امت نیوز ڈیسک //
بانڈی پورہ، 30 اگست : شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع کے سرحدی علاقے گریز کے دورافتادہ تلیل میں ایک خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس میں تقریباً 20 ڈھانچے جل کر خاکستر ہوگئے جبکہ کم از کم 25 افراد زخمی ہوگئے، جن میں مقامی ایس ایچ او بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق آگ کو بعد میں مشترکہ آپریشن کے ذریعے قابو میں کرلیا گیا۔
یہ واقعہ کشپتھ تلیل نامی سرحدی گاؤں میں پیش آیا، جہاں سڑک رابطے اور ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات نہایت کمزور ہیں، جس کی وجہ سے بروقت اطلاع رسانی اور ابتدائی کارروائی میں تاخیر ہوئی۔ فائرسٹیشن تلیل نے سب سے پہلے کارروائی کرتے ہوئے پانی کے ٹینکر جائے موقع پر پہنچائے اور قریبی چشمے سے پانی لا کر آگ بجھانے کی کوشش کی۔ آگ کے پھیلنے پر فائر اسٹیشن داور سے بھی مزید عملہ بھیجا گیا، جس کی نگرانی ضلعی انتظامیہ بانڈی پورہ نے کی۔
فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے ایک سینئر افسر نے بتایا: "تقریباً 20 ڈھانچے آگ کی لپیٹ میں آئے۔ ہماری ٹیموں نے تلیل اور داور دونوں جگہوں سے انتھک محنت کی اور آخرکار آگ پر قابو پالیا۔”
بی ایم او گریز ڈاکٹر فیروز اقبال نے تصدیق کی کہ 25 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں ایس ایچ او میر کاظم بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دو افراد بشمول ایس ایچ او کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال داور منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم ہے۔ "ایس ایچ او کو دم گھٹنے کی شکایت تھی لیکن اب وہ صحتیاب ہورہے ہیں۔”
حکام نے کہا کہ علاقے کی دوری اور کمزور رابطہ نظام نے آگ بجھانے اور ریسکیو آپریشن میں بڑی رکاوٹیں ڈالیں، تاہم بروقت اضافی کمک پہنچنے سے آگ دوسرے مکانات تک پھیلنے سے روک دی گئی۔
مقامی لوگوں کے مطابق فوج نے بھی آگ بجھانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ فوج کی میڈیکل ٹیم نے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی۔
آگ لگنے کی اصل وجہ ابھی معلوم نہیں ہوسکی ہے، حکام جانی و مالی نقصان کا تخمینہ لگانے اور مزید زخمیوں کی تفصیل کی تصدیق میں مصروف ہیں۔ (ایجنسیز)











