امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 6 اگست : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 42 سیاسی جماعتوں کے صدور، بشمول کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے کو خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مرکزی حکومت پر زور دیں کہ وہ موجودہ پارلیمانی اجلاس میں جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے قانون سازی کرے۔
حکام کے مطابق، نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاستی درجہ کی بحالی کو کسی رعایت کے طور پر نہیں بلکہ ایک "ناگزیر اصلاحی قدم” کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ محض علاقائی نہیں بلکہ ملک کی آئینی اقدار اور جمہوری ڈھانچے کی روح سے جڑا ہوا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ کسی ریاست کو یونین ٹیریٹری (مرکزی زیر انتظام علاقہ) میں تبدیل کرنا ایک "خطرناک اور افسوسناک” مثال قائم کرتا ہے، اور یہ ایک "آئینی سرخ لکیر” ہے جسے کبھی عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے 29 جولائی کو تین صفحات پر مشتمل خط میں لکھا:
"2019 میں جموں و کشمیر کو ریاست سے یونین ٹیریٹری میں تبدیل کرنا اور اس کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں طویل تاخیر، بھارتی سیاست کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈالتی ہے۔”
پیر کے روز عمر عبداللہ نے کہا کہ انہیں جاری پارلیمانی اجلاس کے دوران یونین ٹیریٹری کے لیے کچھ مثبت ہونے کی امید ہے، تاہم منگل کے دن کے حوالے سے انہوں نے زیادہ امید ظاہر نہیں کی۔ ان کے یہ ریمارکس 5 اگست، یعنی دفعہ 370 کی منسوخی کی چھٹی برسی سے ایک روز قبل سامنے آئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی دہلی کے کسی بھی حکومتی فرد سے کوئی ملاقات یا بات چیت نہیں ہوئی، بلکہ ان کا یہ بیان صرف "دل کی آواز” پر مبنی تھا۔
<










