امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 4 ستمبر: ہماچل پردیش کے ضلع کلو میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم سات کشمیری مزدوروں کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکام نے جمعرات کو بتایا کہ متاثرین کا تعلق کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے دور افتادہ علاقے تلایل سے ہے اور وہ ہماچل میں محنت مزدوری کر رہے تھے جب یہ سانحہ پیش آیا۔
اطلاعات کے مطابق بھوسکھلن کے نتیجے میں دو مکانات زمین بوس ہو گئے جن میں تقریباً 12 سے 13 افراد دب گئے۔ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک تین زخمیوں کو زندہ نکالا گیا ہے جبکہ ایک لاش برآمد ہوئی ہے۔ باقی پھنسے ہوئے افراد کو تلاش کرنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
جموں و کشمیر کے چیف منسٹر آفس نے ایک بیان میں کلو سانحے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اس دوران سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) گریز نے تصدیق کی ہے کہ تلایل، بانڈی پورہ کے کم از کم چار افراد اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں جن کی شناخت اس طرح کی گئی ہے:
مہرج الدین لون ولد صابر لون
طارق احمد شیخ ولد بشیر احمد شیخ
حسین لون ولد سلطان لون (فی الحال گچی محلہ، آکھل کنگن میں مقیم)
رشید شیخ ولد جمال شیخ (فی الحال کنگن میں مقیم)
باقی متاثرین کے بارے میں تفصیلات آنا باقی ہیں کیونکہ ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے۔










