تھنہ منڈی:
جموں و کشمیر کے معروف سماجی کارکن اظہر مجید نے ایک جراتمندانہ اور ولولہ انگیز بیان میں حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت (Statehood) کو فوری طور پر بحال کیا جائے، کیونکہ موجودہ وقت میں خطے کے عوام شدید پریشانیوں اور محرومیوں کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے جب بھی مسائل کے حل کے لیے approached کیے جاتے ہیں، تو ان کا صرف ایک جواب ہوتا ہے:
"ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں، کیونکہ ہمارے پاس ریاستی حیثیت نہیں ہے۔”
اظہر مجید کا کہنا تھا کہ آج اگر جموں و کشمیر کے کسی بھی گاؤں یا قصبے میں عوام کو سڑکوں کی عدم دستیابی، بجلی کی شدید قلت، پینے کے پانی کی کمی، صحت سہولیات کی ناکامی، یا تعلیمی اداروں کی خستہ حالی جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہو، تو عوام بے بسی کے عالم میں صرف در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ نہ مقامی نمائندوں کے پاس فنڈز ہیں، نہ ان کے پاس کوئی قانونی اختیار — اور اس کی واحد بڑی وجہ یہ ہے کہ جموں و کشمیر کو ریاست سے یونین ٹیریٹری میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
یہ اہم بیان تھنہ منڈی حلقہ کے ایم ایل اے مظفر اقبال خان کے ساتھ ایک نجی ملاقات کے دوران سامنے آیا، جہاں اظہر مجید نے نہ صرف مسائل کو اجاگر کیا بلکہ ایک واضح احتجاجی لائحہ عمل بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ:
"ہم نے پہلے ہی حکومت ہند کو بار بار آواز دی، ہم نے ایم ایل اے مظفر اقبال خان کے ساتھ مل کر سگنیچر کیمپین، خطوط، قراردادیں سب کچھ حکومت کو بھیجا، لیکن افسوس کہ ہماری آواز کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔”
اظہر مجید نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں، طلباء، سیاسی و سماجی کارکنان، اور ہر محب وطن شہری سے اپیل کی کہ اب خاموش بیٹھنے کا وقت نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ:
"اب ہمارے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے، اور وہ ہے پُرامن مگر طاقتور عوامی تحریک۔ ہمیں سڑکوں پر نکلنا ہوگا، ہمیں پاؤں کے بل چل کر اپنے حق کے لیے مارچ کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے حق کی لڑائی لڑنی ہوگی — کیونکہ ریاستی حیثیت صرف انتظامی ڈھانچہ نہیں بلکہ یہ ہماری پہچان ہے، ہمارا اختیار ہے، ہمارا آئینی و جمہوری حق ہے۔”
اظہر مجید کا کہنا تھا کہ اگر ریاستی حیثیت بحال نہ کی گئی تو جموں و کشمیر کے عوام ہمیشہ کے لیے بے اختیار، پسماندہ، اور مرکز پر منحصر بن کر رہ جائیں گے۔ ان کے مطابق، آج وقت آ گیا ہے کہ جموں و کشمیر کی نئی نسل آگے بڑھے، اور آواز بلند کرے۔ انہوں نے کہا کہ:
"ہم کسی سے بھیک نہیں مانگ رہے، ہم اپنا آئینی حق مانگ رہے ہیں۔ اگر دہلی میں بیٹھے لوگ ہماری آواز نہیں سننا چاہتے، تو ہم ان کے دروازے ہلانے پر مجبور ہوں گے۔”
اظہر مجید کا یہ بیان نہ صرف سماجی حلقوں میں تیزی سے گونج رہا ہے بلکہ سیاسی میدان میں بھی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر اس مطالبے کو عوامی حمایت حاصل ہو گئی تو یہ جموں و کشمیر میں ایک نئی عوامی تحریک کا آغاز بن سکتا ہے — ایسی تحریک جو مکمل طور پر پُرامن، آئینی، اور جمہوری بنیادوں پر استوار ہو۔











