امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، ۴ ستمبر : ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشل گرگ نے جمعرات کو کہا کہ بڈگام کے متاثرہ علاقوں سے تقریباً ۹۰۰۰ افراد کو جہلم کے کنارے پر شگاف پڑنے کے بعد احتیاطی طور پر منتقل کیا گیا ہے۔
انہوں نے لوگوں سے گھبرانے کی ضرورت نہ ہونے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا کہ صورتحال قابو میں ہے کیونکہ پانی کی سطح میں کمی آرہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’بڈگام کے کچھ علاقے زیرآب آگئے تھے لیکن احتیاطی اقدام کے طور پر ہم نے پچھلی رات ہی انخلاء کرایا۔ قریب ۹۰۰۰ لوگوں کو محفوظ طریقے سے منتقل کیا گیا تاکہ کسی جان کا نقصان نہ ہو۔‘‘ گرگ نے نامہ نگاروں کو بتایا، جیسا کہ خبر رساں ایجنسی—کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) نے رپورٹ کیا۔
ڈویژنل کمشنر نے کہا کہ گزشتہ رات سے موسم بہتر ہوگیا ہے اور اہم مقامات بشمول سنگم اور رام منشی باغ میں پانی کی سطح بتدریج کم ہورہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرینگر کے کچھ حصوں، خاص طور پر نشیبی علاقوں جیسے لچھن میں بھی احتیاطی انخلاء جاری ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف اور دیگر ریسکیو ٹیمیں میدان میں ہیں۔ ہم ذاتی طور پر صورتحال کی نگرانی کررہے ہیں تاکہ بہتر ہم آہنگی ہو۔ عوام کی طرف سے تعاون قابلِ تعریف ہے اور مسلسل ایڈوائزری جاری کی جارہی ہے تاکہ کسی کو کوئی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔‘‘
گرگ نے مزید کہا کہ محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول مسلسل جہلم کے کناروں کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے اور کسی بھی کمزور مقام کو دور کرنے کے لئے تیار ہے۔ ’’جہاں بھی ضرورت ہے، ٹیمیں پانی کے دباؤ کو کم کرنے کے اقدامات کررہی ہیں،‘‘ انہوں نے بتایا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ وادی بھر میں لازمی سامان بشمول خوراک، بجلی اور رابطہ متاثر نہیں ہوا ہے۔ گرگ نے کہا، ’’گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میری لوگوں سے گزارش ہے کہ پرسکون رہیں، ایڈوائزری پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ضلعی انتظامیہ کے پہلے سے جاری نمبروں پر رابطہ کریں۔‘‘ —(کے این او)










