امت نیوز ڈیسک //
گاندربل، 29 ستمبر : وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دینا عوام کا بنیادی حق ہے اور نئی دہلی کو چاہیے کہ عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لے۔ گاندربل میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عبداللہ نے خبردار کیا کہ حالات لداخ جیسی بدامنی کی طرف نہ بڑھیں۔
انہوں نے کہا: “یہاں کے حالات پلک جھپکتے بدل سکتے ہیں، لیکن ہم نہیں چاہتے کہ یہ لداخ جیسے مرحلے تک پہنچیں۔ ریاستی درجہ ہمارا حق ہے۔ لداخ کے عوام نے یونین ٹریٹری کا درجہ مانگا، لیکن اس سے ان کی زندگیوں میں بہتری نہیں آئی۔ ہم نہیں چاہتے کہ یہاں بھی معصوم لوگ متاثر ہوں۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی پارٹی اس مطالبے کو پرامن طور پر آگے بڑھاتی رہے گی۔
وزیر اعلیٰ نے یاد دلایا کہ حکومتِ ہند پہلے ہی ریاستی درجہ کی بحالی کا وعدہ کر چکی ہے اور یہ یقین دہانی سپریم کورٹ میں بھی کرائی گئی تھی۔ “ڈی لیمیٹیشن اور انتخابات کا عمل مکمل ہو چکا ہے، اب اگلا قدم ریاستی درجہ کی بحالی ہے۔ عوام نے اب تک غیر معمولی صبر کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ یہ وعدہ پورا کیا جائے۔”
لداخ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے، خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز ٹرسٹ کے مطابق، کہا کہ ان کی پارٹی نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ یونین ٹریٹری کا مطالبہ منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ “ہم نے ہمیشہ لداخ کے عوام سے کہا کہ جو کچھ وہ مانگ رہے ہیں وہ ان کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ افسوس کہ نئی صورتِ حال میں ان کی زندگیاں بہتر نہیں ہوئیں۔”
ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جموں و کشمیر کی سیاسی حلقوں میں یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ مرکز ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے کب عملی قدم اٹھائے گا۔ حزبِ مخالف اور سول سوسائٹی مسلسل فوری ٹائم لائن دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ طویل مرکزی حکمرانی نے جواب دہی کو کمزور کر دیا ہے اور عوام کو بے اختیار بنا دیا ہے۔
عمر عبداللہ نے اپنی گفتگو کے اختتام پر صبر و تحمل اور آئینی راستہ اپنانے کی اپیل کی۔ “ہم یہ مسئلہ پرامن طریقے سے اٹھائیں گے۔ ہمارا مطالبہ جائز اور قانونی ہے اور اسے پورا ہونا چاہیے۔” [کے این ٹی]










