمایت یافتہ تھا، اور اس سے وابستہ افراد نے جماعت کے نام پر امیدواروں کوچناوی میدان میں بھی اتارا۔
البتہ حالیہ ایام میںجماعت پینل سے وابستہ افراد نے جسٹس اینڈ ڈیوپلمنٹ فرنٹ(جے ڈی ایف)نام سے ایک نئی سیاسی تنظیم تشکیل دی تھی۔
جانکار ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ جماعت پینل کے قیام میں جماعت شوریٰ کا سپورٹ حاصل رہا ہےاور اس کے قیام کا مقصد صرف ’جماعت سےپابندی اٹھانے کے لیے کوشش‘ والے مسئلے تک ہی محیط تھا۔لیکن پینل سے وابستہ افراد نے مندیٹ سے ہٹ کر پینل کو ہی جماعت بنادیا اور پینل سے وابستہ افراد‘ جماعت کے ذمہ داران بن گئے جو جماعت زعماء کو قابل قبول نہیں تھا۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جماعت سے پابندی اٹھانے کے مسئلے پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی، اور نا ہی پینل سے وابستہ افراد اب اس میں بظاہر کوئی دلچسپی رکھتے ہیں۔شاید اسی وجہ سے جماعت زعماء نے ’جماعت پینل‘ کو تحلیل کردیا۔
جے ڈی ایف کا مستقبل
جے ڈی ایف ‘جماعتِ اسلامی کے مدغم شدہ انتخابی اور نظریاتی ڈھانچے کو سیاسی پلیٹ فارم پر استعمال کرتی رہےگی جس کا عندیہ اس سے وابستہ افراد نے میڈیا کے سامنے پیش کردیا ہے ۔البتہ جماعت زعماء کی جانب سے اظہار لاتعلقی کے بعد اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان ضرور لگ گیا ہے۔یہ تو آنے والا وقت ہی بتادے گا کہ جے ڈی ایف جماعت زعماء کی جانب سے لاتعلقی کے بیانیہ سے کس حد تک خود کو بچانے میں کامیاب ہوپائے گی۔ البتہ جے ڈی ایف سے وابستہ ایک ذمہ دار شمیم احمد ٹھوکر کی میڈیا سے بات چیت میں جماعت امرا کے ’’دماغی سنتولن خراب‘‘ والے بیان نے جے ڈی ایف کے لیے مشکلات کو مزیدبڑا دیا ہے۔











