امت نیوز ڈیسک //
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو دیر گئے ایک بیان میں کہا کہ یوکرین کے رہنما ولادیمیر زیلنسکی روس کے ساتھ جنگ کو "تقریباً فوری طو پر” ختم کرنے یا جاری رکھنے کا انتخاب کر سکتے ہیں، لیکن روس کے زیر قبضہ کریمیا کو واپس لینے یا یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کا معاملہ مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ‘ٹروتھ’ پر پوسٹ کیا کہ "یوکرین کے صدر زیلنسکی اگر چاہیں تو روس کے ساتھ جنگ تقریباً فوری طور پر ختم کر سکتے ہیں، یا وہ اسے جاری رکھ سکتے ہیں۔” "کوئی اوبامہ کی گرفت نہیں کر رہا ہے جنہوں نے (12 سال پہلے ایک گولی چلائے بغیر!) کریمیا کو دے دیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ”یوکرین کی نیٹو میں شمولیت نہیں ہوگی۔ کچھ چیزیں کبھی نہیں بدلتیں!!!”
ٹرمپ نے یہ بیان وائٹ ہاؤس میں یوکرین کے صدر اور یورپی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات سے قبل دیا ہے۔ زیلنسکی پیر کو ایک بار پھر اوول آفس واپس آئیں گے، اس سے قبل ہوئی ملاقات میں ٹرمپ کے ساتھ کشیدگی نے ان کی بات چیت کو مختصر کر دیا اور مستقبل میں امریکی حمایت پر سوالیہ نشان اٹھنے شروع ہو گئے تھے۔
اے ایف پی ایجنسی کے مطابق، یورپی حکومت کے ایک ذریعے نے بتایا کہ توقع ہے کہ پہلے زیلنسکی اور ٹرمپ کے بیچ ملاقات ہو، اس کے بعد یورپی رہنما بشمول برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے اور یورپی یونین کے سربراہ ارسولا وان ڈیر لیین بھی اس میٹنگ میں شامل ہوں۔
ٹرمپ نے ٹروتھ پر ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ "کل وائٹ ہاؤس میں بڑا دن ہے۔ ایک وقت میں اتنے زیادہ یورپی رہنما کبھی نہیں اکٹھے ہوئے۔ ان کی میزبانی کرنا میرے لیے بڑا اعزاز ہے!!!”
سابقہ میٹنگ کا تلخ تجربہ
اس سے قبل رواں سال 28 فروری کی میٹنگ میں ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے لائیو ٹیلی ویژن پر زیلنسکی کو برا بھلا کہا۔ ان پر الزام لگایا کہ وہ تین سال قبل روس کے حملے کے بعد سے فراہم کی جانے والی امریکی امداد کے لیے نا شکری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ کشیدہ میٹنگ نے کیف-واشنگٹن کے تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی، جو سابق صدر جس نے بائیڈن کے دور کی گرمجوشی کے بعد بدلی ہوئی صورت حال کی نشاندہی کی اور یہ خدشہ پیدا ہوا کہ ٹرمپ یوکرین کو امریکی عسکری تعاون کو منقطع کر دیں گے۔
میڈیا نمائندوں کے ساتھ ایک طویل سوال و جواب کے سیشن کے اختتام پر پورا منظر تیزی سے تبدیل ہو گیا۔ نائب امریکی صدر وینس نے زیلنسکی پر الزام لگایا کہ وہ "گستاخ” ہیں اور ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کے لیے ناشکری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جب یوکرین کے رہنما نے اس شکوک کا اظہار کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی سابقہ خلاف ورزیوں کے پیش نظر ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
زیلنسکی نے اس میٹنگ میں اپنے موقف کا کھل کر دفاع کیا، ٹرمپ یوکرائنی رہنما کے اس مشورے سے ناراض ہوئے کہ جب کہ امریکہ اس وقت لڑائی سے دور ہے اور اگر وہ پوتن کو مطمئن کرتا ہے تو "آپ اسے مستقبل میں محسوس کریں گے”۔
اس پر ٹرمپ نے سختی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ "آپ ہمیں یہ مت بتائیں کہ ہم کیا محسوس کرنے جا رہے ہیں۔ ہم ایک مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں مت بتائیں کہ ہم کیا محسوس کرنے جا رہے ہیں۔” ٹرمپ نے مزید کہا کہ "آپ اچھی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ابھی آپ کے پاس کارڈ نہیں ہیں۔” جب کشیدگی مزید بڑھی تو وینس نے زیلنسکی سے مطالبہ کیا کہ وہ کیف کو فوجی امداد میں فراہم کیے گئے اربوں ڈالر کے لیے امریکہ کا شکریہ ادا کریں۔
"کیا آپ نے ایک بار ‘شکریہ’ کہا ہے؟” انہوں نے پوچھا. جب زیلنسکی نے جواب دینے کی کوشش کی تو ٹرمپ نے انہیں خاموش کر دیا۔ "نہیں، نہیں، آپ نے بہت باتیں کر لی ہیں۔ آپ کا ملک بڑی مصیبت میں ہے۔” ٹرمپ نے زیلنسکی کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
اس میٹنگ کے بعد زیلنسکی نے معدنی حقوق کے معاہدے پر دستخط کیے بغیر ہی وائٹ ہاؤس چھوڑ دیا جو ان کے اس دورے کی ایک اہم وجہ تھی۔ آنے والے دنوں میں ریاستہائے متحدہ نے عارضی طور پر یوکرین کے ساتھ فوجی امداد اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو منقطع کر دیا، جس سے یورپی ممالک خدشات بڑھ گئے کہ ٹرمپ اس تنازع کو ختم کرنے کی کوشش میں پوتن کا ساتھ دیں گے۔
پھر بدلے حالات
تاہم اس کے بعد سے اب تک کافی کچھ بدل چکا ہے۔ ٹرمپ جو ماضی میں پوتن کے لیے اپنی تعریف کا اظہار کر چکے ہیں، روسی رہنما کے ساتھ صبر کھونے لگے، کیونکہ ماسکو نے اپنا فوجی حملہ جاری رکھا یہاں تک کہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف جنگ بندی کے حصول کے لیے زبردست سفارت کاری میں مصروف رہے۔
اپریل میں، ٹرمپ نے زیلنسکی سے ویٹیکن میں ملاقات کی اور پوتن پر سنگین الزامات عائد کیے۔ کچھ دن بعد یوکرین اور امریکہ کے بیچ بالآخر معدنیات کے معاہدہ بھی طے پا گیا، جسے ٹرمپ نے پہلے امریکی امداد کے لیے معاوضے قرار دیا تھا۔
دونوں رہنماؤں نے جون میں ہیگ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقعے پر بھی آمنے سامنے ملاقات کی تھی۔ جمعہ کے روز ٹرمپ نے الاسکا میں پوتن سے ملاقات کی تاکہ یوکرین تنازعے پر تبادلہ خیال کیا جا سکے اور وعدہ کیا کہ وہ کسی معاہدے پر متفق ہونے سے پہلے یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں سے بھی بات کریں گے۔
پوتن سے ملاقات کے کچھ دیر بعد ٹرمپ نے زیلنسکی کو اوول آفس میں مدعو کیا۔ وہیں سابقہ کشیدگی سے سبق لیتے ہوئے زیلنسکی نے فوراً اس دعوت کے لیے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔









