امت نیوز ڈیسک //
بی سی سی آئی (بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا) کے سیکرٹری دیوجیت سائقیا نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے چیئرمین محسن نقوی کے اُس عمل کی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے ایشیا کپ کی ٹرافی ڈائس سے اپنے ساتھ لے لی، جب کہ بھارت نے ان سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا تھا۔ مسٹر سائقیا نے یہ بھی تصدیق کی کہ بی سی سی آئی اس مسئلے کو نومبر میں ہونے والی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے بورڈ اجلاس میں اٹھائے گا۔
انہوں نے کہا:”ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ٹرافی اے سی سی کے چیئرمین (نقوی) سے نہیں لیں گے، جو کہ پاکستان کے بڑے رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ صاحب ٹرافی اپنے ساتھ لے جائیں گے۔” یہ بات مسٹر سائقیا نے اُس وقت کہی جب سوریا کمار یادو کی قیادت میں بھارتی ٹیم نے بغیر ٹرافی کے پوڈیم پر جشن منایا۔
سوریا کمار یادو: میچ فیس مسلح افواج اور پہلگام متاثرین کو عطیہ کروں گا
سائقیا نے کہا:”ہم میڈلز کے ساتھ آئے تھے، لیکن یہ بہت ہی افسوسناک اور غیر اسپورٹس مین رویہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ٹرافی اور میڈلز جلد از جلد بھارت کو واپس کیے جائیں گے۔”
بی سی سی آئی اور مسٹر نقوی کے درمیان اختلاف کی وجہ سے تقریبِ تقسیمِ انعامات تقریباً 90 منٹ تاخیر کا شکار ہوئی اور آخرکار پریزنٹر ٹرافی جیتنے والے کپتان کو دینے کے بجائے اپنے ساتھ لے گیا۔
انہوں نے مزید کہا:”نومبر کے پہلے ہفتے دبئی میں ہونے والی آئی سی سی کانفرنس میں ہم اس عمل کے خلاف بہت سخت اور باضابطہ احتجاج درج کرائیں گے۔”
مسٹر سائقیا نے بھارت کی ایشیا کپ جیت پر کھلاڑیوں اور معاون عملے سمیت پوری ٹیم کے لیے 21 کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کیا اور اس کامیابی کو پہلگام دہشت گرد حملوں کے بعد مئی میں ہونے والے "آپریشن سندور” کے ساتھ تشبیہ دی۔
"ہم اپنی ٹیم پر فخر کرتے ہیں۔ انہوں نے کرکٹ کے میدان میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔ ہماری مسلح افواج نے سرحدی علاقوں میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا، اور اب وہی بات دبئی میں دہرائی گئی ہے۔ یہ بھارتی کرکٹ کے لیے ایک شاندار اور یادگار لمحہ ہے۔”










