امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو خط لکھ کر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ اور سینئر علیحدگی پسند لیڈر یاسین ملک کے خلاف جاری عدالتی کارروائی پر رحم دلانہ اور سنجیدہ نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ یاسین ملک کو اس وقت تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور این آئی اے ان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کر رہی ہے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر محبوبہ مفتی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ’’یاسین ملک نے 1994 میں ہتھیار ترک کرکے پر امن سیاسی جد و جہد کا راستہ اپنایا، کئی دہائیوں تک مذاکرات اور بیک چینل روابط میں شامل رہے، اور حکومت ہند کی ایجنسیز کی مرضی سے سیاسی عمل میں شریک ہوئے۔‘‘
محبوبہ کے مطابق یاسین ملک 25 برس تک مختلف حکومتوں میں ’سیاسی پل‘ سمجھے جاتے رہے، مگر 2019 کے بعد انہیں دہشت گرد قرار دے کر دوبارہ پرانے مقدمات کھولے گئے اور اب ان پر سزائے موت کے خطرہ منڈلا رہا ہے۔ محبوبہ نے اپنے خط میں زور دیا کہ ’’ملک کی پرامن وابستگی کو دیکھتے ہوئے انہیں انصاف اور مصالحت کا موقع دیا جانا چاہیے۔‘‘
دوسری جانب، پیپلز کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر سجاد لون نے محبوبہ کی شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’محبوبہ جی کس کے کہنے پر یہ خط لکھ رہی ہیں؟‘‘ اور الزام عائد کیا کہ ان کے اپنے خاندان کے افراد نے ماضی میں یاسین ملک کی شناخت مقدمات میں کی تھی۔
سجاد لون نے کہا: ’’اقتدار میں رہتے وقت یہ جماعتیں گرفتاریاں کراتی ہیں اور اقتدار سے باہر آنے کے بعد ہمدردی جتاتی ہیں۔‘‘ انہوں نے محبوبہ اور فاروق عبداللہ کے خاندانوں کو ’’عوام سے معافی مانگنے‘‘ کا مشورہ دیا۔ سجاد لون نے 2009میں علیحدگی پسند نظریہ ترک کرکے مین اسٹریم سیاسی میدان میں قدم رکھا تھا۔
یاسین ملک کو 2019 میں گرفتار کیا گیا تھا اور دہلی میں قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی عدالت نے انہیں غیر ملکی فنڈنگ اور عسکری روابط کے چارجز میں عمر قید کی سزا سنائی۔ اب این آئی اے اس سزا کو پھانسی میں بدلنے کی اپیل کر رہی ہے۔










