امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 22 اگست: جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو پارلیمنٹ کے جاری اجلاس سے جڑی عوامی توقعات پوری نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے ارادوں پر سوال اٹھایا اور الزام لگایا کہ ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2025 کو حقیقی معنوں میں بدعنوانی کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے محض اپوزیشن رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو میں عمر عبداللہ نے کہا:”لوگوں کو اس پارلیمنٹ سیشن سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں۔ ہمیں لگا تھا کہ ہم سے کیے گئے وعدے پورے ہوں گے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اب ہم اپنی جدوجہد یہاں سے شروع کریں گے۔”
متنازع بل پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا:”اب تک جتنے بھی کیس درج ہوئے ہیں ان میں صرف اپوزیشن رہنماؤں کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اگر یہ قدم واقعی بدعنوانی ختم کرنے کے لیے ہے تو پھر 2014 سے اب تک حکومت کے اقدامات کا کیا اثر رہا؟”
عمر عبداللہ کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے ہیں جب پورے ملک میں یہ قیاس آرائیاں زوروں پر تھیں کہ حکومت پارلیمنٹ کے موجودہ مانسون سیشن میں جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا اعلان کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے خود بھی پہلے اس امکان پر امید ظاہر کی تھی، مگر جمعہ کے روز ان کے بیانات میں واضح مایوسی جھلکی جنہیں انہوں نے "ادھورے وعدے” قرار دیا۔
ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2025 نے ملک گیر سطح پر سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ حکومت اس قانون کو اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جب کہ حکومتی حلقے اسے احتساب مضبوط کرنے کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔
(کے این ٹی)











