امت نیوز ڈیسک //
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے چوروان، گوریز میں منعقدہ قبائلی میلے کے دوران کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ دیے جانے کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، جس کی سماعت کل ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا، اور کہا کہ ریاستی درجہ خطے میں جمہوری عمل کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت سرحدی سیاحت کو فروغ دینے کی کوششیں کر رہی ہے تاکہ مقامی نوجوانوں کو معاشی طور پر سہارا دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے میلوں کا انعقاد سرحدی علاقوں کی ترقی کے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔
انہوں نے سرحدی علاقوں میں امن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن ہی طویل مدتی ترقی کی بنیاد ہے۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے دوربین کے ذریعے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کا مشاہدہ بھی کیا اور سرحدوں پر پرامن ماحول کی ضرورت کو دہرایا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت چوروان جیسے دور دراز دیہات میں موبائل نیٹ ورک کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
تقریب کے دوران ایک ثقافتی پروگرام بھی پیش کیا گیا اور خود مددگار گروپوں (سیلف ہیلپ گروپس) کو اسناد تقسیم کی گئیں۔
وزیر اعلیٰ کے ہمراہ مشیر ناصر اسلم وانی، تنویر صادق، ایم ایل اے گوریز نذیر احمد گوریزی، سیکریٹری قبائلی امور، اور سول انتظامیہ کے افسران بھی موجود تھے۔










